Daily Mashriq


کچھ حل ان کا بھی اے میرے خدا

کچھ حل ان کا بھی اے میرے خدا

اس نوعیت کے کالم شروع کرنے کا مقصد قارئین کرام سے رابطہ مربوط بنانا اور ممکنہ طور پر ان کے مسائل کو اجاگر کرکے اپنے تئیں ایک گونہ اطمینان حاصل کرنا تھا۔ قارئین سے رابطے کا مقصد توقعات سے بڑھ کر پورا ہو رہا ہے۔ وانا‘ چترال‘ پاڑہ چنار‘ مانسہرہ غرض خیبر پختونخوا کے طول و عرض سے رابطوں کی بھرمار ہے۔ عوام کے مسائل سے قدرے آگہی پہلے سے تھی لیکن ملنے والے خطوط‘ ای میل‘ واٹس ایپ اور پیغامات کی جو تلخیص ایڈیٹوریل ڈیسک کے توسط سے مجھ تک آتی ہے اس سے میں اضمحلال کی کیفیت سے دو چار ہوگئی ہوں کہ میرے اندازے سے بڑھ کر لوگوں سے نا انصافی ہو رہی ہے اور وہ اس طرح کی مشکلات کا شکار ہیں جن کی نشاندہی میرے بس میں ہے مگر ان کو حل کرانے میں میں بے بس ہوں۔

شعبہ اسلامک تھیالوجی اسلامیہ کالج پشاور کے ڈاکٹر نثار محمد کا مراسلہ ملا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ آپ کا کالم ’’ پی ڈی اے کو خاتون خانہ کا مشورہ‘‘ پڑھا۔پی ڈی اے ہی کے حوالے سے میرے بھی چند معروضات ہیں۔ اس مسئلے کا حل بھی پی ڈی اے کے پاس ہے۔ آمدم برسر مطلب ریلی للمہ زون 3 میں ایک پلاٹ خریدا۔ پہلے مرحلے میں نقشہ بنوایا لیکن اس کی منظوری سے قبل پلاٹ کا قبضہ لینا ضروری قرار پایا۔ پچھلے سال 2016ء میں پلاٹ کا قبضہ لیا۔ امسال 2017ء میں نقشہ منظوری کے لئے پی ڈی اے آفس ریگی للمہ پہنچا تو انہوں نے یہ مژدہ سنایا کہ آپ کا قبضہ صرف ایک سال کے لئے تھا۔ وہ Expire ہوچکا ہے۔ منظوری سے قبل Possession نیا کروالو ۔قبضہ صرف ایک سال کے لئے ہوتا ہے 8080/- روپے جرمانہ ادا کریں۔ انہوں نے نقشہ منظوری سے بھی روکا کیونکہ وہ بھی صرف ایک سال کے لئے ہوتا ہے اور اگر اسی سال تعمیر مکمل نہ کی تو نقشے کی دوبارہ منظوری کے لئے مزید 8000/- روپے جمع کرانے ہوں گے۔ یہ کیا جنگل کا قانون ہے کہ جو بندہ گھر کی تعمیر کے لئے دو تین سال پہلے سے تگ و دو شروع کرتا ہے تاکہ ریٹائرمنٹ سے پہلے پہلے ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرے تو اسے جرمانہ کیاجاتا ہے لیکن گزشتہ 20سال سے جن لوگوں نے پلاٹ خریدے ہوئے ہیں اور صرف ان کے فائل فروخت ہو رہے ہیں ان لوگوں پر کوئی جرمانہ نہیں۔ چونکہ یہ پی ڈی اے کی کوتاہی ہے لہٰذا اس پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ پلاٹ کی رقم وصول کرنے کے باوجود زون فائیو میں پی ڈی اے کے پاس زمین کا قبضہ تک نہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ سارے قاعدے قوانین لوگوں کے لئے ہیں، پی ڈی اے کے لئے نہیں۔ Possession لیٹر کی Expiry اور نقشے کی منظوری کی Expiry پر بھاری جرمانہ عائد کیاجانا پی ڈی اے کے ظالمانہ قانون پر صرف آنسو ہی بہائے جاسکتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ہم جیسے لوگ پنشن کے انتظار میں بیٹھے رہیں گے اور ’’ کتبہ‘‘ نامی مضمون کے مصداق گھر کے لئے بننے والا کتبہ معمولی رد و بدل کے بعد شاید ہمارے آخری آرام گاہ پر نصب ہو گا۔ پی ڈی اے سے اس نا انصافی کا جواب چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور چیئر مین نیب ہی طلب کرسکتے ہیں کہ بیس سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا لوگ انتظار میں گھٹ گھٹ کر مرگئے مگر بعض کو پلاٹ کا قبضہ نہ ملا اور بعض ناکافی شہری سہولتوں کے انتظار میں کڑھ رہے ہیں لے دے کے زون تھری ہی ہے جہاں تعمیراتی کام بامر مجبوری شروع ہوسکتا ہے۔ پی ڈی اے پر بھی اگر قانون احتساب لاگو ہوتو کیا ہی اچھا ہوگا کہ انصاف کا بول بالا نظر آئے۔

ایس ایس فورم کی جانب سے برٹش کونسل کے پروگرام کا خیبر پختونخوا میں معاوضہ نہ ملنے پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے برٹش کونسل کو رواں مالی سال کے دوران پرائمری اساتذہ کو تربیت دینے کے خصوصی پروگرام انگریزی کی تدریس کا ہے کے لئے سترہ کروڑ روپے دئیے گئے تھے۔ ابتدائی طور پر ماسٹر ٹرینر کو تین ہزار روپیہ یومیہ جبکہ دیگر اساتذہ کو سولہ سو روپے اعزازیہ ادا کیاگیا بعد ازاں اسے کم کرکے ماسٹر ٹرینر کو تین ہزار کی بجائے ایک ہزار اور اساتذہ کیلئے سولہ سو روپے کی بجائے سو روپے یومیہ کیا گیا۔ مگر اس کمی کے باوجود ان کو نئی شرح سے معاوضے ادا نہیں کئے گئے جب احتجاج پر معاوضوں کی ادائیگی کے لئے ڈی ای اوز سے فہرستیں طلب کی گئیں تو ان کے پاس فہرست ہی موجود نہ تھی۔ یوں معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ اساتذہ کرام سے اولاً وعدہ خلافی اور معاوضے کم کرنے کے باوجود عدم ادائیگی متعلقہ حکام کے لئے ہی لمحہ فکریہ نہیں بلکہ صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کے ماتھے پر کلنک کا داغ ہے۔ سو روپے تو مقامی ٹرانسپورٹ کا خرچہ بھی نہیں غیر مقامی اساتذہ کا اضلاع سے آمد و رفت اور رہائش کے اخراجات کہاں سے پورے کریں۔ ابتداً معقول معاوضہ رکھنے کے بعد اس میں اچانک کمی نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ برٹش کونسل کے لئے بھی اچھے تاثرات کا باعث امر نہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس معاملے پر ازسر نو غور کیا جائے۔

قارئین کرام کے تھوڑے سے مسائل کو اجاگر کرنے کا ہی یہ کالم متحمل ہے موصول شدہ شکایات و مسائل اور آراء یکے بعد دیگرے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ صرف تعریفوں کے لئے اظہار تشکر اور تجاویز کا خیر مقدم۔

نوٹ: گزارش ہے کہ تحریر اور میسج غیر ضروری طورپر طویل نہ ہوں اور بغیر کسی تمہید کے لکھے جائیں۔ شکریہ

متعلقہ خبریں