Daily Mashriq

حکومتی اور فوجی قیادت کی ہم آہنگ ملاقات

حکومتی اور فوجی قیادت کی ہم آہنگ ملاقات

وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پہلی مرتبہ جنرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔آئی ایس پی آرکے مطابق وزیراعظم عمران خان کو جی ایچ کیو میں اندرونی و بیرونی سیکورٹی کی صورتحال، پاک فوج کی دہشتگردی کیخلاف جاری کارروائیوں، آپریشن ردالفساد، کراچی کی صورتحال اور خوشحال بلوچستان پروگرام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی فوج کی آپریشنل تیاریوں، پیشہ ورانہ مہارت اور دہشت گردی کیخلاف قربانیوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، مشترکہ قومی سوچ اور قوم کی حمایت سے ہم ان چیلنجز پر کامیابی سے قابو پا لیں گے۔وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ ترقی پاکستان کا مقدر ہے، ملک بین الاقوامی دنیا میں انشا اللہ مثبت انداز سے ابھرے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان آرمی کی صلاحیتوں اور استعداد کار بڑھانے کے لیے حکومت تمام وسائل فراہم کرے گی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کے دورے اور فوج پر اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ انشا اللہ پاک فوج قوم کی توقعات پر پورا اترے گی۔پاک فوج کی اعلیٰ قیادت اور نو منتخب حکومت کے اراکین کی ایک صف میں بیٹھ کر بڑی سی تصویر پر نظر پڑتے ہی یہ تاثر ابھرنا کہ ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت عملی طور پر ایک صفحے پر ہے تو غلط نہ ہوگا۔ کافی عرصے سے اس امر کا شدت سے نہ صرف احساس تھا بلکہ عملی طور پر بھی ملک کی سیاسی و جمہوری قیادت اور عسکری اداروں کے درمیان دعوئوں کے باوجود تعلقات کی نوعیت مکمل اعتماد کی نہ تھی درون خانہ کا بعد تو انہی کو معلوم ہوگا جن کی قیادت سے وابستگی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تاثر کچھ عجیب تاثرات کا باعث ہواکرتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ فوج اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہے یا فوج اور حکومت کے تعلقات میں سرد مہری ہے اور بھی بہت سے معاملات اور صورتحال میں کچھ اس قسم کا تاثر دیا جاتا ہے گو یا فوج حکومت سے ہٹ کر کوئی ادارہ ہو۔ اس قسم کے تاثرات ہی غلط فہمی کی بنیاد پر بنتے ہیں۔ ہمارے تئیں اس کی وجہ اذہان و قلوب کی کیفیت اور غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں من حیث القوم اس امر کا ادراک کرلینے کی ضرورت ہے کہ فوج حکومت سے الگ کوئی ادارہ نہیں بلکہ حکومت ہی کاحصہ اور حکومتی ادارہ ہے بلکہ حکومت کے ماتحت وزارت دفاع کا ایک ادارہ ہے۔ پاک فوج نظم و ضبط اور دستور پاکستان کی رو سے فرائض کی انجام دہی کی پابند ہے اور کبھی اس کی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہوئی۔ بہر حال ان تمام تاثرات کو وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومتی عہدیداروں کی پوری ٹیم کے ساتھ جی ایچ کیو میں حاضری اور آٹھ گھنٹے تک ملکی معاملات پر بحث و تمحیص اور مشاورت کے بعد اس باب کو بند ہوناچاہئے کہ عسکری اور سیاسی قیادت الگ الگ ہیں۔ اب پوری طرح فوج اور حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں اور اس روایتی کھچائو اور تنائو کا کوئی وجود نہیں جس کے باعث ہر دو کو اپنی اپنی جگہ مسائل و مشکلات اور اعتماد کے فقدان کا سامنا تھا۔ اس موقع پر کن معاملات اور کن امور پر مشاورت ہوئی ہوگی اس کا اندازہ تو ممکن نہیں البتہ یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ملکی قیادت نے ان تمام معاملات پر غور و حوض کیا ہوگا جو اس وقت داخلی و خارجی طور پر درپیش ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے فوج کوتمام وسائل دینے کی یقین دہانی رسمی طور پر ہی کی ہوگی وگرنہ ملکی بجٹ کا خطیر حصہ پہلے ہی دفاعی ضروریات کی تکمیل پر صرف ہو رہاہے اور ہر قسم کی کشا کشی کے باوجود ہر دور حکومت میں فوج کی ضروریات پوری کرنے کو مقدم رکھا گیا۔ اس موقع کافائدہ اٹھاتے ہوئے ہم ہم صفحہ قیادت کو اس امر کا جائزہ لینے کا ضرور مشورہ دیں گے کہ ملکی قیادت ان اسباب و علل اور عوامل پر ضرور غور کرے جو ماضی میں اختلافات کی بنیاد ثابت ہوتے رہے ہیں۔ ملکی قیادت حکومت اور پارلیمان ہی ملکی معاملات پر فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں اور ہر پالیسی کا محور پارلیمان ہی ٹھہرتا ہے جو ملکی معاملات اور اہم فیصلوں بارے مناسب جمہوری فورم ہے۔ حکومت کاکردار جہاں اس فورم کو اعتماد میں لینا ہوتا ہے وہاں اس کو ملکی اداروں کی قیادت سے بعض متعلقہ معاملات میں مشاورت کرنا ان کارد عمل معلوم کرنا اور ان کو اعتماد میں لینا ہوتا ہے۔ اگر باہم اعتماد کا یہ رشتہ احترام کے ساتھ قائم اور برقرار رکھا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اختلافات کی نوبت آئے۔ اختلاف رائے اور موقف کا احترام بھی لازم ہے البتہ اجتماعی مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے تو اس پر اخلاص اور کھلے دل کے ساتھ عمل پیرا ہونے میں تامل نہیں ہونا چاہئے۔ بہر حال پاک فوج اور حکومت وقت کی اعلیٰ قیادت کے درمیان خوشگوار ملاقات ملک میں نئی حکومت کے سویلین اور فوجی قیادت کے قریب آنے کی صورت میں ایک اچھا تحفہ ہے جس سے قوم کو یہ اطمینان ہوگا کہ اب زیادہ اعتماد کے ساتھ ملکی معاملات چلائے جائیں گے اور اہم فیصلے ہوں گے اور ان پر عملدرآمد بھی اسی فضا میں ہوگا۔

متعلقہ خبریں