Daily Mashriq


رفو گری کا فن اور سیاسی دربار

رفو گری کا فن اور سیاسی دربار

رفو گری ایک فن ہے‘ یہ کب وجود میں آئی اس بارے میں کچھ زیادہ وثوق سے تو نہیں کہا جاسکتا تاہم جس طرح ہر پیشے کے بارے میں ایک محاورہ یقین سے بولا جاتا ہے اسی کا اطلاق اس پر بھی ہوسکتا ہے یعنی ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ یوں جب پارچہ بافی وجود میں آئی اور انسان نے ستر چھپانے کے لئے ابتدائے آفرینش سے جانوروں کی کھالوں سے بدن ڈھانپنے کے بجائے کپڑا ایجاد کرکے اسے اوڑھنا شروع کیا تو اسی کپڑے کے پھٹنے کے بعد اسے ضائع ہونے سے بچانے کے لئے رفو گری کا فن بھی ایجاد ہوا ہوگا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کپڑوں کی رفو گری کے ساتھ ساتھ باتوں کی رفو گری نے بھی اہمیت اختیار کرلی اور جب ہم اس شعبے پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں ہر دور میں ایسے ماہر رفو گروں کی کھیپ کی کھیپ نظر آتی ہے جو اپنے اپنے دور کے ممدوحین کی باتوں‘ تقریروں اور فرمودات کے اندر موجود خلا کو اس خوبصورتی سے رفو کرکے انہیں قابل قبول بناتے رہے ہیں کہ انسان اش اش کر اٹھتا ہے۔ بات اگر سمجھ نہیں آئی تو اس کے لئے ایک پرانی مختصر سی کہانی دوہرا دیتے ہیں جس سے بات بالکل واضح ہو جائے گی بلکہ جن رفو گروں کی ہم بات کرنا چاہتے ہیں ان کا کمال فن یہ ہے کہ وہ یہ کام انجام دیتے ہوئے کسی طرح کی شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے اور بقول عابد ملک

ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہوگا

یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہوگا

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے ایک رفو گر رکھا تھا وہ کپڑا نہیں بلکہ باتیں رفو کرنے کا ماہر تھا۔ وہ بادشاہ سلامت کی ہر بات کی کچھ نہ کچھ ایسی وضاحت کردیتا کہ سننے والے سر دھننے لگتے کہ واقعی بادشاہ سلامت نے صحیح فرمایا ہے۔ ایک دن بادشاہ سلامت دربار لگا کر اپنی جوانی کے شکار کی کہانیاں سنا کر درباریوں کو مرعوب کر رہا تھا۔ جوش میں آکر کہنے لگا ایک بار تو ایسے ہوا کہ میں نے آدھے کوس سے نشانہ لگا کر جو ایک ہرن کو تیر مارا تو تیر سنسناتا ہوا گیا اور ہرن کی بائیں آنکھ میں لگ کر دائیں کان سے ہوتا ہوا پچھلی دائیں ٹانگ کے کھر میں جا لگا۔ بادشاہ سلامت کو توقع تھی کہ درباری اسے داد دیں گے مگر وہاں تو خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ وہ بادشاہ کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے۔ بادشاہ نے رفو گر کی طرف دیکھا کیونکہ اسے بھی احساس ہوا کہ کچھ زیادہ ہی لمبی چھوڑ دی ہے۔ رفو گر اٹھا اور کہنے لگا۔ حضرات میں اس کا چشم دید گواہ ہوں۔ در اصل بادشاہ سلامت ایک پہاڑی کے اوپر کھڑے تھے اور ہرن بہت نیچے تھا‘ ہوا بھی موافق چل رہی تھی ورنہ تیر آدھا کوس کہاں جاتا ہے‘ جہاں تک تعلق ہے آنکھ ‘ کان اور کھر کا تو عرض کردوں کہ جس وقت تیر لگا ہرن دائیں کھر سے دایاں کان کھجا رہا تھا یوں یہ نا ممکن واقع وقوع پذیر ہوگیا۔ درباریوں نے زور زور سے تالیاں بجا کر اور واہ واہ کے ڈونگرے برسا کر بادشاہ سلامت کو داد دی اور صورتحال پر جون ایلیاء کا یہ شعر پوری طرح صادق آتا نظر آیا کہ

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟

درباریوں کی زبانیں تو واہ واہ کرکے آبلوں سے محفوظ رہیں البتہ اگلے ہی روز رفو گر اپنا بوریا بستر اٹھا کر جانے لگا۔ بادشاہ پریشان ہوگیا‘ پوچھا کہاں چلے؟ رفو گر بولا بادشاہ سلامت چھوٹے موٹے تروپے لگا لیتا ہوں‘ شامیانے نہیں سیتا۔

بادشاہ سلامت اور رفو گر کے مابین بالآخر کیا طے پایا ‘ وہ دربار چھوڑ کر چلا گیا یا پھر بادشاہ نے لمبی لمبی چھوڑنے سے توبہ کرلی اس بارے میں راوی خاموش ہے لیکن جب ہم اپنے ہاں گزشتہ کئی برسوں کے مختلف ادوار کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ہر دور میں اس قسم کے رفو گروں کی پوری پوری کھیپ نظر آتی ہے جو نہ صرف اپنے فن میں طاق ہوتے ہیں بلکہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر شامیانے تو کیا اپنے کمال فن سے پورے پورے سٹیڈیم اوپر سے ڈھک دیتے ہیں۔ ضرورت صرف ان کو پہچاننے کی ہے‘ ان رفو گروں میں ایسے ایسے نا بغہ پیشہ ور رفو گر بھی شامل ہیں جو ایک دربار الٹ جانے کے بعد دوسرے دربار سے وابستہ ہونے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے نہ ہی ایساکرتے ہوئے انہیں کسی قسم کی شرم آتی ہے بلکہ بقول شخصے یہ شیم لیس ہوتے ہیں یعنی جنہیں اردو میں چکنے گھڑے کہتے ہیں اور جب شرم و حیا کی کوئی رمق بھی ان پر پڑتی ہے تو وہ ان کی چکناہٹ کی وجہ سے پھسل کر نیچے جا گرتی ہے۔ یعنی بقول ارشاد عارفؔ

بات کردار کی ہوتی ہے وگرنہ عارفؔ

قد میں انسان سے سایہ بھی بڑا ہوتا ہے

جن چکنے گھڑوں یا رفو گروں کی ہم نے بات کی ہے ان کو پہچاننے کے لئے زیادہ تر دد کی بھی ضرورت نہیں ہے بس ذرا اپنے ارد گرد نظر ڈالئے آپ کو ایسے کئی ’’روشن چہرے‘‘ نظر آجائیں گے جو ہر دربار سے وابستہ رہے۔ ہر دور کے’’ بادشاہ سلامت‘‘ کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے انہیں اپنی جوہر شناسی کے فن سے اپنا گرویدہ بنائے رکھا مگر جیسے ہی ان کے اقتدار کا سورج غروب ہونا شروع ہوا یہ ان کی کشتی سے چھلانگ لگا کر دوسری نائو پر سوار ہو کر اپنے کمال فن سے مرعوبیت کا سامان بہم پہنچانے میں مگن ہوگئے۔ اب جبکہ آپ یقینا ایسے ہزاروں کو جان بھی چکے ہوں گے‘ پہچان بھی چکے ہوں گے تو اسے راز ہی رہنے دیں کہ بقول شاعر

راز دل میں رہے تو رسوا ہو

لب پہ آئے تو راز ہو جائے

متعلقہ خبریں