Daily Mashriq


عوام کس سے منصفی چاہیں؟

عوام کس سے منصفی چاہیں؟

نیب کے حوالے سے ریمارکس پر نیب کے چیئر مین پراسیکیوٹر جنرل اور ڈائریکٹر جنرل آپریشنز کا پریس کانفرنس میں یہ سوال کہ جب بعض ادارے نیب پر ملزمان کو ریلیف دینے کا الزام لگاتے ہیں تو پھر یہی ادارے نیب کے پاس کیس کیوں بھیجتے ہیں؟ عدل و انصاف اور احتساب کے ذمہ داروں کا ایک دوسرے کے حوالے سے کلمات کی ادائیگی اور پھر ان کے سوالات عام آدمی کے ذہن میں ایک مرتبہ پھر اس سوال کے جواب کا متلاشی ہونا فطری امر ہے کہ جب اعلیٰ اداروں میں ہی انصاف و احتساب کے عمل میں ہم آہنگی نہیں اور وہی ایک د وسرے پر انگشت نمائی کر رہے ہیں توہماشما کس شمار اور قطار میں؟ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں عدل و انصاف کا شعبہ اگر مضبوط بن جائے اور لوگوں کو سستا انصاف ملنے لگے عدالتوں میں مقدمات کا فیصلہ پوتوں اور نواسوں کو ملنے کی بجائے دائر مقدمات کا فیصلہ مناسب وقت میں ہونا شروع ہو جائے اور لوگوں کو اس امر کا یقین آجائے کہ انصاف میں تاخیر نہیں ہوگی اور حقدار کو اس کا حق ضرور ملے گا تو آدھے سے زیادہ مقدمات عدالتوں میں جانے سے قبل ہی حل ہو جائیں گے۔ یہ انصاف و احتساب کے عمل کی کمزوری ہی ہے جس کے باعث آج رشوت' بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کسی کو یہ گمان بھی نہیں گزرتا کہ اس کا بھی اس دنیا میں احتساب ہوگا۔ بدقسمتی سے پولیس کا نظام ہو یا تفتیش کا یا پھر ہمارا عدالتی اور احتساب کا نظام اس کی کمزوری اور اس پر عدم اعتماد معاشرے میں ان عناصر کے لئے تقویت کا باعث ہے جو اپنے حدود میں مطمئن نہیں ہوتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو اعتراضات اور سوالات ایک دوسرے پر اٹھائے گئے ہیں ان کا مناسب فورم میڈیا اور سر عام ایسا کرنا نہیں بلکہ سنجیدہ طبقات اور اداروں کو ان سوالتا او اعتراضات کو بطور اعتراض اور جوابی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ درمندی کے ساتھ ان کو سنگین مسئلہ جان کر مل بیٹھ کر مشاورت سے سنجیدہ اور متین انداز میں ان کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اٹھایاگیا اعتراض اور پوچھا گیا سوال غلط نہیں لیکن جس طرح سوال اٹھایاگیا اور جس طرح اعتراض ہوا اس سے کوئی سنجیدہ مکالمہ ہوگا نہیں بلکہ اس سے عدم اعتماد کی فضا بڑھے گی۔ وطن عزیز میں ویسے بھی انصاف اور احتساب کے نظام پر اب عوام اور میڈیا کی توجہ زیادہ ہوگئی ہے۔ سیاستدان بھی جلسے جلوسوں میں یہی سوال دہرا رہے ہیں اب ادارے بھی مد مقابل آگئے ہیں تو عوام کس سے منصفی چاہیں؟

سرکاری و نجی سکول ایک قطار میں

پانچویں کے جائزہ امتحان میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ جس طرح نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کی کارکردگی بھی مایوس کن دکھائی گئی ہے اور طلبہ کے پڑھنے ' لکھنے اور سمجھنے کے عمل کو جس طرح کمزور بتایاگیا ہے اس طرح کی صورتحال میں سراسر مایوسی کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے تئیں اس کی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ معیاری نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ نے اس امتحان میں شرکت نہ کی ہو اور اگر ایسا نہیں تو پھر بورڈ کے حکام کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ جس معیار کے پانچویں کے بچے ان کے معیار کے مطابق نہیں تھے آخر دسویں کے امتحان میں وہ تقریباً سو فیصد کے قریب نمبر کیسے حاصل کرتے ہیں۔ کیا ان چار پانچ سالوں میں ان طالب علموں کے ہاتھ جادو کی چھڑی آجاتی ہے اور وہ نمبروں کی مشین بن جاتے ہیں یا پھر بورڈ میں آنکھیں بند کر کے پرچے چیک ہوتے ہیں۔ بہر حال جائزہ امتحان کے نتائج چشم کشا ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم و تعلم کی پستی کے ہم قائل بھی ہیں او اس کو قبول بھی کرچکے ہیں۔ حکومت اور محکمہ تعلیم کے حکام لاکھ انکار کریں مگر حقیقت یہ ہے کہ محکمہ تعلیم اب سرکاری ملازمین بھرتی کرکے ان کو سرکاری خزانوں سے تنخواہیں اور مراعات دینے کا ادارہ بن گیا ہے ۔ اگر محکمہ تعلیم فعال ہو تو سرکاری سکولوں کے معیار کی گرواہٹ کا یہ حال تو کم از کم نہ ہو۔ جہاں تک نجی تعلیمی اداروں کا تعلق ہے یہ سکول بھی اونچی دکان پھیکا پکوان ہی کی زندہ مثالیں ہیں لیکن معیاری سکولوں کی موجودگی سے انکار بھی ممکن نہیں ایسے نجی سکول ہیں جہاں طالب علموں کی تعلیم و تربیت اور نششوونما پر توجہ مہنگے داموں ہی سہی دی ضرور جاتی ہے۔ محولہ صورتحال میں جہاں محکمہ تعلیم اور نجی شعبہ دونوں ہی ناکامی کی تصویر بن چکے ہوں۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو سمجھ کر پڑھنے میں مدد دیں لکھائی اور پڑھائی کی مشق کرائیں۔

متعلقہ خبریں