Daily Mashriq


ہراسمنٹ پر خاموشی کیوں ؟

ہراسمنٹ پر خاموشی کیوں ؟

کسی بھی معاشرے کے اخلاقی معیار کا اندازہ اُس معاشرے کے مردوں کا خواتین کو دیکھنے کے انداز سے لگایا جا سکتا ہے ، کہنے کی حد تک عورت ماں، بہن، بیٹی، بیوی ہے مگر مردوں کے معاشرے میں اسے صرف ایک ’’جنس‘‘ کے طور پر ہی دیکھا اور ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ جس کی اپنی نہ کوئی سوچ ہے اور نہ حیثیت اور اہمیت، اس کے لئے قانوں سازی سے لیکر اس کے رہن سہن یہاں تک کہ اٹھنے بیٹھنے، پڑھنے لکھنے تک کے فیصلے مرد حضرات کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی کا آدھا حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور اس آدھے حصے کو معاشرے میں وہ مقام ابھی تک نہیں مل سکا جس کی وہ مستحق ہے۔ نیپولین نے جانے کیا سوچ کر کہا تھا کہ ’’تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا‘‘۔

بظاہر ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں ہر شعبہ ہائے زندگی میں خواتین نظرآتی ہیں کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے اسے ایک اچھی علامت تصور کیا جانا چاہئے لیکن دوسری طرف خواتین کے ساتھ ان کے کام کرنے کی جگہوں دفاتر، اسکول، اسپتالوں حتیٰ کہ اسمبلیوں میں بھی جہاں قانون سازی ہوتی ہے خواتین کے ساتھ کس طرح کا شرمناک رویہ رکھا جاتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں، ہر جگہ خواتین کے ساتھ استحصال اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

خواتین کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے خاتمے اور سزا کے لئے وطن عزیز میں قانون سازی کی کوششیں پرویز مشرف کے دور سے جاری تھیں لیکن قانون سازی کا مرحلہ پی پی پی کی حکومت میں مکمل ہوا۔ 2008میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی روک تھام کا قانون عورتوں کے مسائل کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا۔ 2010 میںقانون پاس ہوا جسے ایک اچھی کوشش قرار دیا جانا چاہئے۔ اس قانون کے تحت اداروں کی انتظامیہ پر اس بات کی ذمہ داری عائد کی گئی کہ وہ ادارے کے کلچر کو تبدیل کرکے اسے عورتوں کیلئے باعزت بنائے کیونکہ کام کرنے والی اکثر خواتین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جنسی خوف وہراس ہے۔ یہ قانون اس ملک کی ترقی کیلئے ہرسطح پر عورتوں کو پوری طرح شرکت کرنے کیلئے نہ صرف راستے ہموار کرتا ہے بلکہ انہیں عزت وقار کے ساتھ جینے اور اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔

خواتین کو ہراساں کرنے کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خاموشی کو ہمارے اخلاق و آداب میں بہت بلند درجہ حاصل ہے۔ بزرگوں کی بات کو خاموشی سے سنو۔ شوہر اگر کوئی تنبیہہ یا سخت بات کرے تو خاموش رہو۔ خاموشی احترام کا حصہ بھی ہے اور عقلمندی کا خاصہ بھی سمجھی جاتی ہے ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خاموشی نیم رضامندی ہے۔ مگر کیا کسی کے برے فعل اور ہراساں کئے جانے کے جواب میں خاموش رہنے کا بھی یہی مطلب ہے کہ آپ اس فعل سے متفق ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ہراسانی یا ہراسمنٹ کی بہت سی قسمیں ہیں اور یہ بہت سے مقامات پر وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ اب تلاش معاش میں جب خواتین کو دفاتر کا رخ کرنا پڑتا ہے تو اپنی ذاتی تعمیر، بڑھوتری اور خودمختاری جیسے مثبت تجربوں کیساتھ ساتھ بعض اوقات ہراسمنٹ جیسے بدصورت روئیے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات ہراسانی کا یہ واقعہ ایسے وقوع پذیر ہوتا ہے کہ ہم خود بھی فوراً سے واضح نہیں ہو پاتیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے۔ مثلاً کہ ایک صاحب جو آپ سے عمر میں بھی زیادہ ہیں اور مرتبے میں بھی بہتر ہیں، وہ بات کرتے کرتے ایک دم آپ کے شانے پر ہاتھ رکھ دیں گے۔ اب آپ ان کی عمر کے احترام اور اس بے ساختہ حرکت کو سمجھنے کے عمل سے ہی گزرتی رہ جائیں گی اور نہ تو آپ کو ردعمل کا وقت ملے گا اور نہ ہی یہ سمجھ آئے گی کہ یہ ایک معصوم دوستانہ بے تکلفی تھی یا پھر درپردہ ایک مکروہ حرکت اور وہ صاحب بات مکمل کر کے شانے سے ہاتھ ہٹا کر آگے بڑھ جائیں گے۔ اس حرکت کے غلط ہونے کا نہ تو کوئی ثبوت ہو گا اور نہ ہی کسی کو سمجھانے کا طریقہ مگر یہ ایک شدید ناخوشگوار تجربہ ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور معاشرہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھیں۔ یہ بات سمجھیں کہ نشانہ بننے والا قصور وار نہیں ہوتا بلکہ بری حرکت کرنیوالا قصوروار ہوتا ہے اور نشانہ بننے والے شخص کو نشانہ بنا کر ہم بھی اسی ظلم کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ باتیں میں کسی ایک شخص کے بارے میں نہیں بلکہ معاشرتی روئیے کے بارے میں لکھ رہی ہوں۔ جس سے ہمارے معاشرے کی خواتین کو روزانہ گزرنا پڑتا ہے، سیاسی اتار چڑھاؤ سے قطع نظر ہمیں اپنی سوچ اور اقدار کو درست سمت میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا ماحول بنانے کی ضرورت ہے جس میں خود پر شک کے ڈر سے چپ ہو جانے کی بجائے ایک مظلوم شخص آواز اٹھا سکے اور اسے خاموش نہ رہنا پڑے۔ گو اب خواتین کی ہراسمنٹ سے متعلق قانون موجودہے لیکن اس قانون بارے بہت کم خواتین جانتی ہیں، دوسرا یہ کہ ہمارے انصاف کی فراہمی کے سسٹم کو مدنظررکھتے ہوئے بہت کم خواتین ایسے کیسز کا مقدمہ درج کرواتی ہیں۔ اسلئے قانون سازی اپنی جگہ ایک درست عمل ہے مگر ہمارے معاشرے کو ذہنی تربیت اور کردار سازی کی بھی اشد ضرورت ہے کیونکہ جب تک خواتین اور مردوں کو اپنے کام کرنیوالے اداروں میں احساس تحفظ نہیں ہوگا وہ یونہی چپ چاپ خوف کے عالم میں زندگی گزارتی رہیں گی۔

متعلقہ خبریں