Daily Mashriq

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

وزیرخزانہ نے کہا ہے کہ معیشت کا بائی پاس ہورہا ہے ، کامیاب ہوا تو ٹریک پر آجائے گی ، دوڑے گی ۔ غالباً اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان کی آمدپر گزشتہ روز پشاور میں جو کابینہ اجلاس منعقد ہوا اس میں شریک ہونے والوں کو چائے بھی پیش نہیں کی گئی، پانی کے بارے میں ’’خبریال‘‘ خاموش ہیں ، پیش کیا گیا یانہیں کیونکہ مفت میں ملنے والے پانی کے بارے میں آلودگی کی خبریں عام ہیں اور منرل واٹرپر بھی خرچہ اٹھتا ہے ، جو معیشت کی صحت کیلئے ’’مضر‘‘ کے زمرے میں آسکتا ہے ۔ حالانکہ یہ صورتحال یعنی مہمانوں کی تواضع اور وہ بھی صرف چائے تک سے نہ کرنے کی روایت پختون کلچر کا حصہ نہیں ہے ۔ اور جہاں تک وزیرخزانہ کے خیالات عالیہ کا تعلق ہے کہ معیشت کا بائی پاس آپریشن کامیاب ہو جائے تو نہ صرف ٹریک پر آجائے گی بلکہ دوڑے گی بھی تو ہمیں ان کے آخری جملے سے اتفاق نہیں ہے ، کیونکہ یہ جو بائی پاس آپریشن ہو تا ہے اس سے ٹریک پر آنا تو خیر درست ہے تاہم اس کے بعد دوڑنے کی اجازت کوئی بھی کارڈ یالوجسٹ شاید نہیں دیتا ، بلکہ نارمل زندگی گزارنے کی تلقین کرتا ہے ، جبکہ وزیرخزانہ اس حوالے سے مرزا غالب کے پرستار نظر آتے ہیں جنہوں نے کہا تھا

لوگوں میںدوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ پٹکا تو پھر لہو کیا ہے

خیر جانے دیجئے ، ابھی توبائی پاس کی تیاری ہو رہی ہے جس کیلئے حکومتی جماعت نے ابتدائی طور پر سودن مانگے تھے اوراپوزیشن نے بھی فی الحال ہاتھ ہولا ہی رکھا ہوا ہے ، یہ الگ بات ہے کہ خود سرکار ایسی حرکتیں فرماجاتی ہے جس پر اندر باہر قہقہے ابھرتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ اسلام آبادی سٹیج پر کوئی مزاحیہ ڈرامہ چل رہا ہے جس میں کچھ بظاہر سنجیدہ اداکارمزاحیہ اداکاری کے تجربات کررہے ہیں اور جب کوئی سنجیدہ کردار اپنے چہرے کے تاثرات سے مزاح ابھارنے کی نادانستہ کوشش کررہا ہو تو سچویشن خاصی مضحکہ خیز ہوجاتی ہے اور تماشائیوں کو اپنی ہنسی ضبط کرنا محال ہوجاتا ہے ، سو آجکل بعض سرکاری اداکار اسی قسم کی مضحکہ خیز حرکتیں کرکے خود پر عوام کو ہنسانے بلکہ قہقہے لگانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ بعد میں انہیں اپنی ان حرکتوں کے نتائج دیکھ کر مراجعت کی سوجھتی ہے مگر تب تک تیر کمان چھوڑ چکا ہوتا ہے ۔ اس پر حفیظ جالندھری سے معذرت تو بنتی ہی ہے اگر ان کے شعر میں تھوڑی سی تبدیلی کرلی جائے کہ

دیکھا جو کھا کر تیر کمین گاہ کی طرف

’’اپنی ہی حرکتوں‘‘ سے ملاقات ہوگئی

معیشت ٹریک پر آئے نہ آئے ٹریک سے اترنے کے خدشات ضرور پیدا ہوگئے ہیں ۔ بات تو پختون روایات کی ہورہی تھی جو وزیراعظم عمران خان کی نئی حکمت عملی یعنی سادگی اختیار کرنے کی نذر ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ اگر چہ مہمانوں کی خاطر تواضع کے اس کلچر کی بیخ کنی کرنے کی یہ پہلی کوشش ہر گز نہیں ہے بلکہ مدتوں پہلے پختونوں کے ایک انتہائی اہم رہنما نے بھی پختون معاشرت کو بدلنے کیلئے نہ صرف انہیں تشدد سے باز رکھنے کی سعی کی بلکہ بعض دیگر عادتیں ترک کرنے کیلئے بھی جدوجہد کرتے ہوئے خود اپنی ذات کو عملی اقدامات کا نمونہ بنا کر پیش کیا ۔ پختونوں کو تعلیم کے میدان میں آگے کرنے کیلئے گائوں گائوں مدارس قائم کئے ، اور پختونوں کے حقوق کیلئے آوازبلند کرتے ہوئے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ انہوں نے پختون معاشرے کی اس روایت یعنی مہمانداری پر یوں کاری ضرب لگانے کی اپنی سی سعی کی کہ نہ خود کسی کو کچھ کھلاتے تھے نہ کسی کے ہاں کچھ تناول فرماتے تھے ، بلکہ جب وہ دورے پر نکلتے تو ایک پوٹلی میں روٹی جسے پشتون معاشرے میں سکڑک کہتے ہیں ، اپنے ساتھ رکھتے اور کسی کو بھی تکلیف دینے پر کبھی آمادہ نہ ہوتے ۔ وہ پختون معاشرے کو نئی روایات سے روشناس کراکے انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کیلئے ساری زندگی جدوجہد کرتے رہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ پختونوں نے صدیوں کی اپنی روایات یعنی مہمان نوازی کو ترک کرنے کے ان کے بھاشن کو ایک کان سے سنا اور دوسرے سے اڑادیا ۔ اس لئے اگرآج وزیراعظم عمران خان انگریزی لفظ Austerityمیں پناہ ڈھونڈتے ہوئے سرکاری اجلاس کے دوران چائے پلانے سے بھی گریز کی تلقین کر رہے ہیں تو اصولاًتو یہ اچھی بات ضرور ہے مگر سادگی اتنی بھی پھیکی نہیں ہونی چاہیئے وہ بھی خاص طورپر خیبر پختونخوا میں جہاں مہمان نوازی کے اصول وضوابط تو اس قدر راسخ ہیں کہ گھر آئے ہوئے دشمن کو بھی گلے سے لگا کر اس کا ہر طرح خیال رکھا جاتا ہے ، البتہ سادگی اختیار کرنے کے حوالے سے بابائے قوم کے اصولوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے ، جن کے کئی واقعات ان کے ساتھ وابستہ سرکاری حکام اور اہلکاروں کی زبانی بطور روایت ہم تک پہنچی ہیں ، جن میں سے ایک واقعہ تو مہمانوں کیلئے سیب پیش کرنے کے حوالے سے بھی ہے یعنی تین افراد کیلئے چار سیب رکھنے پر قائد اعظم ناراض ہوئے تھے کہ ایک سیب زیادہ کیوں رکھا ہے ۔ بابائے قوم کی بات آئی ہے تو ان کی سادگی اختیار کرنے یعنی فضول خرچی سے اجتناب کا قصہ ہمیں کوئٹہ جا کر معلوم ہوا ۔ جہاں پرنس روڈ پر ایک چھوٹا سا ہوٹل ہوا کرتا تھا ، پتہ چلا کہ اس ہوٹل کا مالک زیارت ریذیڈنسی میں قائد اعظم کا باورچی رہا تھا اور وہ اپنے ہوٹل میں دال روٹی فروخت کرتا تھا ۔ دال ایک خاص سائز کے بڑے پیالے میں ڈال کر دیتا ، کوئی مزید دال مانگتا تو صاف انکار کردیتا اور کہتا ، قائد اعظم اتنی ہی مقدار میں دال کھاتے اس لئے ان کی عادت اپنائو تو ملک ترقی کرے گا ۔

ان کا جو فرض ہے و ہ اہل سیاست جانیں

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

متعلقہ خبریں