Daily Mashriq


مزاحمت کا واضح پیغام؟

مزاحمت کا واضح پیغام؟

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے جنوبی ایشیا کے دورے سے واپسی کے بعد اپنی قوم کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے انہیں امریکہ کی یک طرفہ پالیسی کی مزاحمت کا واضح پیغام ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بتایا گیا ہے کہ وہ امریکی پالیسی کی حمایت کرے بصورت دیگر امریکہ پاکستان کے بغیر ہی اپنی حکمت عملی ترتیب دے گا۔ یوں لگتا ہے کہ ریکس ٹلرسن خاصے سمجھدار آدمی ہیں جو پاکستان کی طرف سے مزاحمت کے اشاروں کو سمجھ گئے۔ ٹلرسن کے لئے پہلا اشارہ وہی تھا جب وہ نورخان ائربیس پر اترے تو ان کے استقبال کے لئے ماضی کی روایت کے برعکس وزیر خارجہ ایک لاؤ لشکر کے ساتھ موجود نہیں تھے بلکہ وزارت خارجہ کے ایک افسر ان کا روکھا پھیکا استقبال کر رہے تھے۔ ان کے لئے دوسرا اشارہ وہ ملاقات تھی جس میں ایک میز کے گرد امریکی وفد تھا اور اسی میز کے دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔ امریکیوں کی خواہش تھی کہ وزیراعظم اور آرمی چیف سے الگ الگ ملاقات ہوگی تو وزیراعظم اپنی بے بسی کا رونا روئیں گے سول ملٹری تعلقات کی نوحہ خوانی کریں گے۔ سول قیادت کو مضبوط کرنے کے لئے امداد طلب کریں گے اور جنرل قمر جاوید باجوہ سیاسی قیادت کی شکایتیں لگائیں گے اور اس طرح امریکہ یہ کہنے کی پوزیشن میں ہوگا کہ پاکستان کی موجودہ پالیسی متفقہ نہیں مگر ٹلرسن سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک میز کے گرد دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ اس کے علاوہ اور بہت سے پیغامات سے ٹلرسن نے یہ درست نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان اب امریکہ کا بے دام غلام بننے کو تیار نہیں بلکہ ٹھونسی جانے والی کسی بھی ناپسندیدہ پالیسی کی مزاحمت کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے معاملات مفاہمت اور سرینڈر کے دور میں مثالی اور اچھے نہیں رہے۔ امریکہ ڈرون مار کر پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کرتا رہا۔ پاکستان کے ساتھ اینٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرنے سے گریزاں رہ کر یک طرفہ کارروائیاں کرتا رہا۔ اب جبکہ پاکستان نے سارا دباؤ جھٹک کر مزاحمت کا پیغام دیا ہے تو اس سے کوئی زیادہ فرق پڑنے والا نہیں۔ امریکہ پہلے بھی دشمنی پر آمادہ تھا اب اس کا معیار کچھ اور بلند ہوگا۔ پاکستان کے پاس بھارت کے مطالبات کو امریکی زبان میں بیان کرنے اور بھارتی مفاد کی پالیسی کو امریکی مفاد کا جامہ پہنا کر پیش کرنے والی اس پالیسی کی مزاحمت کا راستہ یکسوئی سے اپنانا چاہئے۔ اس دوران آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اعلان کیاکہ فوجی جوانوں نے کنٹرول لائن پر جاسوسی کی غرض سے استعمال ہونے والا ڈرون کو مار گرایا ہے۔ یہ ڈرون چکری سیکٹر میں گردش کے دوران نشانہ بنا اور اس کا ملبہ بھی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ ڈرون طیارے میں موجود ویڈیوز اور تصاویر کا ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کے مطابق امریکہ کو کہا گیا کہ بھارت کو ڈرون طیارے فراہم نہ کئے جائیں اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان سیز فائر کے باوجود کنٹرول لائن گزشتہ کچھ عرصہ سے کشیدگی اورکشمکش کا محور بن کر رہ گئی ہے۔ بھارتی فوج آزاد کشمیر کے کئی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کرکے روزانہ کئی افراد کو شہید یا زخمی کر رہی ہے۔ دونوں طرف کی افواج کے مابین بھی خوں ریز تصادم کی خبریں آئے روز منظر عام پر آتی ہیں۔ گزشتہ برس بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر ہی سرجیکل سٹرائیکس کا دعویٰ بھی کیا گیا جس کی قلعی پاک فوج نے میڈیا کو علاقے کا دورہ کرانے کے بعد کھول کر رکھ دی تھی۔ اب اس کشیدگی میں ڈرون طیارے کا استعمال اور اسے مارگرائے جانے سے ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔ بھارت اس خطے میں ’’چھوٹا امریکہ‘‘ بننے کی کوششیں کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتیوں کے دل میں امریکہ کا ڈرون استعمال کرنے کا شوق چرایا ہے۔ پاک فوج نے اس ڈرون کو ملبہ میں بدل کر بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ خود کو امریکہ سمجھنے کی غلط فہمی میں نہ رہے۔ بھارت کیلئے پاکستان کے پاس واحد اور آخری آپشن ’’اینٹ کاجواب پتھر‘‘ ہے۔ بھارت کی اپنی حیثیت اور طاقت کیا ہے یہ چین کے ساتھ ڈوکلام تنازعے میں دیکھ لیا گیا ہے البتہ خطرے کی گھنٹی اس وقت بجنے لگتی ہے جب بھارت امریکی ہلہ شیری کیساتھ پاکستان کو آنکھیں دکھاتا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی ٹیکنا لوجی کا سہارا لیکر پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کر تا ہے اور امریکہ بھی اس کی ناز برداریاں کر کے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کر تا ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں پاکستان کیلئے امریکہ اور بھارت میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس وقت بھی مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت کنٹرول لائن پر جارحیت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے مگر شاید اسے اندازا نہیں کہ بھارت کا مقابلہ ایک بدلے ہوئے پاکستان سے ہے۔ وہ پاکستان جس نے بقول چوہدری شجاعت حسین اپنا ایٹم بم شب برات کو پھوڑنے کیلئے نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرے کے ڈیٹرنس کے طور پر تیار کیا ہے۔ امریکہ کے جنگجو حکمران چین کی مخالفت میں اندھے ہو کر پاکستان اور بھارت کے درمیان توازن قائم اور برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو رہے ہیں جس سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کشیدگی کو موجودہ مراحل میں ہی روکا نہ گیا تو اس خطے پر خطرات کے بادل یونہی منڈلاتے رہیں گے اور خطے کی اقتصادی ترقی بھی کشیدگی کی ایک ہوا کے جھونکے کے رحم وکرم پر رہے گی۔ پاکستان کو نظر انداز کرکے اپنی پالیسی نافذ کرنے کی بات سے سردست یہی نتیجہ نکلتا ہے امریکہ بھارت کو پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنائے گا اور ہر دو صورتوں میں ڈرون کو ایک محفوظ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائیگا۔

متعلقہ خبریں