Daily Mashriq


پاک چین دوستی کی تکمیل

پاک چین دوستی کی تکمیل

پاکستان اور چین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاک چین دوستی کو مزید بلندیوں پر لے جائیں گے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے دونوں ملکوں نے چین پاکستان اقتصادی راہدای کی تعمیرکا فیصلہ کیا۔ چین اس منصوبے میں 54 ارب ڈالراور پاکستان 15ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ چین'پاکستان اقتصادی راہداری دراصل اْس پرانی شاہراہ ریشم کی ایک نئی شکل ہے جس کے ذریعے چین ہزاروں سال پہلے برصغیر، وسطی ایشیا ، مشرقی وسطیٰ اور یورپ کیساتھ تجارت کرتاتھا۔ چین کے تجارتی قافلے موجودہ پاکستان کے علاقوں سے گزرکر منزل مقصود پہنچ جاتے تھے۔ چین کی تنگ حکمرانوں اور آریائی بادشاہوں کے درمیان دوستانہ مراسم تھے اور تجارت کے معاملے میں ایک دوسرے کیساتھ بھرپور تعاون کرتے تھے۔حکمران مینگ خاندان نے اس تجارت کو مزید وسعت دی اور کاروبار کو افریقہ تک بڑھا دیا۔ چینی تاجر کراچی کے ساحل سمندر سے کشتیوں میں بیٹھ کردور دور تک سفر کرتے تھے۔ سی پیک چین کے ایک علاقہ، ایک شاہراہ منصوبے کا ایک اہم جزو ہے۔جسکے ذریعے چین ہمسایہ ملکوں اور خطوں کو سڑکوں اور ریل کے ذریعے ایک دوسرے سے ملاناہے۔ سی پیک کو 2030تک مکمل کیا جائیگا اور اس سے تین ارب آبادی کو فائدہ ہوگا۔ سی پیک سے پورے علاقے میں امن، استحکام اور خوشحالی آئیگی۔ اس منصوبے سے خطے کے تمام لوگ مستفید ہونگے۔ سڑکوں اور ریلوے لائن کے علاوہ سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی سے متعلق کئی ایک منصوبے مکمل کئے جائیں گے جس کی بدولت ملک میں بجلی کی کمی کے مسلے پر قابو پالیاجائے گا۔ اگلے سال کوئلے، گیس اور شمی توانائی کے متعدد منصوبے مکمل کرلئے جائیں گے۔ جس سے 10040میگاواٹ بجلی پیدا کی جائیگی۔اس سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ اس کے ساتھ ساتھ سی پیک سے دس لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا۔

اس وقت ہزاروں پاکستانی نوجوان چین میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی نوجوان چینی زبان سیکھنے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور اْن کے لئے سی پیک میں روزگار ملنے کے روشن امکانات ہیں۔ سی پیک سے پورے پاکستان کو فائدہ پہنچے گا۔اس سے سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس علاقے کا سیاحت کے حوالے سے کوئی ثانی نہیں۔ دْنیا کی آٹھ بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ پاکستان میں واقع ہیں۔ ان چوٹیوں میں کے ٹو اور نانگاپربت بھی شامل ہیں۔ باقی دیگر چوٹیوں کی اْنچائی 8000میٹر تک ہے۔ سی پیک کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے روس، ایران اور کچھ یورپی ممالک نے بھی اس میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے کیونکہ یہ راہداری مستقبل میں عالمی سطح پر تجارت اور کاروبار میں نمایاں کردار ادا کریگا۔ اب جبکہ پاکستان اور چین نے سی پیک پر کام کا اغاز کر دیا ہے تو بعض ممالک نے اس منصوبے میں روکاوٹیں ڈالنے کا تہیہ کر لیاہے۔ اس سلسلے میں بھارت پیش پیش ہے۔ پاکستان نے بھارت سے کہاہے کہ اگر وہ چاہیں تو سی پیک میں شامل ہوسکتاہے۔ لیکن بھارت فی الحال ایساکرنے کیلئے تیارنہیں ہے کیونکہ اْسے یہ بات معلوم ہے کہ سی پیک سے پاکستان اور پاکستانی عوام کو فائدہ ہوگا جس کے لئے وہ کسی بھی صورت میں تیار نہیں ہے۔ بھارت کی شروع ہی سے یہ کوشش رہی ہے کہ سی پیک منصوبے کو ناکام بنا دیا جائے۔ بھارت کے ایک دانشور جوادیوا راندے کا کہنا ہے کہ سی پیک کیوجہ سے اْنکے ملک پر شدید دباو آسکتاہے۔ اس لئے مئی 2015میں جب بھارت کے وزیراعظم مودی نے چین کا دورہ کیا تو انھوں چینی رہنمائوں سے یہ درخواست کی کہ سی پیک منصوبے کو ترک کر دیں۔ لیکن مودی کو جواب ملا کہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لائیں اور مقبوضہ کشمیر کے دیرینہ مسلے کو حل کرانے کے لئے عملی اقدامات کریں۔ چین کا جواب پاکستان کی سفارتی محاذ پر فتح اور بھارت کی شکست تھی۔ بھارت نے معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے سی پیک سے متعلق تین نکاتی لائحہ عمل اختیار کیا ہوا ہے۔ بھارت کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ سی پیک کی تکمیل کو ناممکن بنایا جائے۔ اگر اس مقصد میں ناکامی ہو تو پھر اس مکمل ہونے کے عرصے کو دہشت گردی کے ذریعے طول دی جائے اوربھارت یہ پالیسی بھی ناکام ہوجائے تو پھر سی پیک میں کسی نہ کسی طریقے سے شامل ہو جائیں۔ پہلے مقصد کے حصول کی غرض سے بھارت نے بعض دہشت گرد تنظیموں اور قوم پرست عناصر کی خدمات حاصل کی ہیں۔ پاکستانیوں بالخصوص نوجوانوں کو سی پیک سے متعلق گمراہ کر نے کے لئے بھارت نے اپنی تمام سرکاری مشینری کو متحرک کیا ہوا ہے۔ نوجوانوں کو سی پیک سے بدظن کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کیا جارہاہے۔ تاہم پاکستانی قوم نے اس منصوبے کوکامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پختہ ارادہ کیا ہوا ہے۔ سی پیک پر کام کرنے والے چینی کارکنوں اور انجینئرز کی حفاظت کے لئے پاک فوج کا ایک خصوصی ڈویژن تشکیل دیاگیاہے۔اس طرح خیبر پختونخواہ حکومت نے بھی سی پیک کی حفاظت کے لئے تقریبا4 ہزار افراد پر مشتمل ایک فورس تشکیل دینے کی منظوری دی ہے۔ یہ پوری پاکستانی قوم کی ذمہ داری ہے کہ سی پیک کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے اپنے صفوں میں اتحاد اور اتفاق برقرار رکھیں تاکہ اْن تمام عناصر کے مذموم عزائم کو خاک میں ملایا جاسکے جو سی پیک کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں