Daily Mashriq


میرا پیارا شہر پشاور

میرا پیارا شہر پشاور

ہم سب نے مل جل کر اپنے پیارے شہر کو خوبصورت بنانا ہے اس کے باسی اس سے ٹوٹ کر پیار کرتے ہیںپشاور کے ہر حاکم کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ اس کی پہلی ترجیح پشاور کی زیبائش و آرائش ہوگی بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی والے اس شہر کے مکینوں کے لیے اس قسم کی یقین دہانیاں تازہ ہوا کے جھونکوں جیسی ہوتی ہیں ہر نیا آنے والا جب پشاور کے باسیوں سے اس قسم کے وعدے کرتا ہے تو انہیں ایک امید تو ضرور پیدا ہوجاتی ہے کہ اب تو ضرور کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا پشاور کی سختی معاف ہونے کے دن آگئے ہیںاس وقت ان کے لبوں پر ایک دعا ضرور مچلتی ہے کہ اے اللہ ہمیں ایک ایسا ناظم عطا کر جو حقیقی طور پر پشاور کا بیٹا ہو اسے پشاور سے محبت ہو وہ پشاور کی زبوں حالی کو خوبصورتی میں بدلنے کا ہنر جانتا ہو پشاور کے لوگوں کے لیے درد دل رکھتا ہو اسے پشاور کی تاریخی حیثیت کا پورا پورا شعور ہواگر پشاور کو کوئی ہمدرد اور دیانت دار رہنما مل جاتا ہے تو یہ شہر پشاور کی بہت بڑی خوش قسمتی ہوگی پشاور کے لوگ ایک عرصے سے اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کوئی ایسا رہنما مل جائے جو ان کی ڈولتی ہوئی کشتی کو پار لگادے یہ دعا تو اپنی جگہ لیکن پشاور کے باسیوں نے پشاور کو خوبصورت بنانے میں اپنا کردار بھی ادا کرنا ہے اپنے قریبی ہمسائے چین ہی کو دیکھ لیجیے چین میں ہر گھر کے آگے جو تھوڑی سی خا لی جگہ موجود ہوتی ہے وہاں وہ لوگ پودے لگا دیتے ہیںسبزہ اگاتے ہیں جس سے فضا میں آکسیجن بڑھ جاتی ہے گلیوں میں ایک خوبصورت مہک کھلی رہتی ہے سبزہ نگاہوں کو کتنا اچھا لگتا ہے بھینی بھینی مہک قوت شامہ کو کتنی اچھی لگتی ہے دل و دماغ تراوٹ محسوس کرتے ہیں چاروں طرف سبزہ و گل ہوں تو ذہن چاق و چوبند اور ترو تازہ رہتا ہے نجانے ان لوگوں نے یہ تربیت کہاں سے حاصل کی انہیں یہ شعور کیسے ملا کہ گھر کے آگے سبزہ ضرور اگانا ہے پودے لگانے ہیں ماحول کو بہتر بنانا ہے اسے رہنے کے قابل بنا نا ہے چین کے گلی کوچوں کے حوالے سے بات چلی تو کچھ ذکر خیر اپنے پیارے شہر پشاور کی گلیوں کا بھی ہوجائے گلیوں کی پختگی اور مرمت کا وعدہ ان سے سب کرتے ہیں اور کئی مرتبہ ان گلیوں کی مرمت بھی ہوچکی ہے لیکن یہ مرمت بھی عاشق نامراد کے دل جیسی ہوتی ہے بس ذرا سی چوٹ لگنے سے جیسے دل ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح یہ ناتواں گلیاں بھی ہلکی سی چوٹ سے توڑ پھوڑ کا شکار ہوجاتی ہیں ٹھیکیدار صاحب نے ان گلیوں کی مرمت کرتے وقت ریت کا بے تحاشہ استعمال کیا ہوتا ہے سیمنٹ کا کہیں دور دور تک پتہ ہی نہیں ہوتا اس لیے یہ گلیاں بھی نامراد عاشق کی طرح ہمیشہ خستہ و ناتواں ہی رہتی ہیں اور پھر سونے پر سہاگہ یہ ہوتا ہے کہ اسی گلیوں کے مکیں اپنے گھروں کے کوڑے