Daily Mashriq

سندھ اسمبلی میں نسلی ملاکھڑا

سندھ اسمبلی میں نسلی ملاکھڑا

`جمعرات کا دن سچل‘ سامی‘ شاہ لطیف‘ ہوش محمد شیدی شہید اور عبداللہ شاہ غازی کی مہران وادی سندھ کے باسیوں کے لئے حیرانی اور شرمندگی سے بھرا ایک سیاہ دن تھا۔ سندھ کے سب سے بڑے اور منتخب ایوان سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان طعنوں‘ سوقیانہ جملوں‘ اعداد و شمار سے خالی جذباتی دعوئوں کا جو ملاکھڑا ہوا وہ افسوسناک ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈگریوں سے لدے پھدے ہمارے بعض ارکان سندھ اسمبلی‘ تاریخ‘ اخلاقیات‘ سندھ وادی کی قدیم روایات اور سنجیدہ سیاسی کلچر سے قطعی ناواقف ہیں۔ ایم کیو ایم کا تو خیر خمیر ہی لسانی انتہا پسندی اور نفرت سے گندھا ہے۔ مگر یہ پیپلز پارٹی جیسی سوشل ڈیموکریٹ سیاسی جماعت کے رکن کو کیا ہوا کہ اس نے سنجیدہ سیاسی کارکن کے انداز میں بات کرنے اور دلیل سے نسل پرستوں کے موقف کو رد کرنے کی بجائے ایک نسل پرست کے انداز میں فخریہ گفتگو کی؟۔ مہاجر سندھی تضادات کی اپنی تاریخ ہے‘ خبط عظمت کا شکار کون ہے اور کون پدرم سلطان بود کی فہم سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ اس پر بات کرنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کراچی کے 70 یا 90 فیصد ریونیو کاشور مچانے والے نسل پرستوں کو یہ بتایا جائے کہ ملک بھر کی بڑی انڈسٹری مالیاتی اداروں اور دیگر کاروباری شعبوں کے مرکزی دفاتر کراچی میں ہیں جبکہ کاروبار ملک بھر میں پھیلا ہوا۔ ٹیکسوں کے نظام کی مرکزیت کی بدولت اگر حساب کتاب مرکزی دفاتر کرتے ہیں تو محض حساب کتاب کی بنیاد پر 70 سے 90 فیصد ریونیو دینے کی بڑ ہانکنے سے گریز کیا جانا بہتر ہے۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے نام سے نئی مملکت کی شناخت حاصل کرنے والے علاقوں میں ہندوستان بھر سے جو مہاجرین تشریف لائے ان کا مقامی آبادیوں نے خوش دلی سے خیر مقدم کیا ان کی قربانیوں کے احترام میں ہی اردو زبان کو رابطے کی زبان بنانے پر زور دینے کی بجائے قومی زبان کے طور پر تسلیم کیا۔ محبت و اخوت کے شاندار مظاہروں کے باوجود 1952ء میں ہی کراچی کے درو دیوار پر مہاجر صوبہ کا مطالبہ لکھا گیا۔ خود ایم کیو ایم مقامی قوموں ان کی تہذیب و ثقافت اس تاریخ سے نفرت کی بنیاد پر قائم ہوئی ورنہ جن مسائل کا سامنا اہل کراچی کو اردو بولنے والے حصے کو تھا ویسے ہی مسائل کا مقامی قومیتوں کے افراد کو آج بھی سامنا ہے۔طبقاتی بالا دستی کی گرفت مضبوط رکھنے والے طبقات اور عام شہریوں کے مسائل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یقینا کچھ غلطیاں سندھی رہنمائوں سے ضرور ہوئیں مگر 1952ء کے مہاجر صوبہ مطالبے‘ نواب مظفر حسین خان کے مہاجر پٹھان پنجابی محاذ‘ آزاد بن حیدر کے کراچی صوبہ اور پھر مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے الطاف حسین کی جماعت کے قیام تک کے معاملات بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان سے صرف نظر کا مطلب یہ ہوگا کہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے والے اپنی طرف مڑتی چار انگلیوں کی حقیقت کو نہیں سمجھنا چاہتے۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے جمعرات کو سندھ اسمبلی کے فلور پر ایک دوسرے کو جو طعنے دئیے اور جو زبان استعمال کی اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ دو ٹوک انداز میں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ کوئی کسی کو نہیں پال رہا پاکستان کی دھرتی کے وسائل 22 کروڑ پاکستانیوں کو پال پوس رہے ہیں۔ قومی شناخت کا احترام سماجی اخوت و بھائی چارے کی توقیر بہت ضروری ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنمائوں کو بھی خبط عظمت کے جنون کا علاج تلاش کرنا ہوگا۔ کون کہاں کیا چھوڑ کر آیا اور بدلے میں نئی مملکت میں کسے کیا ملا اس کا حساب ہونا شروع ہوا تو نئے مسائل اور تعصبات کے دروازے کھلیں گے۔ ایم کیو ایم اور اس کے انتہا پسندوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ متحدہ ہندوستان میں سندھ وہ صوبہ ہے جس کی اسمبلی نے سب سے پہلے قیام پاکستان کے حق میں قرار داد منظور کی۔ یہ قرار داد ہی درحقیقت قیام پاکستان کا بیانیہ ہے۔ اس سے انکار تعصب اور جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ سندھ اسمبلی میں جمعرات کے نفرت بھرے لسانی ملاکھڑے پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس کا آغاز ایم کیو ایم کے نسل پرست رکن اسمبلی نے کیا۔ بہر طور اس طرح کے زہریلے ملاکھڑوں کا کوئی فائدہ ہر گز نہیں البتہ نقصان ضرور ہوگا۔ سندھ ہو یا دوسرے صوبے ان صوبوں میں آباد مختلف قومی و لسانی شناختیں رکھنے والے اپنے اپنے صوبوں کے مالک ہیں ایک دوسرے کے حق کا احترام سب پر لازم ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے اردو بولنے والے دوستوں کی نمائندگی اب محمد حسین جیسے نسل پرست کرتے ہیں۔ دوسری طرف سے بھی انور میاں زبان دانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سچل‘ سامی‘ شاہ اور ہوشوشہید کے افکار و تعلیمات کو روندتے دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں کی پست سوچ اور زبان درازیوں پر یقینا اردو اور سندھی بولنے والے شائستہ اطوار لوگوں کو دکھ ہوا ہوگا۔ ہونا بھی چاہئے لیکن یہاں ایک سوال ایم کیو ایم کے نسل پرستوں سے ضرور دریافت کیا جانا چاہئے وہ یہ کہ ایم کیو ایم پچھلے 30برسوں کے دوران سندھ اور وفاق کی ہر حکومت کاحصہ بنی۔ آج بھی وہ وفاق میں تحریک انصاف کے ساتھ وزارتوں کے مزے لے رہی ہے۔ ان 30 سالوں کے د وران اس کے ارکان اسمبلی نے جتنی ترقی کی اس کا سوواں حصہ بھی اردو بولنے والے ووٹروں کو نصیب نہیں ہوا اس کی کیا وجہ ہے؟ سندھ ہو یا کوئی دوسرا صوبہ ہجرت کرکے آنے والے محترم خاندانوں کی موجودہ نسل کو مقامی تہذیب و ثقافت تاریخ و تمدن کا احترام بہر طور کرنا ہوگا اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر مسلم اکثریت کے یہ علاقے اپنا ووٹ قیام پاکستان کے حق میں نہ دیتے تو یو پی سی پی یا چند دوسرے مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں ملنا تھا۔

متعلقہ خبریں