Daily Mashriq


ٹرمپ کا اعلان…کرنے کے کچھ کام

ٹرمپ کا اعلان…کرنے کے کچھ کام

امریکہ کی نظر ثانی شدہ جنوبی ایشیاء پالیسی میں پاکستان پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں اور جو دھمکیاں دی گئی ہیں ان پر پاکستان بھر میں غم و غصہ کا اظہار فطری ردِ عمل تھا۔ لیکن اس اعلان کے بعدپاکستان پر لازم ہو گیا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان میں جو دھمکیاں ملفوف ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرے۔ ٹرمپ کے اعلان کے حوالے سے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس بلائے گئے ہیں۔ سینیٹ نے خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے بارے میں حکومت کو کچھ رہنما اصول ارسال کیے ہیں اور قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قراردادمیں ٹرمپ کے پاکستان کو ہدف بنانے کے ناقابلِ قبول رویے کو مسترد کیا گیا اور افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل نکلسن کے ان الزامات کو مسترد کیاہے کہ پشاور اور کوئٹہ میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔ قرارداد میں ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا گیا کہ امریکہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دیتا رہا ہے اور کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف رفاقت کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو 123ارب ڈالر کا نقصان ہوا جب کہ امریکہ کی سویلین اور فوجی امداد 22ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔ قومی اسمبلی نے امریکہ کی طرف سے بھارت کو افغانستان میں اہم کردار دینے کی بھی مذمت کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے اور کشمیریوں پر بھارت کے مظالم کی مذمت کی گئی ہے۔ پاک فوج کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ان اقدامات کو جاری رکھنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے بہترین کمانڈاینڈکنٹرول سسٹم کی حفاظت میں ہیں جنہیں دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا ہے۔قومی اسمبلی نے ٹرمپ کی جنوبی ایشاء پالیسی کو بھرپور طریقے سے مسترد کرتے ہوئے حکومت کو کچھ تجاویز بھیجی ہیں جن میں امریکہ کے لیے زمینی اور فضائی راستے دینے کے تعاون میں تعطل اور امریکہ اور پاکستان کے مابین سفارتی دوروں میں تعطل کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ امریکی امداد کے بند ہونے کی صورت حال سے عہدہ برآہونے کے لیے معاشی پالیسی مرتب کی جائے۔ پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی واپسی کے لیے بلیو پرنٹ تیار کیا جائے اور اس کی اطلاع امریکہ کو دی جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان سے کہا جائے کہ وہ اپنی سرزمین میں پاکستان مخالف دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی تمام سفارشات کابیان طویل ہوگا تاہم ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اب نئی خارجہ پالیسی مرتب کرنے والا ہے۔ ٹرمپ کے بیان پر غور کرنے کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کے ایک ہفتہ میں جو اجلاس ہوئے ہیں اور حالیہ اجلاس میں جو فیصلہ کیاگیاہے کہ کمیٹی کا ورکنگ گروپ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی پالیسی کو حتمی شکل دے گا۔ امریکہ کا اگرچہ کہنا ہے کہ وہ اب بھی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیارہے لیکن یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نئی جنوبی ایشیاء پالیسی کو تبدیل کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ تاآنکہ وہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اندازے کے مطابق ناکام ہو جائے۔ اس کے باوجود پاکستان میں پاکستان کی امریکہ پالیسی پر نظرِ ثانی کا پہلے سے موجود اتفاقِ رائے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں میں سامنے آیا ہے اس سے انحراف ممکن نظر نہیں آتا۔ اس لیے خود انحصاری کی پالیسی کے تحت آگے بڑھنا ہی پاکستان کے لیے واحد آپشن ہے۔ اس کے لیے کچھ فوری کرنے کے کام ہیں جو فوری شروع کر دیے جانے چاہئیں۔ (١)۔ پاکستان میں مقیم افغانوں کی رجسٹریشن جاری ہے جسے جلد مکمل کرنے کے بعد ان کی افغانستان واپسی کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ (٢)۔ پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی کا کام جلد ازجلد مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ امریکہ اگر افغانستان میں مزید فوج بھیج کر کوئی نیا ایڈونچر کرنا چاہے تو اس کے نتیجے میں نئے ''افغان مہاجر'' پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں۔ باڑھ بندی کی تکمیل کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ پاکستان بین الاقوامی کمیونٹی کو بتا سکے گا کہ اس نے غیر قانونی طور پر پاک افغان سرحد پار کرنے کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے۔ اس لیے یہ امکان نہیں کہ کوئی پاکستان سے جا کر افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر سکے جو افغانستان اور امریکہ کا سدا بہار الزام ہے۔ (٣)۔ پاکستان کو امریکہ کی فوج کی افغانستان میں موجودگی سلامتی کونسل میںچیلنج کرنی چاہیے ۔ جس کی وجہ سے افغانستان میں امن قائم ہونے کی بجائے مستقل بحران کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور اب وہاں داعش ایسی سفاک دہشت گرد تنظیموں نے بھی پاؤں جمانے شروع کر دیے ہیں۔ امریکہ نے سلامتی کونسل سے افغانستان پر فوج کشی کی اجازت اس بنا پر لی تھی کہ افغانستان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے پاس ایٹم بم مبینہ طور پر موجود تھا، اس ایٹم بم اور القاعدہ سے عالمی امن کو خطرہ ہے۔ لیکن افغانستان پر امریکہ کی یلغار اورقالینی بمباری کے باوجود وہاں ایٹم بم کاوجود ثابت نہ ہو سکا۔ امریکی حملے کے بعد سولہ سال کے عرصے میں اسامہ بن لادن کو امریکہ نے قتل کر دیا اور اسامہ کو پناہ دینے والے طالبان کے لیڈر ملا عمر وفات پاچکے ہیں۔ القاعدہ منتشر ہوگئی ہے اور اس کے عناصر تتر بتر ہوگئے ہیں یا ملک عدم کوسدھار چکے ہیں۔ اس لیے امریکہ کی افغانستان میں موجودگی افغانستان اور خطے میں امن واستحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو چکی ہے۔ اس کی بجائے اقوام متحدہ کو افغانستان میں امن فوج بھیجنی چاہیے اور ریفرنڈم کرانے کا بندوبست کرنا چاہیے۔ (٤)۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میںتبدیلی آنے کے باعث پاکستان کے لیے جو اقتصادی مشکلات پیدا ہوں گی ان کابے لاگ جائزہ لیا جائے اور اس کے اثرات سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ عوام کی سطح پر یہ معلوم ہو کہ پاکستان کو آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی اور عوام پاکستان کے عزت و وقار کی خاطر یہ قربانی دینے کیلئے تیار ہوں۔

متعلقہ خبریں