Daily Mashriq

چومکھی لڑائی کی ضرورت

چومکھی لڑائی کی ضرورت

جب آدمی تنہا ہو یا رجال کار کم ہوں تو اس رجل رشید یا مختصر جماعت کو حصول مقصد کے لئے چومکھی یعنی چاروں طرف نگاہ عمیق رکھنا پڑتی ہے۔ اسے دن رات کام کرنا پڑتا ہے اور پھر پاکستان جیسے ملک میں جہاں مخالفین عمران خان کی غلطیاں پکڑنے کے لئے خورد بین لئے پھرتے ہوں تاکہ ان کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور غلطیوں کو دور بین کے ذریعے بڑا کرکے لوگوں کو دکھایا جائے۔ ایک گونا زیادہ بیدار اور چوکس رہنے کے ساتھ نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنی جماعت کے افراد کی بھی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی ورنہ بعض اوقات چھوٹی سی چیز یا بات ’’واٹر گیٹ سکینڈل‘‘ کی شکل بھی اختیار کرسکتی ہے۔ مثلاً پچھلے دنوں عمران خان ہیلی کاپٹر کے ذریعے بنی گالہ گئے اور آئے تو میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کے ایک دو بڑے چینلوں پر خبروں اور تبصروں میں طوفان برپا کیاگیا۔ اور طنز و تشنیع کے تیر برسانے کے علاوہ کسی پرانے ہیلی کاپٹر پر باقاعدہ ویڈیو بنا کر تہکال اور بورڈ جانے کے نعرے کنڈیکٹر سے لگوا کر استہزاد و مذاق بھی اڑایاگیا کہ جب بقول فواد چودھری ہیلی سروس اتنی سستی ہے تو عوام کو بھی فراہم کی جائے بلکہ مولانا عبدالغفور حیدری وغیرہ نے تو اس سہولت کی فراہمی کا باقاعدہ مطالبہ بھی کردیا اگرچہ اس میں بھی طنز و تضحیک ہی تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر عمران خان نے سڑک کے ذریعے سیکورٹی کی معیت میں جانے کو عوام کی تکلیف سمجھ کر بھی ہیلی سروس استعمال کی اور اس کا خرچہ سڑک کے ذریعے جانے سے زیادہ ہے تو یہ عمران خان کی سادگی مہم کے خلاف پڑتا ہے۔ عمران خان کے حمایتی ایک چینل پر تبصروں کے دوران نواز شریف دور میں ایک ہیلی کاپٹر سے ناشتے کے ہاٹ پاٹس بھی اتارتے ہوئے دکھائے گئے۔ لیکن حقیقت پھر بھی یہی ہے کہ کسی دوسرے کی غلطی دکھانے سے اپنی غلطی کی اصلاح نہیں ہوتی اور پھر نواز شریف پر یہی تو تنقید ہوتی رہی ہے لہٰذا ان کے جن کاموں پر پی ٹی آئی بالخصوص عمران خان بے تحاشا تنقید کرتے تھے آج خود وہ کام کس طرح اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں۔ لہٰذا پی ٹی آئی بطور جماعت بالعموم اور عمران خان بالخصوص ایسے کاموں سے اجتناب ہی کریں تو بہتر رہے گا جن پر وہ خود تنقید کے تیر اور ہتھوڑے برساتے رہے ہیں۔ مکرر عرض ہے کہ عمران خان اپنے وزرائے اعلیٰ ‘ سینئر وزراء اور دیگر تجربہ کار اور آزمودہ کارکنان کے ذریعے ان لوگوں کو قابو رکھیں جو پی ٹی آئی کے منشور کو پڑھے اور سمجھے بغیر انتخابات میں کامیاب ہو کر اسمبلیوں میں مفادات اور کچھ خاص مقاصد کے حصول کے لئے پہنچے ہیں۔ انتخابات کے بعد چار پانچ ایسے واقعات ہوئے جس نے پی ٹی آئی کے ہمدردوں کے دلوں میں نا پسند یدگی کے جذبات پیدا کئے ، مثلاً ڈاکٹر عمران اللہ شاہ نے جس طرح سرراہ ایک معزز آدمی کو تھپڑ مارے اور پھر اس پر کراچی کے پی ٹی آئی کے صدر نے جو فیصلہ سنایا کسی طرح بھی اُس واقعے کی تلخی کی تلافی نہ کرسکا ۔ اسی طرح خاور مانیکااور اُس کے بیٹوں وغیرہ کا پولیس آفیسر کے ساتھ برتائو۔ فیض الحسن چوہان کا لب ولہجہ تحریک انصاف میں آنے سے قبل بھی معروف تھا اور اب ایم پی اے اور وزیراطلاعات وہ بھی صوبہ پنجاب کا ۔ کریلا اور نیم چڑھا ۔ پچھلے دنوں اُنہوں نے میڈیا کے حوالے سے اُن کے پچھلے کلپس دکھانے پر جو زبان استعمال کی اُس پر پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو معذرت کرنی پڑی۔ اور اب آخر میں مولانا ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو لیجئے ۔ پی ٹی آئی کے اکابرین کو چاہیئے کہ کوئی فرد جب تحریک انصاف میںشامل ہونے کی درخواست کرے تو تین چار افراد کم از کم یہ تو دیکھ لیا کرے کہ اس آدمی کے تحریک انصاف کے متعلق ابھی ماضی قریب میں خیالات و تاثرات کیا تھے ۔ اور اس شخص کا مزاج، اپروفائل ، فطرت ، طبیعت اور رجحان کیا ہیں ۔ عامر لیاقت حسین تو (مرکری) سیماب صفت طبیعت آدمی ہیں ۔ آج یہاں کل وہاں ۔ اور یہی بات اُس نے شمولیت سے پہلے عمران خان کے بارے میں کہی تھی کہ عمران خان کا کیا بھر وسا ۔ وہ تو موڈی آدمی ہیں ۔ اور اب اس وقت بہرحال وہ ایک تکلیف کا باعث بننے والے ہیں ۔ تحریک انصاف میں اور بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو تحریک کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس میں اس لئے شامل ہوئے کہ کامیابی کے بعد کوئی وزارت مل جائیگی اور موج مستی کریں گے ۔ لیکن اب ہر رکن اسمبلی کو وزارت تو ملنے سے رہی کہ ایک طرف سادگی مہم کے تحت کابینہ مختصر رکھنا ہے اور دوسری طرف جب وزیراعظم عمران خان نے صوابدیدی فنڈز بھی ختم کر دیئے ہیں تو ایسی حالت میں وہ لوگ جو دل سے تحریک انصاف کے منشورو دستور سے متفق نہیں ، پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو ہاتھوں ہاتھ لینے کیلئے پاکستان کی ساری اپوزیشن جماعتیں تیاربلکہ چشم براہ بیٹھی ہیں ۔ مشکل داخلی سیاسی ومعاشی حالات کا مقابلہ کرنے اور ان مشکلات میں سے عوام کی سہولیات کے لئے راستہ بنانے اور ساتھ امریکہ ، بھارت ، افغانستان اور مقبوضہ کشمیر جیسے دیرینہ مسائل سے نمٹنے کیلئے تحریک انصاف کو صحیح معنوں میں چومکھی لڑائی لڑنا پڑیگی ۔ اور ستر برسوں کی گزشتہ ساری حکومتوں سے ہٹ کر روایات استوار کرنا ہونگی۔

متعلقہ خبریں