Daily Mashriq

یورپ کے ''نریندر مودی'' کشمیر میں

یورپ کے ''نریندر مودی'' کشمیر میں

حکومت کا یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کو دہلی اور کشمیر کا دورہ کرانے کا خیال کب سوجھا؟ یہ ایک معمہ ہے۔ شاید اس وقت جب یورپی پارلیمنٹ میں خارجہ امور کمیٹی میں کشمیر کی صورتحال پر بحث ہوئی اور فرینڈز آف کشمیر نامی تنظیم کے ارکان کو تفصیل کیساتھ سماعت کیا گیا۔ برسلز میں ہونے والے اس اجلاس میں یورپی یونین کی وزیرخارجہ منڈریکا مورگینی کی تقریر بھی پڑھی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ یورپی یونین نے بھارت پر کشمیر میں کرفیو ہٹانے اور نقل وحمل اور مواصلاتی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بحث میں کشمیر کی صورتحال پر بہت کھل کر بحث ہوئی۔ قرین قیاس ہے کہ یورپی پارلیمنٹ میں ہونے والی اس دُرگت کے بعد ہی بھارت کو یورپی یونین کے ارکان کو گھیر گھار کر کشمیر لے جانے کا اچھوتا خیال آیا۔ حقیقت میں اپنے دامن اور آستین پر لگے خون کے دھبے دھونے کی ایک کوشش تھی جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ اگر کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور پانچ اگست کا فیصلہ اس کا داخلی معاملہ ہے تو اس میں بیرونی دنیا کا کیا کام ہے؟ یورپی یونین کے نمائندوں کو کنٹرولڈ انداز میں پابندیوں کی رسی میں باندھ کر بہ اہتمام دہلی اور سری نگر لے جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ اندرونی نہیں بلکہ بیرونی دباؤ کی چوٹ کہیں نہ کہیں اندرونی حصے میں محسوس کی جا رہی ہے۔ کشمیر کے دورے کیلئے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے وفد کی ترتیب میں بہت احتیاط برتی گئی۔ اس فہرست کی تیاری میں ارکان پارلیمنٹ کے نظریات اور سیاسی رجحانات کو ترجیح دی گئی۔ اس طرح بھارتی مودی نے یورپ کے ''مودی'' تلاش کر کے وفد تشکیل دیا۔ یورپی ملکوں کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ارکان اور فاشسٹ اور مسلمان دشمنی میں مشہور افراد کو اس فہرست میں شامل کیا گیا جن میں اکثر تارکین وطن کے شدید مخالف مانے جاتے ہیں۔ ان میں جرمن الٹرنیٹو فار جرمنی پارٹی کے رکن ایلس وانڈیل، فرانس کی نیشنل ریلی پارٹی کے رین لے پین اپنے اسلام مخالف نظریات کی تشہیر کیلئے مشہور ہیں، لیگانورڈ پولینڈ کی ایک سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں، نسل پرستانہ سوچ کے حامل ہیں جو افریقی تارکین وطن کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دیتے رہے ہیں۔ تئیس رکنی اس وفد میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، اٹلی، چیک ری پبلک، پولینڈ کے ارکان شامل تھے۔ اس طرح کشمیر کا دورہ کرانے کیلئے وفد کا معیار اسلام مخالف نظریات، فسطائی خیالات اور نسل پرستانہ سوچ قرار پایا۔ اسی سے نریندر مودی اور ان کے گرد جمع پالیسی سازوں کی سوچ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ برطانیہ کی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے 2 ارکان نے اس سوچ کا بھانڈہ یہ کہہ کر پھوڑا کہ انہیں بھی وفد کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی تھی مگر جب انہوں نے کہ وہ کنٹرولڈ دورہ نہیں کریں گے بلکہ ان کے وفد کیساتھ بھارتی فوجی اور سیکورٹی فورسز کی بجائے صرف صحافی ہوں گے اور وہ مقامی لوگوں سے ملاقات کرنا چاہیں گے تو اس کے بعد منتظمین آئیں بائیں شائیں کرنے لگے اور یوں ان کا نام فہرست سے خارج کر دیا گیا۔ یہ پانچ اگست کے بعد کشمیر کا دورہ کرنے والا پہلا غیرملکی وفد تھا۔ بھارتی اخبار دی ہندو میں خاتون صحافی سہاسنی حیدر کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے دورے میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس دورے کے پیچھے مودی کے مشیر قومی سلامتی اجیت دووال کا ذہن تھا مگر اس کیلئے فرضی این جی او کا نام استعمال کیا گیا اور اس دورے کے اخراجات کیلئے بھی ایک تھنک ٹینک کا نام استعمال کیا گیا۔ بھارتی حکومت خود کو اس دورے سے دور رکھنا چاہتی تھی اور یہ کھیل این جی او کے نام پر کھیلا گیا۔ برسلز میں قائم ویمنز اکنامک اینڈ سوشل تھنک ٹینک نامی ایک این جی او کی بھارت نژاد خاتون مادی شرما نے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان سے رابطہ کرکے کہا کہ وہ انہیں بھارت کا دورہ کروا کر وہاں یورپی یونین کے اہم پالیسی سازوں کے طور پر متعارف کرانا چاہتے ہیں اور انہیں بھاری اکثریت سے دوسری بار جیت کر آنے والے نریندر مودی سے ملوائیں گی جو بھارت کو تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔ ساتھ میں انہیں کشمیر کا دورہ بھی کرایا جائے گا۔ مسز شرما نے جو اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ بنایا تھا اس میں خود کو بزنس بروکر لکھا گیا تھا۔ مسز مشرا نے یورپی ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ دورے کے اخراجات دہلی کے ایک ادارے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فارنان الائنڈ سٹڈیز نے برداشت کئے ہیں۔ دی ہندو نے مسز شرما کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پیغام بھیجا تو جواب آیا کہ یہ درست اکاؤنٹ نہیں۔ پھر دہلی کے تھنک ٹینک سے رابطہ کیا گیا تو کوئی جواب نہ ملا۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ یورپی ارکان پارلیمنٹ کو دھوکا دہی سے بھارت لایا گیا بلکہ حکومت نے اس کیلئے فرضی ناموں اور کرداروں کا استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھارتی اپوزیشن کی طرف سے اس دورے پر یہ کہہ کر اعتراض کیا گیا کہ کشمیر کے دورے کے خواہش مند بھارتی ارکان پارلیمنٹ کو دوبار ایئر پورٹ سے واپس کیا گیا مگر باہر والوں کو حکومتی سرپرستی میں کشمیر لے جایا گیا۔ یہ پارلیمنٹ اور ملکی خودمختاری کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ اس طرح یہ قدم خود بھارتی حکومت کے گلے پڑگیا اور وزرات خارجہ کو اس عمل سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ یہ وفد ذاتی حیثیت میں آیا ہے۔ پانچ اگست کو بھارت کشمیر میں ایک بڑی حماقت کرکے حماقتوں کی ایک دلدل میں پاؤں رکھ چکا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو بھی دنیا بھر کے آزاد ضمیر سیاستدانوں اور منتخب ارکان کو کنٹرول لائن اور کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے علاقے کا دورہ کرانا چاہئے تاکہ دنیا کو دونوں علاقوں کے حالات کا موازنہ کرنے میں آسانی رہے اور بھارت کے اقدامات کی اصل حقیقت بھی دنیا پر عیاں ہو سکے۔

متعلقہ خبریں