Daily Mashriq


جبری گمشدگی کا مسئلہ حل کرنا حکومت کیلئے چیلنج سے کم نہیں

جبری گمشدگی کا مسئلہ حل کرنا حکومت کیلئے چیلنج سے کم نہیں

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس امر کا عندیہ دیا ہے کہ جمہوری حکومت میں اب جبری گمشدگی نہیں ہونے دی جائے گی اور جبری گمشدگی کو قانونی جرم قرار دیا جائے گا۔پاکستان میں بڑے پیمانے پر گمشدگیوں کا معاملہ اب تک نہ حکومت اور پارلیمنٹ حل کرسکی ہیں اور نہ عدالت جس کے باعث یہ معاملہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بری طرح مجروح ہو رہا ہے۔ عدم پتہ افراد کے لواحقین کی مشکلات مصائب اور ان کی جانب سے آئے روز مظاہرے اور مطالبات بھی کم مسئلہ نہیں۔رواں سال ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے ایک درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے جبری گمشدگی کو انتہائی ظالمانہ و غیر انسانی عمل کے ساتھ انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا تھا۔اپنے فیصلے میں انہوں نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کو معاوضہ ادا کیا جائے کیونکہ شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی تھی کہ لاپتہ افراد کا پتہ لگانے کے لیے ایک خصوصی سیل بنایا جائے اور سپریم کورٹ کو بھی اس میں شامل رکھا جائے۔لیکن ان ساری کوششوں اور اقدامات کے باوجود عالم یہ ہے کہ اس ضمن میں ذرا بھی پیشرفت نہیں ہوئی۔ جبری طور پر گمشدہ افراد سے متعلق بنائے گئے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ گمشدہ ہونے والے افراد کے معاملے میں گزشتہ پندرہ سال کے دوران آنے والی حکومتوں نے اس طرح کام نہیں کیا جس کا یہ اہم معاملہ متقاضی تھا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق قانون سازی بھی نہیں کی گئی۔اب جبکہ نئی حکومت کی وزیر انسانی حقوق نے اس ضمن میں ضروری قانون سازی اور اقدامات کا عندیہ دیا ہے تو توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں پیشرفت ہوگی اور بے بسی و بے کسی کی کیفیت کاخاتمہ ہوگا اور ان افراد سے قانون کے مطابق سلوک ہوگا۔

لوڈشیڈنگ میں اچانک اضافہ کیوں؟

صوبے میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کے باعث خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش شدہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیاہے کہ صوبے میں بجلی کے مسائل حل کئے جائیں۔ خیبر پختونخوا میں بجلی کی پیداوار کے باوجود یہاں پر لوڈشیڈنگ کے باعث عوام ذہنی مریض بن چکے ہیں ۔ بوسیدہ لائن کی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔ گرڈ سٹیشنز اور فیڈرز اوور لوڈ ہوچکے ہیں۔ غریب عوام بجلی کے بل اداکرنے کے قابل نہیں اس لئے مرکزی حکومت صوبے کے اس دیرینہ مسئلے کو حل اور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے اقدامات کرے۔ اس موقع پر اس امر کا بھی اعادہ کیاگیا کہ بجلی کی کمی صوبے کا بڑا مسئلہ ہے اس وقت ایک ہی جماعت کی صوبے اور مرکز میں حکومت سے توقع رکھتے ہیں اب صوبے کے مسائل حل ہونے چاہئیں۔صوبے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں احتجاج فطری امر ہے۔ عوامی نمائندے ہونے کے باعث اراکین اسمبلی پر اپنے اپنے متعلقہ حلقوں کے عوام کا دبائو بھی ہوتا ہے اور ان کو خود بھی اس امر کا احساس ہے کہ عوام کو بجلی نہ ہونے کے باعث کن مشکلات کا سامناہے۔ خیبر پختونخوا میں اچانک لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ اور ان علاقوں میں بھی طویل لوڈشیڈنگ ہونا جہاں پہلے نہ تھی اس کی وجوہات اور اسباب و علل کاجائزہ لینے کی اس لئے زیادہ ضرورت ہے کہ خود حکومت سینٹ میں اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ سابق حکومت ضرورت سے زائد اور فاضل بجلی پیداوار چھوڑ کر رخصت ہوئی۔ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ ٹرانسمیشن لائنوں کی کمزوری اور ناکافی ہونے کا ہے لیکن انہی ٹرانسمیشن لائنوں سے گزشتہ دور حکومت میں ہونے والی بجلی کی سپلائی سے لوڈشیڈنگ کا عالم یہ نہ تھا پھر آخر کیا وجہ ہے کہ پیداوار پوری اور ٹرانسمیشن لائنوں کو نقصان بھی نہیں پہنچا اور کسی بڑی خرابی کی بھی کوئی اطلاع نہیں مرکز میں اگر صوبائی حکومت کی ہم جماعت حکومت نہ ہوتی تو اسے قصور وار ٹھہرائے جانے کی گنجائش تھی۔ یہ صورتحال مخمصہ کا باعث ہے اور عوامی نقطہ نظر سے صوبے کی حکومت کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ صوبے کا کوٹہ غیر اعلانیہ طور پر کم کردیاگیا ہو اور صوبے کو اس کے حصے کے بقدر بجلی نہ مل رہی ہو ۔ہونا تو یہ چاہئے کہ صوبے کو اس کے حصے کی مکمل بجلی تسلسل کے ساتھ ملے اور عوام کو سڑکوں پر آنے اور اراکین اسمبلی کو اسمبلی میں احتجاج کرنے کی نوبت نہ آئے۔ لوڈشیڈنگ کی صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو صوبے میں احتجاج اور امن و امان کی صورتحال کی خرابی کا امکان ہے۔ بہتر ہوگا کہ عوام کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے اور خیبر پختونخوا کو اس کے حصے کی بجلی اسی طرح دی جائے جس طرح سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے صوبے کو ملنے والی بجلی میٹر لگا کر حاصل کی تھی اور روزانہ عوام کو اس امر سے آگاہی دی جاتی تھی کہ وفاق نے صوبے کو کتنی بجلی کم دی۔

متعلقہ خبریں