Daily Mashriq


سیاسی جماعتیں' ان کے منشور اور عوام

سیاسی جماعتیں' ان کے منشور اور عوام

منشورو دستور آج کے جمہوری نظام میں ہر سیاسی جماعت کے لئے ایک لازمی چیز ہے۔ اس کے ذریعے وہ الیکشن کمیشن کے ضروری تقاضے پورے کرنے کے علاوہ عوام کو بہلانے' پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بہت کم ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے اپنے منشور کے کم از کم بڑے بڑے نکات اور عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا ہو۔ اس کی کوتاہی کی کیا وجوہات ہیں اس پر تفصیلی بات کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ اسلام ہی ہے جس نے ساری انسانیت کے لئے تعلیم کو امر قرار دے کر لازمی کرلیا۔ اسلام ہی میں ہر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرکے اور عمل پیرا ہو کر دوسروں تک نہیں پہنچا سکتا۔ یہ صرف مولوی مولانا کاکام نہیں ہے۔ اسی بات نے مسلمانوں کے ''اندر بحیثیت فرد و قوم احترام انسانیت کے ساتھ خودی اور خود داری اور خود اعتمادی کا ایسا جوہر پھیلایا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی کو غلام بنالے۔ اسلام ہی نے سکھایا کہ ہر انسان اپنی ماں سے آزاد پیدا ہوا ہے۔ یہ سلسلہ ایک مدت تک مسلمان معاشروں میں جاری و ساری رہا اور مسلمان ایک غالب و طاقتور قوم و امت کی حیثیت سے جیتے رہے۔لیکن جب استعمار نے امت پر غلبہ پایا تو نظام تعلیم کے ساتھ مقاصد تعلیم بھی تبدیل ہوئے اور پھر جب مسلمان ممالک میں استعماری طاقتوں اور ملکوں نے خلافت کو پارہ پارہ کرکے ستاون ملکوں میں تقسیم کیا تو یہاں جو سیاسی نظام ورثے میں دیا وہ نام کو تو جمہوری نظام تھا لیکن مغرب اور مسلمانوں کے ہاں جمہوری نظام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسی سبب ہمارے ہاں کی سیاسی جماعتیں منشور ودستور کے حاملین ہونے کے باوجود کبھی مغربی سیاسی جماعتوں کی طرح عوام کو جوابدہ نہ ٹھہریں بلکہ وطن عزیز میں گزشتہ ستر برسوں سے جو کھیل جاری ہے وہ یوں ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ذریعے جب کبھی لولی لنگڑی جمہوریت آتی ہے تو ان آمر نما جمہوریت سے تنگ آکر عوام کسی آمر کے آنے کی دعائیں مانگنے لگتے ہیں اور آمر کے آنے پر مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور جب آمر دس گیارہ سال کے لئے قبضہ جما لیتا ہے تو جمہوری سیاسی جماعتیں عوام کو جمہوریت کے نام پر دہائی دے دے کر سڑکوں پر جلسوں جلوسوں میں لے آتے ہیں اور خدا خدا کرکے آمر کو رخصت کرلیتے ہیں اور پھر وہی پرانی روش کہ عوام سیاسی جماعتوں سے ان کے منشور کے مطابق کارکردگی کا مطالبہ و تقاضا کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور کے اہم نکات یاد تک نہیں رہتے۔ اگر ہماری سیاسی جماعتیں خواہ اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر تہیہ کر لیں کہ ہم نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنے عوام کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے اپنا کردار خلوص اور خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کرنا ہے تو اس کے مثبت نتائج بہت جلد قوم کے سامنے ہوں گے۔ کیا ہمارے امیر کبیر کروڑ پتی ارب پتی سیاستدان اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں دو تین اچھے سکول جس میں تعلیم مفت ہو قائم کرکے ایک مخلص ٹیم کے ذریعے نہیں چلا سکتے۔ اسی طرح ہر حلقہ میں ایک ایسا ہسپتال جس میں فوری طبی امداد کے علاوہ آئوٹ ڈور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات موجود ہوں نہیں بنوا سکتے؟ یہ دونوں کام یعنی سکول و ہسپتال بنانا اتنا مشکل کام نہیں ہے لیکن ہمارے سیاستدانوں کو یہ بات ''وارہ'' نہیں کھاتی کہ عوام تعلیم یافتہ ہو کر اپنے آپ کو دریافت کرتے ہوئے سیاستدانوں سے اپنے بنیادی جمہوری حقوق کے ساتھ انسانی حقوق کا بھی سوال کر سکیں۔ ان کو محتاج' مجبور' معذور اور بے بس و بے چارے عوام کی ضرورت ہے جو چار پانچ سال بعد ان کے صندوقوں کو ووٹ سے بھروائیں۔

تعلیم یافتہ انسان میں خودی کا پیدا ہونا لازمی امر ہے اور خودددار انسان ٹوٹ سکتا ہے جھک نہیں سکتا۔ تعلیم یافتہ انسان شعور رکھتا ہے اور خیر و شر میں تمیز کی پہچا ن رکھتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اگر ہمارے اٹھانوے فیصد عوام تعلیم یافتہ ہو جائیں تو کیا ہمارا سیاسی نظام اس طرح چلے گا۔ عوام پارلیمنٹ میں ایسے ہی نمائندے بھیجیں گے جو پانچ سال میں پارلیمنٹ سے سارے مراعات حاصل کرکے بھی ایک گھنٹہ کبھی عوامی مسائل پر نہ بات کر سکا ہو اور نہ بات کرنے کا اہل ہو۔

سرکاری خزانے سے سکول' کالج' یونیورسٹی' ہسپتال' سڑک' عمارتیں و دفاتر بنوا کر ان پر اپنے ناموں کی تختیاں لگوانا اور اس پر تو تو میں میں کرنا کہ یہ منصوبہ ہم نے بنایا تھا کوئی بڑی بات نہیں۔ بڑی بات تب ہوگی جب ہمارے یہ ارب کھرب پتی سیاستدان عوام کے درد میں اپنا پیسہ خرچ کرکے کوئی خیر و فلاح کا ادارہ قائم کروالے اور پھر اس کی پیشانی پر چمکتی دمکتی لوح لگالے تو عوام اسے جب بھی دیکھیں گے عقیدت سے جھک کر سلام کریں گے۔ عبدالستار ایدھی اور الخدمت فائونڈیشن کی طرح مزید فلاحی اداروں کی عوام راہیں تک رہے ہیں۔

وقت بدل رہا ہے' زمانہ بدل چکا ہے۔ پاکستان بدل رہا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کو بدلنا ہوگا ورنہ عوام کے دلوں میں ان کے لئے عقیدت و احترام میں کمی ہوتی رہے گی جو کوئی اچھا شگون نہیں ہوگا۔ وطن عزیز کے ارد گرد جو طوفان برپا ہیں اس میں سیاسی جماعتوں ' اپنی ذات اور جماعتی سیاست سے اوپر اٹھ کر صرف اور صرف پاکستان اور عوام کے لئے سوچنا اور کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں