Daily Mashriq


بڑی عید اور تیمرگرہ کی بجلی

بڑی عید اور تیمرگرہ کی بجلی

تیمر گرہ سے باجوڑ کی طرف جائیں تو ایک علاقہ منڈہ آتا ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر تاج الدین کے عزیزوں کے گھر ہماری دعوت تھی ۔ پروفیسر اختر جان بھی ساتھ تھے ۔ جب وہاں پہنچے تو بجلی کوحسب معمول عنقا پایا۔سولر پنکھا غنیمت تھا جس کے سامنے بیٹھ کر گرمی کے احساس کو کم کیا ۔چائے ، پھر کھانا ، مگر اس دوران موضوع گفتگو بجلی ہی رہا ۔ تیمر گرہ ایک ایسا علاقہ ہے کہ جہاں سے ہزاروں لوگ دیار غیر میں مزدوری کرکے نہ صرف اپنے گھروں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ کثیر زرمبادلہ بھیج کربھی ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں لیکن بدلے میں حالت یہ ہے کہ ایک آدھ گھنٹے کے لیے بجلی چھوڑ دی جاتی ہے جس کے دوران لوگ پانی کا پمپ ہی چلا سکتے ہیں یا پھر کپڑے دھونے یا استری کرنے کے ناگزیر کام ہی کرپاتے ہوں گے۔ کتنا عجیب لگا یہ 2017ء کا پاکستان ہے ۔ ادھر ہم ٹرمپ کے خلاف جلسے جلوس نکال رہے ہیں کہ میاںٹرمپ ہم تمہارا جینا حرام کردیں گے اور حالت یہ ہے کہ بجلی جیسی بنیادی ضرورت سے ہم عوام مستفید نہیں ہیں ۔ اس دوران ڈاکٹر صاحب کے ایک کزن بھی آگئے ۔ نام مجھے یا د نہیں رہا ۔ پڑھے لکھے تھے اور بڑی نپی تلی گفتگو کررہے تھے ۔ باتوں باتوں میں انہوں ذکر کیا۔ بجلی کی وجہ سے فریزر اور ڈیپ فریزر ہم لوگوں نے بند کررکھے ہیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ الماری کے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ بڑی عید آنے والی ہے ۔ قربانیاں ہوں گی ۔ اب فریزر اورفریج کارآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہم لوگ گوشت کو جلدی جلدی ٹھکانے لگانے کی جستجو کرتے ہیں ۔ اکثرقربانی کے دوسرے تیسرے دن لوگ گوشت پھینک دیتے ہیں ۔ بس جو ایک دو دنوں میں کھالیا سو کھالیا ۔ یقین کریں اس دوست کی یہ بات سن کر دل زخمی سا ہوگیا ۔ یہ کیسی حکومتیں ہیں کہ جو عوام کو سکھ ہی نہیں دے سکتیں ۔ عوام کا مقدربس دکھ ہی سہنا ہے ۔حکومتوں کی اپنی مصلحتیں ، سنوتو آنکھوںمیں آنسو آجائیں ۔ عجیب معاملے ہیں کوئی کیسے سمجھے ۔ عید کی بات ہورہی ہے تو آج کل ہر شہر اور اس کا ہر بازار مویشی منڈی کی تصویر بنا ہوا ہے ۔ قربانی کے جانور ادھر سے ادھر لائے لیجائے جارہے ہیں ۔ کبھی کبھی کوئی شور اٹھتا کہ جانور بھاگ کھڑا ہوا لوگ اس کو پیچھے پکڑنے کے لیے بھاگ رہے ہیں ۔ ہر طرف یہی فقرے گھومتے دکھائی دے رہے ہیں ۔''کتنے کا خریدا''۔''دوندا ہے ؟' ' ۔''کس منڈی سے لیا ''۔ ''ماشاء اللہ اچھا لیا ہے بھائی ''۔دنبہ بکر اور گائے بیل ہی موضوعات ہیں ۔ بچوں کی خوشی دیدنی ہے ۔ نچلے نہیں بیٹھ رہے ۔میں اس ماحول میں بس ایک دعاکرتا ہوںیا اللہ جنھیں تونے قربانی کی استطاعت نہیں دی انہیں بھی اپنی جانب سے وہ قوت عطا کرکہ اس لازوال خوشی سے وہ بھی مستفید ہوسکیں ۔