Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مسلمہ بن عبدالملک نے ایک قلعے کا محاصرہ کیا۔ مسلمانوں کو قلعے کی دیوار میں ایک جگہ اتنا بڑا سوراخ نظر آیا۔ جس سے ایک شخص داخل ہوسکتا تھا۔ لوگوں نے اس سوراخ کی طر ف دیکھا ایک دوسرے کو توجہ دلائی ۔ انہیں اندر کے حالات کی کوئی خبر نہیں تھی ۔ اس سوراخ کے پاس کتنے لوگ موجود ہیں۔ آیا اس شخص کو سوراخ سے نکلنے اور لڑنے کا موقع بھی مل پائے گا یا نہیں۔ یہ سیدھی سیدھی موت کو گلے لگانے والی بات تھی۔ اسلامی لشکر میں سے ایک غیر معروف شخص سامنے آیا اور کہا میں جاتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اس سوراخ کے ذریعے قلعے کے اندر چلا گیا اور صورتحال کو سنبھال لیا اور اس کے بعد اور بھی بہت سے لوگ اس کے ذریعے قلعے میں داخل ہوئے اورمسلمانوں نے اس قلعہ کو فتح کر لیا ۔ فتح کے بعد مسلمہ بن عبدالملک نے اعلان کیا کہ ''صاحب نقب'' یعنی سوراخ کے ذریعے سب سے پہلے اندر جانے والا شخص میرے پاس آئے۔ لیکن کوئی نہ آیا۔ اس نے دوبارہ پھر سہ بارہ یہ اعلان کروایا۔ پھر اعلان کرنے والے کے پاس ایک شخص آیا اورکہا۔ سپہ سالار میرے لئے ملاقات کی اجازت حاصل کرو۔اعلان کرنے والے نے مسلمہ کو بتایا ۔ مسلمہ نے فوراً اجازت دیدی ۔ اس شخص نے مسلمہ سے کہا ۔ ''صاحب نقب ''کی اپنے بارے میں کچھ بتانے کے لئے تین شرطیں ہیں۔ مسلمہ نے کہا۔ اس نے ایسا عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ہم اس کی شرط ماننے کے لئے تیار ہیں۔ اس نے کہا ۔ پہلی شرط یہ ہے کہ خلیفہ کو اس کا نام لکھ کر نہ بھیجا جائے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اسے کسی انعام کی پیشکش نہ کی جائے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ اس سے اس کا نام نہ پوچھا جائے اور نہ یہ پوچھا جائے کہ اس کاتعلق کس قبیلے سے ہے۔ مسلمہ نے کہا : مجھے منظور ہے اس شخص نے جواب دیا۔ میں ہی وہ شخص ہوں۔ مسلمہ اس واقعہ کے بعد جب بھی نماز پڑھتا تو یہ دعا ضرور کرتا۔ اے اللہ مجھے آخرت میں ''صاحب نقب '' کا ساتھ نصیب فرما۔

خلیفہ ہارون الرشید کا ایک بیٹا نہایت متقی وپرہیز گار تھا۔ عین شباب میں اس نے دنیا کو لات ما ر کر عبادت الہٰی میںایسی مصروفیت اختیار کی کہ خلیفہ بھی حیران تھا۔ ایک مرتبہ خلیفہ کے دربار میں آئے۔ نہایت عاجزانہ انداز میں کبل کا کرتہ اور سرپر کمبل کی ٹوپی اوڑھے جب اہل دربار نے انہیں دیکھا تو خلیفہ سے کہا اس نے تو آپ کی عزت کم کر کے رکھ دی ہے۔ یہ سن کر انہوں نے دائیں بائیں نظر دوڑائی تو دور ایک پر ندہ دیکھا۔ اس کو مخاطب کر کے فرمایا۔اے پرندے! تجھے اپنے پیدا کرنے والے کی قسم ہے کہ میرے ہاتھ پر بیٹھ جا، وہ اڑ کر آیا اور ان کے ہاتھ پر بیٹھ گیا پھرفرمایا کہ دوبارہ اپنی جگہ چلا جاوہ اپنی جگہ چلا گیا۔ پھر انہوںنے دربار میں دنیا کی بے ثباتی اورآخرت کی بقا سے متعلق چند باتیں کیں اور وہاں سے نکل کر دنیا سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرلی ۔ (مخزن صفحہ نمبر 345)

متعلقہ خبریں