Daily Mashriq

جنرل اسمبلی سے شاہ محمود کا خطاب

جنرل اسمبلی سے شاہ محمود کا خطاب

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمارے صبر کا امتحان نہ لے ، بھارت نے مذاکرات کا موقع داخلی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو بھر پور جواب دیں گے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی مفادات کے حصول کیلئے کوشاں رہے گااور قومی مفادات ، سلامتی کے تحفظ پر کسی قسم کی سودابازی کا متحمل نہیں ، انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا خطے کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد حق خود ارادیت دیئے جانے تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا ۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا ہے ،وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس سے اردومیں خطاب کیا اور بھارتی وزیرخارجہ کے لگائے گئے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ منفی رویئے کی وجہ سے مودی حکومت نے تیسری بار مذاکرات کا موقع گنوادیا ہے ، انہوں نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر میں کمیشن کا خیر مقدم کریں گے اور امید ظاہر کی کہ بھارت بھی ایسا ہی کرے گا ۔ اس سے پہلے بھارتی وزیرخارجہ سشماسوراج نے تقریر کرتے ہوئے نہایت ڈھٹائی سے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مقولے پرعمل کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر الزامات لگائے اور کہا کہ پاکستان ہی مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ہے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بھارت میں بر سر اقتدار بی جے پی کی حکومت کو اندرونی طور پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے ، خاص طور پر اگلے سال انتخابات میں اترنے سے پہلے مودی سرکار کو اپوزیشن کے تابڑ توڑ حملوں سے چھٹکارا پانے میں نہایت مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حال ہی میں فرانس کے سابق صدر نے جس طرح ایک دفاعی سودے میں جہازوں کی خریداری کے دوران بھارتی حکومت کے دبائو کے حوالے سے الزام عاید کیا ہے اس کے ڈانڈے نریندر مودی کی جانب جاتے دکھائی دے رہے ہیں جس پر کانگریس کے اہم رہنماراہول گاندھی نے مودی سرکارکو تنقید کی سان پر رکھتے ہوئے صورتحال کی وضاحت طلب کی ہے جبکہ بھارتی میڈیا پر بھی ایک طوفان بپا ہے ، اس نے مودی سرکارکو عجیب مخمصے میں مبتلا کر رکھا ہے ، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کے صرف ایک روز بعد ہی یوٹرن لیتے ہوئے مذاکرات سے انکار کر دیا گیا ۔ جبکہ اس سلسلے میں سرحدپر بھارتی فوجیوں کو مارنے کے الزامات لگا دیئے ، تاہم یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جب بھی مذاکرات کی کوششیں کی جاتی ہیں بھارت میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ’’سرزد‘‘ ہو جاتا ہے جس کی آڑ لیکر بھارت مذاکرات سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور پاکستان پر دہشت گردی کے روایتی الزامات لگا دیتا ہے۔ ماضی میں اس قسم کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ سب کچھ بھارت کی اپنی ایجنسیاں کراتی ہیں تاکہ مقبوضہ کشمیر میںبھارتی ریاستی دہشت گردی کا جواز بھی پیدا کیا جائے اور مذاکرات سے فرار کا راستہ بھی ڈھونڈ لیا جائے ، بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان پر دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگاتے ہوئے یہ بھول گئی تھیں کہ بھارتی حاضر سروس افسر کلبھوشن یادو نے پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کیا تھا جس کا وہ برملا اعتراف بھی کر چکا ہے۔ اس طرح سانحہ اے پی ایس کے پیچھے بھارتی دہشت گردی تھی جبکہ بلوچستان میں دہشت گردانہ واقعات میں بھی اسی کا ہاتھ ہے ۔مگر ہمیشہ پاکستان پر الزامات کیلئے اس کی ایجنسیاں خود ہی ایسی کارروائیاں کرتی ہیںجن سے اس کے الزامات دنیا کو سچ دکھائی دیں ، ایسے میں بھارتی افواج کے کمانڈر ان چیف کے حالیہ الزامات اور ان کی آڑ میں پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیئے ، گزشتہ برس بھی بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کے دعوے اب بے نقاب ہو چکے ہیں اور خود بھارت کے اندر بھی انہیں جھوٹ کا پلندہ قرار دیا جارہا ہے ، اس لئے ان دعوئوں کو درخور اعتناء نہ سمجھتے ہوئے بھی پاکستان بھارت کی جانب سے اس قسم کی کسی احمقانہ حرکت کو نظر انداز نہیں کر سکتا اور جیسا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی غلطی کی گئی تو بھر پور جواب دینے کیلئے تیار ہیں ۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ مودی سرکارجنگ کی باتیں کرکے اندرون ملک پھیلی ہوئی بے چینی سے نمٹنے کی بجائے پرامن مذاکرات پر سنجیدگی سے غور کرے ، مودی سرکار اس قسم کے جھوٹے الزامات اور ان کی آڑ میں پاکستان کو دھمکیاں دینے سے وقتی ریلیف تو شاید حاصل کر سکیں اور ممکن ہے کہ آنے والے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کر لیں مگر بالآخر اسے دونوں ملکوں کے درمیان حل طلب مسائل خصوصاً تنازعہ کشمیر پر مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑے گا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل اور حتمی حل نہیں ہو سکتا ۔

متعلقہ خبریں