Daily Mashriq


حکومتوں کے کرنے کے کام اور ’’مداخلت‘‘

حکومتوں کے کرنے کے کام اور ’’مداخلت‘‘

جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک بار پھر صراحت کے ساتھ واضح کر دیا ہے کہ وہ ٹیک اوور کی کوئی خواہش نہیں رکھتے ۔انہوں نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں پانی کی فراہمی اور نکاسی کے معاملے کی سماعت کے دوران کہا کہ وہ حکومت کے کاموں میں مداخلت کا تصور نہیں رکھتے۔لیکن مجبوراً مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے شہر میں اپنی تعریف پر مبنی پوسٹر بھی ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ مقبولیت کے لیے یہ کام کر رہے ہیں تو ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی انہیں یاد بھی نہیں کرے گا۔ اس وضاحت کے بعد یہ غور کیا جانا چاہیے کہ اگر حکومت اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام ہو جائے اور اس وجہ سے عوام کے بنیادی حقوق پامال ہو جائیں تو ان کے احترام اور پاسداری کے لیے کیا کیاجائے گا؟ عدالت عظمیٰ آئین میں دیے گئے عوام کے بنیادی حقوق کی محافظ اور ضامن بھی ہے۔ اس لیے عدالت ہی کو عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے آگے آنا پڑے گا۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے کاموں میں مداخلت اس مجبوری کی بنا پر کر رہے ہیں کہ حکومتوں نے اپنے کام نہیں کیے جن کی وجہ سے عوام بنیادی حقوق سے محروم ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس صحت کے معاملات اور پانی ایسی بنیادی ضرورت کی چیزوں کی فراہمی‘ تعلیم کی حالت زار ایسے بنیادی معاملات پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس میں کسی کے استحقاق کی پامالی نہیں ہو رہی بلکہ حکومتوں کی کارکردگی کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کے حل پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس پر اعتراض کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ایک سینئر صحافی سے اس سوال پر کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں ٹیک اوور کے چکر میں ہوں ، صحافی نے جواب دیا کہ جیسے کام آپ کر رہے ہیں وہ حکومت کا تھا۔ اس کا اگلا جملہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ’’یہ کام حکومت نے نہیں کیا‘‘۔ تاہم یہ صورت حال ظاہر ہے۔ ملک بھر میں اسی فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ کراچی میں پانی کی فراہمی اور نکاسی کی صورت حال بدترین ہے۔ گھوسٹ سکولوں کی اطلاعات عام ہیں‘ ایسے سکولوں کی بھی خبریں ہیں جن کی نہ کوئی عمارت ہے نہ چھت۔ تھر میں عدم تعذیہ یا ناقص غذائیت کی وجہ سے کمسن بچوں کی اموات کی خبریں روز سننے میں آتی ہیں۔ حکومتوں نے یہ کام کیوں نہیں کیے؟ اصولی طور پر حکومتوں سے جواب دہی منتخب اداروں کو کرنی چاہیے تھی ، وہ اگر کہیں ہو بھی رہی ہے تو مؤثر نہیں ہے کیونکہ حکومتیں ایوانوں میں اکثریت کی بنا پر ایسی آوازوں کو دبا دیتی ہیں۔ حکومتیں اور دیگر اہل سیاست ان مسائل پر سیاست چمکانے میں تو مصروف ہیں مسائل کے حل کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ چیف جسٹس مسائل کے انبار میں سے صرف ایسے مسائل کی طرف توجہ دے رہے ہیں جن کے باعث عوام کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ عدلیہ یہ مداخلت اس لیے کر رہی ہے کہ یہ کام حکومتوں کے کرنے کے تھے جو حکومتوں نے نہیں کیے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت دس بارہ سال سے قائم ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تیس سال سے قائم ہے۔ ان حکومتوں کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ تھی کہ وہ عوام کی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی ‘ صحت اور زندگی کے تحفظ کی سہولتیں اور تعلیم عام کرنے کا فرض پورا کرنے میں حائل ہوتی۔ عدلیہ نے ان بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داری کے حوالے سے مداخلت کی ہے بلکہ جہاں جہاں اس ذمہ داری کے ادا کرنے میں کوتاہی انتہائی ناخوشگوار صورت حال پیدا کر رہی ہو وہاں عدالت اصلاح احوال کے لیے مداخلت کر رہی ہے تاکہ حکومتیں اپنی ان کوتاہیوں کا ازالہ کر سکیں جن کی وجہ سے انسانی حقوق کی پامالی ایسی صورت حال سامنے آ رہی ہے۔ حکومتوں کے کرنے کے کام کیا ہیں ان پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات کے دوران بھی بات ہوئی ہے۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے چیف جسٹس کو یقین دلایا کہ حکومت چیف جسٹس کے فوری اور کم خرچ انصاف کی فراہمی‘ مفت تعلیم ‘ سرکاری ہسپتالوں میں صحت عامہ کی سہولتوں میں بہتری‘ معیاری ہیلتھ سروس‘ میڈیکل کی تعلیم کی خاص طور پر پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے تعلیمی معیار کی بہتری‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ‘ ہسپتالوں میں صفائی کے بہترین انتظام اور ماحولیات کے تحفظ کے بارے میں ان کے وژن کو حقیقت بنانے کے لیے تمام اقدامات کرے گی۔ یہ ان کاموں میں سے چند ہیں جو حکومت کی ذمہ داری ہیں اور وزیر اعظم کی یقین دہانی بتا رہی ہے کہ ان پہلوؤں پر کام کرنے میں حکومت ناکام رہی ہے۔ حکومت کے کرنے کے اور بھی متعدد کام ہیں جن کا تعلق دفاع ‘ معیشت خارجہ اور دیگر شعبوں سے ہے۔ لیکن صحت ‘ تعلیم اور صحت عامہ کے شعبوںمیں بے توجہی یا کم کوشی عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرتی ہے۔ یہ کام بھی حکومتیں نہ کریں تو عدالت کو بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ملک کے عوام کی مدد کرنا چاہیے۔ یہ اس وقت ضروری ہو جاتا ہے جب حکمران اپنے کام نہ کریں‘ جن کے لیے وہ عوام سے وعدے کر کے اقتدار میں آتے ہیں بلکہ اشارے کنایوں میں ایسے مشورے دیں کہ ادارے اپنا اپنا کام کریں۔ جو ادارے اپنا کام نہیں کرتے انہیں عوام کے مسائل سے روگردانی کی کھلی چھٹی ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں