Daily Mashriq

لوٹی ہوئی دولت کی واپسی؟

لوٹی ہوئی دولت کی واپسی؟

نے سوئٹزر لینڈ کے ساتھ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے معاہدہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے سے سوئٹزر لینڈ میں پاکستانیوں کے اثاثوں تک رسائی ممکن ہوسکے گی۔ سوئٹزر لینڈ سے دیگر ممالک کو رقوم کی ترسیل کے حوالے سے تفصیلات معلوم ہوسکیں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق صدر آصف زرداری کے خلاف جس طرح کیسز کھل رہے ہیں ان کی بچت مشکل ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ غیر قانونی دولت جمع کرنے والوں کے لئے جنت سے کم نہیں ہے کیونکہ وہاں کے بنک خود ملک کے اندر موجود کسی ضابطہ اخلاق میں نہیں آرہے تھے مگر چند برس پہلے دنیا بھر میں خصوصاً ان ملکوں کی جانب سے جن کی دولت وہاں کے جابر حکمرانوں‘ سرمایہ داروں‘ قبضہ مافیا گروپوں اور سمگلنگ سے خزاے جمع کرنے والوں کے خلاف مسلسل احتجاج کے نتیجے میں سوئٹزر لینڈ حکومت نے ایسے قوانین پاس کرکے لاگو کردئیے جن کی رو سے ٹھوس شواہد مہیا کرنے پر لوٹی گئی رقوم اور زر و جواہر متعلقہ ملکوں کو واپس کرنے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔ جہاں تک سابق صدر آصف زرداری کا تعلق ہے ان کے خلاف اس قسم کے شواہد ملک میں بر سر اقتدار پیپلز پارٹی کے دور میں مقررہ تاریخ تک مہیا نہ کئے جانے کی وجہ سے اس وقت ان کی مبینہ لوٹی گئی دولت واپس نہیں لائی جاسکی تھی حالانکہ اس کے نتیجے میں یعنی سوئس حکومت کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں پیپلز پارٹی کے ایک وزیر اعظم کو اپنے اقتدار کی قربانی بھی دینی پڑی تھی۔ بہر حال اب ملک میں نہ تو مسلم لیگ(ن) نہ ہی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے بلکہ ان دونوں کی مخالف تحریک انصاف بر سر اقتدار ہے جو نہ صرف حالیہ دنوں میں برطانیہ کے ساتھ اسی نوع کا معاہدہ کر چکی ہے بلکہ اب سوئٹزر لینڈ کے ساتھ بھی معاہدے کی نوید دی گئی ہے۔ اس لئے امید کی جانی چاہئے کہ ملک سے لوٹی گئی دولت باہر لے جا کر چھپانے میں جو بھی ملوث ہو اس کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر یہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے میں موجودہ حکومت ضرور کامیاب ہوگی۔

گیس کی کمی دور کرنے کیلئے اقدام

گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے 6 سو ملین روپے کی لاگت سے ضلع کرک سے صوبائی دارالحکومت پشار تک 32 کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کو صوبے میں گیس کی کمی کو دور کرنے کے سلسلے میں ناگزیر اہمیت کی حامل کاوش قرار دیتے ہوئے اس کی جلد سے جلد تکمیل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ گزشتہ روز گورنر ہائوس پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے 1269 ملین روپے کی لاگت سے پشاور کی 5یونین کونسلوں بشمول قاضی آباد‘ بڈھ بیر‘ ماشو خیل‘ آفریدی آباد‘ کگہ ولہ‘ سلمان خیل‘ شہاب خیل اور گڑھی نوبت خان کو گیس فراہمی کے منصوبوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے علاقے کے لوگوں کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آئین کی شق 158 کے تحت جس صوبے میں گیس کے ذخائر دریافت ہوں گے وہاں کے عوام کو ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں گیس فراہمی میں ترجیح دی جائے گی جبکہ اس گیس سے حاصل ہونے والی آمدن آئین کی شق 161 کے تحت متعلقہ صوبے کا حق تصور کی جائے گی ۔ بد قسمتی سے خیبر پختونخوا کے اضلاع کوہاٹ‘ کرک اور دیگر ملحقہ علاقوںمیں دریافت شدہ گیس کے ذخائر پر آج تک صوبے کو اختیار دیاگیا ہے نہ ہی ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں ترجیح کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے بلکہ جس طرح پن بجلی کی تقسیم کے نظام کو مرکزیت دے کر قومی گرڈ سے اسے تقسیم کیا جاتا ہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ قومی گرڈ سے خیبر پختونخوا کے لئے مقررہ کوٹے سے بھی کم بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے گیس ذخائر پر بھی قبضہ جما کر اس کی تقسیم کے لئے مبینہ طور پر میانوالی میں سسٹم قائم کیاگیا ہے جس سے تقسیم میں بے قاعدگی اور صوبے کے لئے آئین کے تحت ترجیح سے آنکھیں چرائی جا رہی ہیں بلکہ پہلے کوہاٹ‘ کرک ار دیگر گیس فیلڈ سے میانوالی پہنچانے اور وہاں سے خیبر پختونخوا تک گیس پائپ لائنیں پہنچانے کے نظام پر اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ گیس فیلڈ سے بلا واسطہ پائپ لائن کے ذریعے اسے پشاور تک لانے میں اخراجات بھی کم پڑتے ہیں اور اس میں کوئی آئینی پیچیدگی بھی نہیں آتی۔ اس لئے امید ہے کہ گورنر کے پی نے جس منصوبے کی جانب اشارہ کیا ہے اسے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچا کر خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے گرد و نواح کے محولہ علاقوں کے عوام کی دیرینہ شکایت کا ازالہ کیا جائے گا جبکہ شہر میں سردیوں کے دنوں میں جس طرح گیس کی لوڈشیڈنگ سے عوام کو پریشانی کاسامنا رہتا ہے امید ہے کہ مجوزہ پائپ لائن کی تنصیب کے بعد یہ مسئلہ بھی مستقل بنیادوں پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں