Daily Mashriq

دنیا کی وہی رونق ، دل کی وہی تنہائی

دنیا کی وہی رونق ، دل کی وہی تنہائی

پاکستان کے منتخب وزیر اعظم عمران خان نے صوبہ خیبر پختونخوا کے حالیہ دورہ کے دوران ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ یہاں نیا بلدیاتی نظام متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ جس کے زیر اثر وہ صوبہ خیبرپختون خوا اور اس میں ضم ہونے والے قبائلی علاقہ جات میںایک ہی وقت میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے خواہاں ہیں۔وہ نئے بلدیاتی نظام کے تحت ضلع کونسل یا ڈسٹرک کونسل کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ضلع کونسل کے ختم ہونے کے بعد ہر ضلع کے ناظم اعلیٰ کا منصب بھی خود بخود ختم ہوجائے گا۔ ناظم کی جگہ تحصیل اور ٹاؤن مئیر کا عہدہ متعارف کرایا جائے گا جن کا انتخاب براہ راست ہو گا۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی بلدیاتی نمائندوں نے ضلع کونسل کے ختم کرنے کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا ، ان کا کہنا تھا کہ بلدیات کے حوالہ سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے انہیں اعتماد میں لینا چاہئے۔ یادش بخیر انہوں نے پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے سے پہلے یہ بات بھی کہی تھی کہ ہر پولیس سٹیشن بلدیاتی نمائندوں کے زیر انتظام اپنی کارکردگی میں بہتری لائے گا اورہمیں یاد پڑتا ہے کہ انہوں اپنے ایک بیان میں یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ خیبر پختونخوا میں چلنے والا بلدیاتی نظام ملک کا بہترین بلدیاتی نظام ہے۔ جس کو سن اور پڑھ کر ہمارے منہ سے بے اختیار ہر ایک کو اپنی چاچھ میٹھی لگتی ہے کی ضرب المثل ادا ہوگئی تھی۔ اب کے جو وزیر اعظم نے خیبر پختون خوا اور قبائلی اضلاع میں جس نئے نویلے بلدیاتی نظام لانے کا عندیہ دیا ہے اللہ کرے وہ ہر بلد، قصبے یا شہر کے لئے نیک شگون ثابت ہو۔ راقم السطور کو عروس البلاد پشاور سے سٹی پبلک لائبریری کے کتاب دار ہونے کے علاوہ ماہنامہ بلدیہ پشاور کے چیف ایڈیٹر ہونے کا بھی شرف حاصل رہا ہے اس کی تحقیق و جستجو پر مشتمل تحریروں کو بلدیہ پشاور کے ہر دور کی قیادت نے نہ صرف سراہا بلکہ اس کی قلمی خدمات سے استفادہ کرنے کا شرف بھی اس ہیچمدان کو بخشا۔ راقم السطور کی نظر میںہمارے ہاں صدیوں سے رائج جرگہ سسٹم۔ ہماری بیٹھکیں اور حجرے ، اصلاحی کمیٹیاں عہد قدیم میں قریہ قریہ قائم بلدیاتی نظام ہی کو چلاتے رہنے کی چھوٹی بڑی مثالیں ہیں جو تب سے اب تک ہماری ثقافت کاحصہ بن کر زندہ ہیں۔ حکومت برطانیہ نے اپنے ہاں رائج بلدیاتی نظام کو ہمارے ہاں مروج کرنے کی غرض سے میونسپل کمیٹیوں کا نظام متعارف کرایا ، پاکستان بننے کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنے دور آمریت کو سہارنے کے لئے بلدیاتی نظام کو بنیادی جمہوریت کا نام دیا اور بی ڈی سسٹم متعارف کرکے اس کا اقتدار مقامی لوگوں کے منتخب کردہ لوگوں کے حوالے کردیا۔ 1979 میں ضیاء الحق نے کونسلروں اور ان کے منتخب کردہ مئیر ڈپٹی مئیر کے زیر انتظام عوام کو بنیادی سہولیات پہنچانے کا نظام متعارف کرایا۔ مشرف کے دور میں اس نظام میں ایک بار پھر تبدیلی لائی گئی شہروں اور قصبوں کو چھوٹے چھوٹے ٹائونز میں تقسیم کردیا گیا جو تادم تحریر قائم ہیں ۔ مشرف کے دور کے بعد اس کے چھوڑے ہوئے اس سسٹم میں محض اس لئے دراڑیں پڑنے لگیں کہ اس نظام سے قانون ساز اسمبلیوں کی کارکردگی متاثر ہورہی تھی ، متعدد بار بلدیاتی انتخابات التواء کا شکار ہوئے مگر صوبہ خیبر پختون خوا میں عمران خان کی حکومت نے ہر ضلعی حکومت کو ٹاؤنز میں تقسیم کرنے کے سسٹم کو قائم رکھتے ہوئے قدرے ترمیم و اضافے کے ساتھ بلدیاتی نظام متعارف کرایا جس کو وہ ملک کا بہترین بلدیاتی نظام کہنے لگے۔ ظاہر ہے جس بلدیاتی نظام کو حضور اپنے وقت کا بہترین بلدیاتی نظام قرار دے چکے ہیں گویاوہ ٹریلر تھا اس بلدیاتی نظام کا جسے وہ مستقبل قریب میں متعارف کرانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ یاد رہے کہ بلدیاتی ادارے مقامی لوگوں سے حاصل کردہ ٹیکسوں پر چلتے ہیں۔ محصول چونگی،بسوں کے اڈوں، دکانداروں تھڑہ فروشوں، جائیداد کے کرایوں، تفریح گاہوں، ترسیل آب ، تہہ بازاری اور اس قسم کے دیگر ذرائع آمدن کے علاوہ صوبائی حکومت سے ملنے والی امداد بلدیاتی اداروں کے سالانہ بجٹ کی تقویت کا باعث بنتی ہے اور بعض اوقات تو اپنی آمدن اور اخراجات میں تفاوت ختم کرنے کے لئے بلدیہ والے عوام پر ایسا بوجھ ڈالتے ہیں کہ ہم

اقبال تیرے عشق نے سب بل دئیے نکال

مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی

میں بیان ہونے والے ’’بل دئیے نکال ‘‘کی مناسبت سے بلدیہ کو’’ بل دیا‘‘ کہنے لگتے ہیں اور کبھی کبھی بل دیا کی ب کے نیچے زیر ڈال کر بلدیہ کو ’ بِل دیا‘ بھی کہنے لگتے ہیں ۔ گلیاں مرمت کرنا ، نالیاں بنانا، صفائی ستھرائی کا انتظام کرنا، کوڑا کچرہ ٹھکانے لگانا، ناجائز تجاوزات ختم کرنا، جراثیم کش ادویات چھڑکنا، وبائی امراض کے لئے اٹھ کھڑا ہونا ، آگ بجھانا جیسے بہت سے کام بلدیہ کے کھاتے میں آتے ہیں۔ہم بلدیہ کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں توہر دور میں مقامی حکومتوں کے ان اداروں میںتبدیلی کا عمل جاری رہا اگر ہر دور میں بلدیاتی نظام میں تبدیلی کا عمل جاری رہا تو بھلا کب اور کیسے اندیشہ شہر میں مبتلا قاضی جی شہریوں کو بنیادی سہولیات کا انصاف ان کی دہلیزوں پر پہنچانے کا عزم پورا کرسکیں گے ۔ اور یوں صوفی غلام مصطفی تبسم کی رو ح پکار پکار کر کہتی رہ جائے گی

سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی

دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی

متعلقہ خبریں