کرکٹ سے ان گلیوں کو مزید آلودہ کرتے رہتے ہیںجو ایک آدھ ڈسٹ بن کسی گلی میں ہوتا بھی ہے تو اسے استعمال کرنے کی زحمت کوئی گوارا نہیں کرتا بلکہ کوڑے دان کے پہلو میں گندگی کا ڈھیر گلی کی فضا کو نجس کیے رکھتا ہے ایسے مہربانوں کی بھی کمی نہیں ہے جو گھر سے کوڑے کا شاپر تو لے کر نکلتے ہیں لیکن کوڑے دان تک جانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے اور خاموشی سے کسی شریف آدمی کے گھر کے آگے کوڑے سے بھرا ہوا شاپر رکھ کر ناک کی سیدھ میں چل پڑتے ہیںلوگوں کے آنے جانے سے یہ کوڑا پوری گلی میں پھیل جاتا ہے اس معاملے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ کسی اور کے گھر کے آگے کوڑا ڈالنے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ اس سے نقص امن کا اندیشہ ہوتا ہے آپ کسی کے گھر کے آگے کوڑے کا شاپر رکھ ہی رہے ہیں کہ گھر سے صاحب خانہ نکل آتا ہے تو بس پھر ایک خوفناک لڑائی تو ہر حال میں ہوگی اس کا علاج یا ر لوگوں نے یہ نکالا ہے کہ وہ چپکے سے کسی سکول یا مسجد کے پہلو میں کوڑا کرکٹ گرادیتے ہیں یہ صورتحال ہمارے شہر کی کئی گلیوں میں موجود ہے جب شہر کے رہنے والوں کو اپنے شہر کی صفائی کا خود خیال نہ ہو جب ایک گلی کے رہنے والے اپنی گلی کی صفائی ستھرائی سے بے پرواہ ہوں تو اپنے کیے کا علاج تو کسی کے پاس بھی نہیں ہوتاصفائی انسان کے گھر سے شروع ہوتی ہے ایک پرانی چینی کہاوت ہے کہ اگر ہر شخص اپنے گھر کے آگے تھوڑی سی جگہ صاف کرلے تو پورا معاشرہ صاف ہوجائے گاجن لوگوں کو خود اپنی زبوں حالی کا احساس نہ ہو ان کی مدد کون کرسکتا ہے اندرون شہر بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں کوڑے دان کا صرف ڈھانچہ باقی بچاہے اب کوڑے کرکٹ کا ڈھیر اس ڈھانچے سے باہر نکل کر گلی میں پھیلا رہتا ہے گلی محلے میں رہنے والا وہ شخص بھی بڑا مظلوم ہوتا ہے جس کے گھر کے آگے کھلی جگہ موجود ہو اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس کے پڑوسی یہاں اپنے اپنے گھر کا کوڑا پھینکنا شروع کردیتے ہیں وہ بیچارا وہاں چارٹ لگاتا ہے کہ یہاں کوڑا پھینکنا منع ہے لیکن لوگ اس قسم کی باتوں پر کب کان دھرتے ہیں بس نظر چرا کر چپکے سے اسی کھلی جگہ کوڑا ڈال دیا جاتا ہے۔ پشاور ہم سب کی ذمہ داری ہے اسے ارباب اختیار کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا مناسب نہیں ہے ہمارا موقف صرف یہ ہے کہ جو ہمارے اپنے کرنے کے کام ہیں وہ تو ہمیں کرنے چاہییں جب ہم اپنی ذمہ داری بھی شہر کی صفائی کے حوالے سے پوری نہیں کررہے تو پھر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے سے کیا ہوگاپشاور شہر سب سے پہلے ہم سب کی ذمہ داری ہے ہم نے اپنے آپ کو اس حوالے سے بیدار کرنا ہے ہم دوسروں سے تو شکوہ و شکایت تو بہت کرتے ہیں لیکن ہم نے اس حوالے سے کبھی اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی! 

متعلقہ خبریں