Daily Mashriq

وزیر اعظم کا نازیبا الزام اور الیکشن کمیشن

وزیر اعظم کا نازیبا الزام اور الیکشن کمیشن

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پبلک جلسوں میں ایوان بالا کی توہین کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ غازی خان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر الزام لگایا کہ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں ووٹ خریدے گئے اور اعلان کیا کہ وہ آخری دم تک اس معاملے میں دخل دیتے رہیں گے اور اسے جہاد سمجھتے ہیں۔ جس طمطراق سے وہ کہتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو جہاد سمجھتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ ان کے پاس اپنے الزام کا یقین کرنے کے لیے ٹھوس شواہد بھی ہوں گے۔ اور اگر شواہد ہیں تو انہوں نے یہ شواہد الیکشن کمیشن کو فراہم بھی کر دیے ہوں گے جس نے سیاستدانوں سے ووٹوکی خرید و فروخت کے حوالے سے شواہد طلب کر رکھے ہیں۔ اگر وزیر اعظم عباسی ان لوگوں میں شامل نہیں جنہوں نے الیکشن کمیشن کے کہنے پر ووٹوں کی خرید و فروخت کے شواہد کمیشن کو فراہم کیے ہیں تو انہیں پبلک جلسوں میں اس الزام کے ساتھ یہ اقرار بھی کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر انہیں انتظار کرنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن اس حوالے سے کیا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ لیکن بار بار اس الزام کو دہرانا انہوں نے اپنا سیاسی وتیرہ بنا لیا ہے۔ سوچے اور سمجھے بغیر یہ الزام ملک کے جسد سیاسی کے لیے نہایت خطرناک پہلو رکھتا ہے۔ جہاں تک سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کی بات ہے یہ آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق نہایت شفاف انداز میں ہوا۔ اس انتخاب میں حکمران مسلم لیگ اور اس کے اتحادیوں کے پورے متوقع ووٹ بھی حکمران مسلم لیگ ن کے امیدوار کو نہیں ملے جس کے نام کا اعلان بھی عین انتخاب سے قبل (نامعلوم وجوہ کی بنا پر) کیا گیا تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ بلوچستان کے آزاد ارکان ‘ فاٹا کے آزاد ارکان‘ پیپلز پارٹی کے اور تحریک انصاف کے ارکان نے حکمران لیگ کی بجائے صادق سنجرانی کو ووٹ دیے اور وہ کامیاب ہوئے۔ ملک کے ایک اعلیٰ منصب کے لیے بلوچستان سے نامزد ہونے والے نمائندے کو ووٹ دے کر سینیٹ کے ارکان کی اکثریت نے وفاق کو مضبوط کیا ہے کیونکہ اس سے پہلے بلوچستان کی محرومیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ بڑے صوبوں کی سیاسی جماعتیں بلوچستان کو برابر کا وہ مرتبہ دینے پر آمادہ نہیں رہیں جس کا وفاق کی ایک اکائی کی حیثیت سے بلوچستان حقدار تھا اور ہے۔ بلوچستان سے نامزد ہونے والے سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کو چیلنج کرنا اور وہ بھی ہارس ٹریڈنگ کا گھٹیا الزام لگا کر شاہد خاقان عباسی ایسے دیگر معاملات میں شائستہ کلام آدمی کو زیب نہیں دیتا۔ ا س سے لگتا ہے کہ یہ ایک سوچا سمجھا رویہ ہے جس کا مقصد سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں حکمران مسلم لیگ کی ہزیمت کا انتقام تو ہے ہی لیکن اس سے بلوچستان کے عوام کی دل آزاری ہوتی ہے، بلوچوں کی اقدار کی توہین ہوتی ہے۔ بلوچستان کے ساتھ بڑی سیاسی جماعتوں اور بڑے صوبوں کے متکبرانہ رویے کا تاثر تقویت پاتا ہے جو بلوچستان کے عوام میں صوبے کی سالہا سال کی محرومیوں کے باعث موجود ہے۔ بلوچستان کے آزاد سینیٹرز نے دوسرے سینیٹروں کے تعاون سے مسلم لیگ ن کو یہ پیغام دیا ہے کہ انہوں نے ن لیگ کی بلوچستان کے عوام سے بے وفائی کا جواب بے اعتنائی میں دیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کی بار بار اس الزام تراشی اور بلوچ عوام کی توہین کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ شاہد خاقان عباسی ایک باعزت منصب پر متمکن ہیں۔ انہیں ایسی رکیک باتیں نہیں کرنی چاہئیں جن کی کوئی ٹھوس بنیاد نہ ہو۔ ان کے پاس شہادت غالباً صرف یہ ہے کہ عمران خان نے سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے اپنی پارٹی میں ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے تحقیقات کروائی۔ اس تحقیقات کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو دی۔ لیکن اس تحقیقات میں تو کسی پر یہ الزام صادق نہیں آیا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے پاس اگر کوئی شواہد سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ سے متعلق ہیں تو انہیں یہ شواہد الیکشن کمیشن کو پیش کرنے چاہئیں اور جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ جب تک الیکشن کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا اس وقت تک کمیشن پر یہ لازم ہونا چاہیے کہ وہ اس معاملے میں بیانات اور الزامات پر پابندی عائد کرے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی مملکت کے ایک نہایت باوقار منصب پر فائز ہوئے ہیں، ان کا اس بحث میں پڑنا ان کے منصب کے وقار کے منافی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی یا کوئی اور اگر انتخاب کوچیلنج کرتا ہے تو اس میں فریق الیکشن کمیشن ہے اور کمیشن کو انتخاب کے حوالے سے بداعتمادی پیدا کرنے کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔

اداریہ