Daily Mashriq

قومی اداروں کی نجکاری

قومی اداروں کی نجکاری

پاکستان 60 کی دہائی میں قرضہ دینے والا ملک تھا مگر اب پاکستان حد سے زیادہ قرضہ لینے والا ملک ہے۔ پاکستان کا بیرونی قرضہ95ارب ڈالر اور قومی مالیاتی اداروں سے لیا گیا قرضہ 28ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ حد سے بڑھ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی اور قومی مالیاتی ادارے پاکستان کو قرض دینے پر راضی نہیں کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ کہیں ان کے قرضے ڈوب نہ جائیں۔ اب حکومت اپنے وسائل پیدا کرنے اور ان کو بڑھانے کے بجائے قومی اداروں کو گروی رکھ رہی ہے۔ 2013 میں (ن) لیگ حکومت نے سکوک بانڈ کے اجراء کیلئے کراچی کے جناح بین الاقوامی ایئر پورٹ کو 182ارب روپے کے عوض گروی کر دیا۔ کراچی ایئر پورٹ صرف ایک دفعہ نہیںگروی رکھا گیا بلکہ دسمبر2015 میںکراچی ایئر پورٹ کے نام پر مزید 114ارب روپے اور فروری2016 میں 80.4ارب روپے لئے گئے۔ نہ صرف کراچی ایئر پورٹ گروی کیا گیا تھا بلکہ ساتھ ساتھ موٹروے اور قومی شاہراہوں کو بھی گروی کیا گیا۔ (ن) لیگ کی سابقہ حکومت نے اسلام آباد چکوال موٹروے کو ایک ارب ڈالر کے عوض گروی کیا تھا۔ 2014 میں (ن ) لیگ حکومت نے حافظ آباد موٹروے کو ایک ارب ڈالر کے عوض گروی کیا۔ 2014 ہی میں حکومت نے فیصل آباد پنڈی بھٹیاں موٹروے کو 49.5ارب روپے کے عوض گروی کیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ن لیگ حکومت پہلے پشاور لاہور موٹروے، فیصل آباد پنڈی بھٹیاں موٹر وے، اسلام آباد پشاور موٹروے اور اسلام آباد لاہور موٹروے کو گروی کر چکی ہے۔ اسی طرح 2006 میں حکومت نیشنل ہائی وے کو بھی گروی کر چکی ہے۔ جس میں مری مظفر آباد ڈبل کیرج وے، جیکب آباد بائی پاس، ڈی جی خان راجن پور ہائی وے اور اوکاڑہ بائی پاس گروی ہیں۔ علاوہ ازیں موجودہ پی ٹی آئی حکومت کی بھی یہ کوشش ہے کہ 200قومی اداروں کو کسی نہ کسی طریقے سے پرائیویٹائز کرے اور یا اس کو گروی کرے۔ اب اس کی کوشش ہے کہ پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو یا گروی کیا جائے یا اس کی عمارت کو قرضے پر دیا جائے جو ملک کے مفاد میں نہیں۔ ریڈیو پاکستان کی61عمارتیں ہیں اور حکومت نے ریڈیو پاکستان کی تمام بلڈنگز کی مالیت کا اندازہ 72کروڑ لگایا ہے۔ وزارت اطلاعات اور نشریات نے ملازموں کو ایک چھوٹی ریڈیو اکیڈمی میں شفٹ کرنے کو کہا تھا مگر ملازمین کے سخت ردعمل کی وجہ سے حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑا۔ سمجھ نہیں آتی پی ٹی آئی کی حکومت کس سمت جا رہی ہے۔

عوام کو اس سے بہت توقعات تھیں مگر اب اس نے عوام کو کچلنے کے اقدامات شروع کئے ہیں۔ جہاں تک ملک میں وسائل کی کمی ہے تو یہ بات بالکل غلط اور عقل سے بعید ہے۔ اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے بے تحاشا وسائل سے مالامال فرمایا ہے مگر ہمارے لیڈروں کی وہ سمجھ بوجھ نہیںکہ وہ اس سے استفادہ کر لیں۔ سوال یہ ہے کہ جو بڑے بڑے ادارے جس کسی زمانے میں ہماری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتے تھے وہ کیسے خراب ہو ئے۔ پی آئی اے یا دوسرے ادارے جو کسی زمانے میں اگر نفع بخش ادارے ہوا کرتے تھے اب یہ خسارے میں کیوں چل رہے ہیں اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اگر ہم ماضی میں کی گئی نجکاری پر نظر ڈالیں تو سال1991 سے سال2013 تک 167اداروں کی نجکاری تقریباً 467ارب روپے میں کی گئی ہے۔ ان میں نواز شریف کے دو ادوار میں 76اداروں کی نجکاری14.6 ارب روپے میں، پاکستان پیپلز پارٹی کے دو ادوار میں 26اداروں کی نجکاری 33ارب روپے میں جبکہ پرویز مشرف کے 10سالہ دور میں 62اداروں کی نجکاری 419ارب روپے میں کی گئی ہے۔ مندرجہ بالا اعداد وشمار سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان اداروں کی نجکاری 43گنا کم قیمت پر کی گئی۔ جہاں تک نجکاری کے پیسوں کا تعلق ہے تو طے شدہ قانون اور ضابطوں کے مطابق اس رقم میں 90فیصد رقم بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر اور 10فیصد عام لوگوں کے فلاح وبہبود پر خرچ ہونی چاہئے مگر نہ تو یہ رقم بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کی گئی اور نہ عام لوگوں کے سماجی اقتصادی اعشاریوں میں کوئی تبدیلی آئی بلکہ ان کے برعکس بیرونی قرضے بڑھ گئے اور عام لوگ بھوک وافلاس کی وجہ سے خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ اب پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 95ارب ڈالر اور ملکی مالیاتی اداروں سے لیا گیا قرضہ 29ہزار ارب روپے ہے۔ ایشیاء اور عالمی بینک کے مطابق پاکستا ن میں70فیصد یعنی 13کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹر حبیب احمد کا کہنا ہے کہ نجکاری سے مثبت رجحان کے بجائے منفی اثر پڑا اور عام چیزوں کی قیمتیں کم ہونے کے بجائے بڑھ گئیں۔ حقیقت میں ہمیں اچھی حکمرانی کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ ریاست کو کاروبار اور فیکٹری کی طرح چلانے کے بجائے ریاست کے طور پر چلاناچاہئے۔ اگر نفع نقصان کوئی پیمانہ ہے تو پھر قومی اور صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ، وزیراعظم اور صدر ہاؤسز، وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤسز کی بھی نجکاری ہونی چاہئے کیونکہ ان کا کام اچھی حکمرانی قائم کرنا اور عام لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کرنا ہے اور یہ سب اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں