Daily Mashriq

سعودی خواتین ترقی کی راہ پر

سعودی خواتین ترقی کی راہ پر

سعودی عرب کے جواں سال ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مملکت کو 1979ء سے پہلے والے سعودی معاشرے میں ڈھالنا چاہتے ہیں اس حوالے سے انہوں نے یہ تاریخی کلمات کہے۔’’ ہم اس جانب لوٹ رہے ہیں جہاں ہم پہلے تھے۔یعنی اعتدال پسند اسلام کا ملک ،جس کے تمام ادیان کے پیروکاروں اور دنیا کے لیے دَر وا ہیں۔ہم اپنی زندگیوں کے آئندہ تیس سال تخریبی نظریات سے نمٹنے میں نہیں گزاریں گے۔ ہم انہیں آج ہی تباہ کردیں گے‘‘۔1979ء سے قبل کا سعودی عرب 2017ء سے بعد کے سعودی عرب کی بنیاد اور ستون ہوسکتا ہے۔تاہم بہت سے لوگ سعودی مملکت کے اس روشن تاریخی دور اور سماجی مرحلے سے بے خبر ہیں۔1979ء سے قبل تعلیمی نصاب میں کھلے پن ، پرامن بقائے باہمی اور آزادانہ سوچ پر زوردیا گیا تھا۔پھر یکا یک رواداری اور برداشت کا یہ کلچر معدوم ہوگیا اور منافرت کا کلچر پھیل گیا۔خوشیوں اور خوش امیدی کے بعد مایوسی ، ناامیدی اور غیر مطلوب موت نے اپنا راستہ نکال لیا تھا۔اس مرحلے میں سعودی خواتین نے اپنے بہترین تشخص کی عکاسی کی تھی۔انہوں نے ایک مضبوط اور پراعتماد کردار کو اجاگر کیا تھا۔پھر کیا ہوا؟ وہ محاصرے کا شکار ہو گئیں،حالانکہ کسی بھی سماج میں خواتین کے بھرپور کردار سے انکار ممکن نہیں ہے۔2017ء میں نیا سعودی عرب 1979ء سے قبل کے خوش نما ماضی سے خود کو جوڑنے کی کوشش کررہا ہے۔اس مقصد کے لیے بڑے اور دور رس نتائج کے حامل فیصلے کیے جارہے ہیں۔ 2017ء سعودی عرب کے لیے بہت اہمیت کا حامل رہا، سعودی حکومت نے اپنے ملک اور اس کے لوگوں کی بھلائی اور خوشحالی کے لیے تاریخی فیصلے کیے، پچھلا سال سعودی عرب کی تاریخ میں ایک اہم سال کے طور پر لکھا جائے گا۔ سال 2017ء میں سعودی حکومت نے کچھ ایسے فیصلے کیے جنہوں نے سعودی عرب کی تصویر بدل کر رکھ دی ہے۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان اور ان کے 33 سالہ بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان نے اس سال شاہی خاندان کی جانب سے رائج برسوں پرانے قوانین، سماجی روایات اور کاروبار کرنے کے روایتی طریقوں میں تبدیلی پیدا کی۔ اب یہ دونوں شخصیات ملک کی نوجوان نسل کو ملک چلانے کے لیے آگے لا رہے ہیں۔سعودی حکومت نے ایک تاریخی اعلان میں عورتوں کے گاڑی چلانے پر سے پابندی ہٹا لی ، اس سے پہلے سعودی عرب دنیا کا واحد ملک تھا جہاں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں تھی۔1990ء سے سعودی عرب میں ایسے سماجی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا تھا جو عورتوں کے گاڑیاں چلانے کے حق میں مہم چلا رہے تھے۔ اس مقصد کیلئے سعودی عرب کی خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس کے بعد سعودی خواتین گاڑیوں کے علاوہ موٹر سائیکل بھی چلا رہی ہیں۔ سعودی عرب اپنی عورتوں کو خودمختار کر رہا ہے۔ ڈرائیونگ کی اجازت کی وجہ سے کئی ایسی خواتین کی زندگی آسان ہو جائے گی جو اس سے پہلے ہر کام کے لیے مردوں پر انحصار کرتی تھیں۔سعودی خواتین کو اسٹیڈیمز میں میچ دیکھنے کی بھی اجازت ہوگی۔ ان اسٹیڈیمز میں عورتوں کے لیے علیحدہ جگہ مختص کی جائے گی۔ 2017ء میں محمد بن سلمان نے عوام کا ردعمل دیکھنے کے لیے عورتوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے ریاض میں قائم اسٹیڈیم جانے کی اجازت دی تھی جہاں قومی دن کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا۔پینتیس سال بعد سعودی عرب میں سنیما گھر عوام کے لیے اس سال مارچ سے کھل گئے ہیں۔ یاد رہے کہ 1980 کی دہائی میں سعودی عرب نے سنیما گھروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس سے پہلے سعودی شہری سنیما میں فلم دیکھنے کے لیے دبئی یا بحرین کا سفر کرتے تھے۔ 2017ء میں سعودی عرب نے اپنی عوام کے لیے تفریح کے دروازے بھی کھول دیے۔سعودی عرب اس سال سے سیاحتی ویزوں کا اجراء بھی شروع کرے گا۔ سعودی حکام کے مطابق سعودی عرب کو ایک ایسا سیاحتی ملک بنایا جائے گا جہاں پر لباس کے حوالے سے کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ شہزادے محمد بن سلمان بہت سے مواقع پر اس بارے میں بہت واضح مؤقف دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو معتدل اسلام کی طرف واپس آنا ہوگا۔شہزادہ محمد بن سلمان کے جدت پسندانہ اقدامات کے باوجود سعودی عرب میں ابھی بھی دو طرح کے لوگ موجود ہیں ایک تو وہ ہیں جو اپنے شاندار ماضی کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں تاکہ دنیا سے کٹ کرنہ رہ جائیں جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی موجود ہیں جو اب بھی متشددانہ سوچ رکھتے ہیں اور بقول ان کے اسلامی تعلیمات سے روگردانی اسلام سے بغاوت کے مترادف ہوگی۔ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے جس جدت پسندی کی بنیاد رکھی ہے مغربی ممالک سمیت پوری دنیا میں اس کی تحسین کی جا رہی ہے تاہم سعودی عرب کو اپنے ماضی کی طرف واپس آنے میں سالوں درکار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں