Daily Mashriq


امریکہ سے دو ٹوک بات ہونی چاہئے

امریکہ سے دو ٹوک بات ہونی چاہئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان پر مختلف اہم ملکی فورمز پر بحث و مباحثہ میں ہر پہلو پر اتفاق کا مظاہرہ پارلیمنٹ' حکومت اور فوج کاایک قرطاس پر ہونا اطمینان بخش امر ہے۔ ہمارے اندرونی اختلافات اسی وقت ہی دب جاتے ہیں جب ہمیں کسی بیرونی دشمن ' سازش یا کسی بیرونی دبائو کا سامنا ہوتا ہے یہ اپنی جگہ احسن ضرور ہے لیکن زیادہ بہتر ہوگا کہ عام حالات میں بھی ایک بکھری ہوئی اور اختلافات و انتشار کا قوم ظاہر کرنے کی بجائے خود کو ایک متحد اور متین قوم بنا کر پیش کیا جائے اور اپنے داخلی معاملات کا حل ایک خاص اور مناسب حد کے اندر رہ کر کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں بحث کے دوران امریکی رسد کا راستہ بند کرنے' افغانستان میں طالبان کے ٹھکانے بند کرنے' امریکہ کے ساتھ فضائی و زمینی حدود کی فراہمی معطل کرنے اور حکام کے دورے ملتوی کرنے کے علاوہ اس امر کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ امریکہ سے بیس سالوں کے دوران جتنی امداد آئی ہے اس کا آڈٹ کیا جائے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد کے حوالے سے فیکٹ شیٹ جاری کی جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ امریکہ نے کتنی امداد دی اور ہمارا اس دوران کتنا نقصان ہوا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اگر خطے میں واقعی قیام امن کا خواہاں ہے تو اسے افغانستان میں موجود نہ صرف طالبان کے ٹھکانوں کو ختم کرنا پڑے گا بلکہ افغانستان میں داعش کے خلاف بھی موثر کارروائی کرکے دکھانا ہوگی۔ امریکہ اس کے باوجود پاکستان پر دبائو ڈالتا ہے کہ پاکستان نے شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت تمام قبائلی ایجنسیوں سے فوجی آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کا صفایا کیا مگر خود امریکہ افغانستان میں موجود پاکستان کے خلاف بر سر پیکار تحریک طالبان کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کی طرف کرتا ہی نہیں پاکستان نے جب قبائلی علاقہ جات کلیئر کردئیے تو اس کے باوجود ایک عرصے تک امریکہ میران شاہ میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کا واویلا کرتا رہا اور اب پشاور شوریٰ اور کوئٹہ شوریٰ کا راگ الاپا جا رہا ہے حالانکہ خود افغان حکام بھی اب اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ طالبان کی قیادت افغانستان منتقل ہوچکی ہے۔ امریکہ کی بلا ثبوت الزام تراشی ہی اس امر پر دال ہے کہ وہ یا تو پانی گدلا کرنا چاہتا ہے یا پھر اسے پاکستان کو دبائو میں لا کر افغانستان میں ان کو مزید حمایت و اعانت مطلوب ہے۔ جاری حالات میں امریکہ کا پاکستان کے ساتھ پانی گدلا کرنے کا امکان کم اور مشکل اس لئے ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں اپنی موجودگی اور بقاء کے لئے پاکستان کی حمایت مطلوب ہے اس تناظر میں قومی اسمبلی میں امریکی رسد کو روک دینے اور فضائی حدود کی فراہمی کی معطلی کی تجویز مناسب موثر اور قابل عمل ہے تاکہ امریکہ کو اس امر کی اہمیت جتا دی جائے کہ عملی طور پر پاکستان کے تعاون کی کیا اہمیت ہے اور اسے واپس لینے پر فریقین میں سے کس کا نقصان زیادہ اور مشکلات کا حامل ہے۔ اس بارے ذدو رائے نہیں کہ پاکستان امریکی امداد پر انحصار کرتا رہا ہے۔ گو کہ اسے یکطرفہ سمجھا جاتا ہے لیکن دنیا کے ممالک کے درمیان یکطرفہ فوائد سمیٹنے کا کوئی فارمولہ نہیں بلکہ نقد کی صورت میں ہو یا جنس کی صورت میں یا پھر مفادات کی صورت میں ادائیگی بہر حال ہوتی ہے اور کرنا پڑتی ہے۔ امریکہ پاکستان پر تو غیر مرئی عناصر تک کے خلاف کارروائی کے لئے دبائو ڈالنے سے ذرا نہیں ہچکچاتا مگر خود افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائی سے ہاتھ کھڑے کرچکا ہے۔ امریکہ کی اڑتالیس ہزار فوج واپس جا چکی ہے اور صرف گیارہ ہزار کے قریب فوجی موجود ہیں جو بیرکوں کے اندر امریکی مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں باقی افغانستان کو انہوں نے طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے خود ان کو طالبان کے نصف کے قریب افغانستان پر طالبان کا تسلط ہونے کا اعتراف ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام امور کو ایک طرف رکھ کر امریکہ سے اس امر کا استفسار کرنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی کامیابی اور کردار کیا رہا ہے۔ امریکی امداد کی آڑ میں وطن عزیز کے طول و عرض میں بظاہر فلاح انسانیت کی جو خدمات انجام دی جاتی ہیں اس کی اجازت اس وقت تک موقوف کی جائے جب تک امریکہ اور پاکستان کے درمیان نئی شرائط پر تعلقات میں تبدیلی نہیں لائی جاتی۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے حوالے سے پروپیگنڈے کا فوری توڑ کیا جائے۔ پاکستان میں امریکی سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے کے لئے کہا جائے۔ امریکہ سے تعلقات کے اس نئے موڑ پر قوم کو اس امر کا فیصلہ کرلینا چاہئے کہ وہ خود مختاری اور قومی وقار کے اصولوں سے متصادم کوئی صورت قبول نہیں کریں گے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو اگر امریکہ برابری کی بنیاد پر رکھنے کا خواہاں ہے تو اس میں مضائقہ نہیں۔ امریکہ کو ملنے والی خصوصی حیثیت و مراعات کے مزید جاری رکھنے سے سراسر انکار کیا جائے۔ افغانستان میں بھارت کو پاکستان کے خلاف اقدامات سے تو نہیں روکتا مگر پاکستان کو یہ حق دینے کو تیار نہیں کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے۔ اپنے مفادات کا تحفظ ہر ملک کا حق ہے اس میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے پورے وقار کے ساتھ امریکہ پر واضح کردیا جائے کہ پاکستان ان کی دھمکیوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے ۔ امریکہ کو پاکستان کی ایٹمی تنصیبات سمیت کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ امریکہ اگر خطے میں قیام امن کا خواہاں ہے تو اسے افغانستان میں خود کو درپیش چیلنجوں سے بہتر انداز میں نمٹنا ہوگا۔ امریکہ کو اگر افغانستان میں طالبان کا خاتمہ کرنے میں کامیابی ہوتی ہے تو فرضی پشاور اور کوئٹہ شوریٰ کا اپنے آپ کا خاتمہ ہوگا۔ طالبان کی قوت کا طاقت کسی شہر میں موجود شوریٰ میں نہیں بلکہ ان کی پوری قوت افغانستان میں ہے جہاں امریکہ کا تسلط ہے پاکستان کا نہیں۔

متعلقہ خبریں