Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ترجمہ: اس قرآن کو اتارنے والے ہم ہیں اورہم ہی نے اس کی ہر قسم کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے ۔ (الحجرات آیت9)

حق تعالیٰ شانہ ، نے قرآن حکیم کی حفاظت کا ایسا انتظام فرمایا کہ کوئی جدید سے جدید ترین سائنسی ایجاد ، شیطانی حربہ یا سازش قرآن مجید کے کسی لفظ، حرف، زبر ، زیِراور پیش میں ردوبدل نہیں کرسکتی ۔ جب انگریز شروع شروع میں برصغیر میں آئے تو زیادہ تر قرآن کریم کے قلمی نسخوں کا رواج تھا ۔ اس وقت انہوں نے سوچا کہ اگرہم تمام قلمی نسخوں کو مسلمانوں سے خرید کر تلف اور ضائع کردیں اور تحریف شدہ اور غلط نسخے پھیلادیں تومسلمانوں کا حفاظت قرآن کا دعویٰ غلط ثابت ہوگا ۔

اس مقصد کیلئے انہوں نے عام ہدیئے سے کئی گنا زیادہ قیمت پر قرآن کریم کے نسخوں کو خریدنا شروع کردیا ۔ سادہ لوح مسلمان پادریوں کے ہاتھوں دھڑا دھڑ قرآن پاک ہدیہ کرنے لگے ۔ اس زمانے کے ایک عالم دین حضرت مولانا باقرعلیؒ نے پادریوں کو کہا کہ قرآن کریم کے نسخوں کو تلف وضائع کرنے سے تمہاری مطلب برآری اور مقصد پورا نہیں ہو سکتا ، یہ فرما کر ایک دس سالہ بچے کو بلوایااورپادریوں کی مکار ٹیم کے سامنے ، مختلف مقامات سے قرآن کریم زبانی سنا ، پھرآٹھ سالہ بچے کو بلا کر زبانی سنوایا اور آخر میں ایک سات سالہ حافظ قرآن بچے کو پیش کیا اور اس نے بھی فرفرجہاں سے پوچھا گیا ، بغیر کسی غلطی کے بڑے شوق سے سنایا۔

اس وقت پادریوں کو اپنی جہالت اور حماقت کا احساس ہو ا اور انہوں نے قرآن کریم کے نسخے تلف کرنے کا بے ہودہ مشغلہ ترک کردیا ۔

بے شک حق تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ جس طرح آسمان پر ستارے چمکتے ہیں ، اسی طرح قرآن کریم کے چمکتے ہوئے الفاظ لوح محفوظ اور آسمان پر محفوظ فرما دیں اور محفوظ ہیں ، مگر حفاظت کے موجودہ نظام سے کمال قدرت کا زیادہ اظہار ہوتا ہے کہ ہر زمانے میں دشمنان اسلام کی کثرت اورہر قسم کی سازشوں کے باوجود حق تعالیٰ شانہ نے محیر العقول طریق سے قرآن کریم کی حفاظت فرمائی ۔ صاحب تفسیر عثمانی مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت رقمطراز ہیں ۔ ہر زمانہ میں ایک جم غفیر علماء کا جن کی تعداد خدا ہی کو معلوم ہے ، ایسا رہا ہے جس نے قرآن کریم کے علوم ومطالب ومفہوم کی حفاظت کی ، کاتبوں نے رسم الخط کی ، قاریوں نے طرز ادا کی ، حافظوں نے اس کے الفاظ و عبارت کی وہ حفاظت کی کہ نزول کے وقت سے آج تک ایک زبر ، زیر تبدیل نہ ہوسکا اور نہ ہوگا ۔ کسی نے قرآن کریم کے رکوع گن لئے ، کسی نے آیتیں شمارکیں ، کسی نے حرف کی تعداد بتلائی ، حتیٰ کہ بعض نے ایک ، ایک اعراب یعنی زیِر، زبر، پیش وغیرہ اور ایک ایک نقطہ کو شمارکرلیا۔

(گلدستہ واقعات)

متعلقہ خبریں