Daily Mashriq


متحدہ مجلس عمل کی ناکامی کی وجوہات

متحدہ مجلس عمل کی ناکامی کی وجوہات

2018کے انتخابات پر نظر ڈالیں تو ان میں تحریک انصاف نے ایک کروڑ 69 لاکھ ووٹ لئے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک کروڑ 30 لاکھ ، پیپلز پارٹی نے 69 لاکھ جبکہ متحدہ مجلس عمل نے 30 لاکھ ووٹ حا صل کئے ۔ 2002 کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل نے قومی اسمبلی کی 63 سیٹیں جیتی تھیں 2013 کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل نہیں تھی مگر جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے مجموعی طور پر 6 فی صد ووٹ لیکر قومی اسمبلی کی 19 نشستیں جیتیں۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو متحدہ مجلس عمل میںدو بڑی مذہبی سیاسی پا رٹیاں ہیں ان میں جمعیت العلمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی شامل ہیں۔2018 کے انتخابات میںان دو سیاسی و مذہبی پا رٹیوں سے ایسی غلطیاں سر زد ہوئیں جن کی وجہ سے متحدہ مجلس عمل اور حقیقت میں یہ دو بڑی سیاسی پا رٹیاں ہار گئیں۔اگر ہم جماعت اسلامی کی کو تاہیوں پر غور کریں تو جماعت کی ٹاپ قیادت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی قیادت صاف سُتھری ہے ،جس کا عندیہ سپریم کو رٹ بھی دے چکی ہے ۔ لوگ جماعت اسلامی کی قیادت پر پورا یقین رکھتے تھے مگر بد قسمتی سے جماعت کی ٹاپ قیادت اور ووٹر کے درمیان رابطہ قائم کرنے کے لئے مقامی قیادت کا فقدان تھا جسکی وجہ سے ووٹر اور ٹاپ لیڈر شپ کے درمیان جوخلا تھا وہ پر نہیں ہوا، نتیجتاًووٹر جماعت کے حق میں اچھے طریقے سے آرگنائز نہیں ہوئے۔جہاں تک جماعت اسلامی کے ووٹروں اور خاموش لوگوں کا خیال تھا وہ یہ تھا کہ جماعت ا سلامی کو ایم ایم اے میں شامل نہیں ہونا چاہئے تھا اور جماعت کو انفرادی طور پر انتخابات میں حصہ لینا چاہئے تھا۔ جماعت اسلامی کے بارے عام ووٹروں اور لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ایک طرف جماعت کے امیر سراج لحق کا کہنا ہے کہ سپریم کو رٹ میں اُنکی اپیل کی وجہ سے پانامہ کیس میں نواز شریف پابند سلاسل ہو گئے جبکہ دوسری طرف جماعت اسلامی نے سینٹ چیئر مین کے انتخاب میںمسلم لیگی اُمیدوار راجہ ظفر الحق کو ووٹ دیئے اور ملک کے مختلف انتخابی حلقوں میں ان کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ بھی کی جس میں شہباز شریف کا سوات کا حلقہ بھی شامل تھا۔جہاں تک خیبر پختون خوا میں متحدہ مجلس عمل کے صوبائی امیر کا انتخاب تھا ۔ تجزیہ نگار وں کے مطابق وہ غلط تھا کیونکہ 2018 کے انتخابات میں 65 فی صد ) 13 کروڑ( کے قریب جوانوں نے حصہ لینا تھا جن کی راہنمائی اور ووٹرز کے ساتھ سماجی روابط اور انکو کنونس کرنا مولانا گُل نصیب کے بس کی بات نہیں تھی۔ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ سینٹ کے الیکشن میںجمعیت العلمائے اسلام کے قانون سازوں نے خود مولانا گل نصیب کو ووٹ نہیں دیئے جو مولا نا گل نصیب اور مولانا فضل الرحمان پر پا رٹی کے اندر عدم اعتماد کا اظہار تھا ۔ سوشل میڈیاکی کئی پوسٹوں میں مولانا پر یہ الزام بھی لگتا رہاکہ ہر دور میں مولانا صاحب حکومت کا حصہ رہے ۔ خواہ وہ پیپلز پارٹی کا دور ہو یا پی ایم ایل (ن) کا ، فوجی ڈکٹیٹر پر ویز مشرف کا دور ہو یا کسی اور کا ،مولاناصاحب کسی نہ کسی صورت کئی دہائیوں سے اقتدار کا حصہ رہے ہیں۔ تجزیہ نگا روں کا یہ بھی خیال ہے کہ جماعت اسلامی کو پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد بناکر انتخابا ت لڑنا چاہیے تھا ۔ تجزیہ نگا روںکی یہ بھی رائے تھی کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر پی پی پی، پی ایم ایل (ن) اور پی ٹی آئی کا ہولڈ تھا جسکی وجہ سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے ان سیاسی پا رٹیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جسکی وجہ سے رائے عامہ ہموار کرنے میں انکو مدد ملی۔ تجزیہ نگا ر یہ بھی کہتے ہیںکہ سیاست میں کرکٹ کا بھی زیادہ عمل دخل ہے چونکہ عمران خان کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی اور 1992 عالمی کرکٹ کپ کے فا تح رہے ہیں لہٰذانوجوان ووٹروں نے کرکٹ کی وجہ سے پی ٹی آئی اور عمران خان کو ووٹ دیئے۔ اورزیادہ ووٹرز یہ بھی کہتے تھے کہ ہم نے کسی اُمیدوار کو ذاتی حیثیت میںووٹ نہیں دیئے بلکہ ہم نے عمران خان کو ووٹ دیئے۔کچھ ما ہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ 2018 کے انتخابات میں وہ تمام سیاسی پا رٹیاں, جن میں اے این پی، قومی وطن پا رٹی، پختون خواملی پارٹی اور ایم ایم اے شامل تھیں ہار گئیں جنہوں نے کسی نہ کسی صورت شریف خاندان کا ساتھ دیا۔2018 کے انتخابات میں لوگوں کا مسئلہ مذہب نہیں تھا بلکہ ان کا مسئلہ بجلی، گیس کنکشن، نو کری ، اسلحے کے لائسنس اور دوسرے مالی فائدے تھے۔ مجلس عمل ووٹروں کو ترغیب دینے میں ناکام رہی۔جماعت اسلامی گزشتہ 5 سال سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی اتحادی رہی مگر بعد میں جماعت کے جلسوں میں پی ٹی آئی پر بے تحا شا تنقید عوام کو اچھی نہیں لگی۔انکا خیال ہے کہ اگر پی ٹی آئی بُری تھی تو اسکے ساتھ 5 سال اتحاد ی کیوں رہی۔کہتے ہیں کہ ایم ایم اے کی اتحادی پا رٹیوں میں Maturityبا لغ نظری اور آپس میں رابطے کا فُقدان رہا۔ماہرین یہ بھی کہتے ہیں اکہ ایم ایم اے کی قیادت انتخابات میں عوامی نفسیات سمجھنے سے قاصر رہی۔جماعت اسلامی کے فلا حی منصوبے الخدمت کے نام سے جانے جاتے ہیں پاکستان کی طرح کئی اسلامی ممالک میں بڑے بڑے منصوبے جا ری و ساری ہیں ۔ عمران خان شوکت خانم کو تو اچھے طریقے سے پراجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے مگر جماعت شوکت خانم کی طرح کئی منصوبوں کو پراجیکٹ کرنے میں ناکام رہے۔یہ بھی جماعت ایم ایم اے کی کامیابی میں اہم کردارادا کر سکتا تھا۔ 

متعلقہ خبریں