ہم البتہ اتنا کرسکتے ہیں کہ عزیزوں رشتہ داروں میں ان لوگوں اپنے یہاں دعوت دے سکتے ہیں کہ جو قربانی نہیں کرتے ۔ اور یہ دعوت ایسی ہونی چاہیئے کہ انہیں احساس ہو کہ یہاں انہی کا جانور کٹ رہا ہے ۔ اللہ کی نعمتیں تو ختم ہونی نہیں تو انسان کیوں نہ دریا دلی کا مظاہرہ کرے ۔ کیوں نہ ہم اپنے عزیزوں رشتہ داروں کواور دوستوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں ۔ خوشی ہے بھی کیا ؟ خوشی تو بس ایک احساس ہے ۔ اگر انسان سوچے کہ اللہ کے بندے تو بہت ہیں ۔ کتنے ہیں کہ جنہیں ہم جیسی خوشیاں نصیب نہیں ،تو فوراً شکرکا ایک احساس دل میں موجز ن ہوتا ہے ۔ شکر گزاری کا یہ عالم انسان کو دوسرے انسان کی جانب لے جاتا ہے ۔ انسان سوچتا ہے کہ اللہ اپنی تقسیم پر خوب سمجھتا ہے ۔ مجھے دے سکتا ہے تو اسے بھی دے سکتا تھا ۔ مجھے جو دیا وہ میرا امتحان اور جسے نہ دیا اسے نہ دینا اس کا امتحان ۔ لیکن دونوں نے صبر اور شکر کے فارمولے سے اس امتحان کو پاس کرہی لینا ہے ۔ یہاں جسے دیا گیا ہے اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھے ۔ تہواروں کے ساتھ حادثات بھی لازمی ہوتے ہیں ۔ عیدکا دن خوشی کا دن ہے لیکن جہاں ایک ہی وقت میں لاکھوں جانور اللہ کی راہ میں قربان کیے جارہے ہوں ۔ چھریوں ٹوکوں جیسے تیز دھار آلے چل رہے ہو۔ ہرایکزاناڑی قصاب بنا بیٹھا ہوتو ایسے میں چھوٹے موٹے حادثات ہوہی جاتے ہیں ۔ یہاں بزرگوں کو اپنے چھوٹوں پر نظر رکھنی ہوتی ہے ۔کہ کسی بہت چھوٹے بچے کے ہاتھ میں چھری تونہیں ہے۔ کوئی چھوٹا بچہ کسی مست جانور کے بہت نزدیک تو نہیں چلا گیا ۔جانور بھی اللہ کی مخلوق ہوتے ہیں ۔ دیہات کے لوگ جانوروں کی نفسیات کو خو ب سمجھ لیتے ہیں ۔ ،لیکن شہر میں جانور اسی عید کے لیے لائے جاتے ہیں ۔ نہ جانور شہر کے ماحول سے واقف ہوتاہے نہ ہی شہری ۔ سو معاملات یہیں سے بگڑتے ہیں ۔ بہت ساری خوشیاں لے کر یہ عید آرہی ہے ۔ عید والے دن ہر طرف گوشت ہی گوشت ہوگا۔ اب سارا گوشت تو کھایا نہیں جاسکتا اس لیے معدے پر اتنا زور ہی ڈالا جائے کہ جتنا وہ سہارسکے ۔ہمارے ہاں تو بجلی اتنی ہے کہ فریج ،فریزر چلائے جاسکیں ۔سوچیئے تیمرگرہ جیسے ان علاقوں کا کہ جہاں فریج الماری بن گئی ہے ۔ وہ لوگ اس عید کو کیسے مناتے ہوں گے ۔ ہاں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہم سب جانور قربان کرکے سنت ابراہیمی کا اعادہ کرتے ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ کی خوشنودی کا دن ہو اوراللہ سے کچھ مانگا جائے اور وہ قبول نہ ہو۔ سو یہ دن دعا کا بھی دن ہے ۔ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے بھی دعائیں کیجئے ۔ ملک کے لیے دعائیں کیجئے ، دنیا کے امن کے لیے دعائیں کیجئے، مسلمانوں کے لیے دعائیں کیجئے ۔ دعامسلمان کا اعزازہے اور اس کی قبولیت اللہ کی شان ۔

متعلقہ خبریں