تیرا کیا بنے گا کالیا؟

تیرا کیا بنے گا کالیا؟

ملالہ یوسفزئی اپنے والدین کے ہمراہ برطانیہ سے وطن واپس کیا آئیں حب الوطنی‘ دو قومی نظریہ‘ ہندی اسلام اور نظریہ پاکستان کے ایوانوں میں بھونچال برپا ہوگیا۔ نجی سکولوں کے مالکان کی ایسوسی ایشن کے جماعت اسلامی گروپ نے 30مارچ کو اپنے اپنے اداروں میں ’’آئی ایم ناٹ اے ملالہ‘‘ ڈے منایا۔ فقیر راحموں کو سو فیصد امید ہے کہ بہت جلد جذبہ ایمانی کے تکراری مظاہرے کے طور پر ان تعلیمی اداروں میں آئی ایم نورین لغاری‘ آئی ایم عافیہ صدیقی‘ آئی ایم احسان اللہ احسان‘ آئی ایم داعش و طالبان وغیرہ وغیرہ کے دن بھی منائے جائیں گے۔ حیرانی اس مکتب فکر پر ہے جو ہنگو کے شہید طالب علم اعتزاز حسن اور ملالہ یوسفزئی کے موازنے میں مصروف ہے۔ نصف صدی سے ایک عشرہ زیادہ جی لیا ہوں اس ملک میں 60سال کے دوران کم و بیش ایک ہزار مرتبہ اسلام خطرے میں ہے کی صدائیں سنیں۔ اب بھی پچھلے تین چار دن سے سن پڑھ رہے ہیں کہ ملالہ یوسفزئی ایک بین الاقوامی سازش کے مہرے کے طور پر واپس آئی ہے۔ سازش بارے مجاہدین اسلام سے دریافت کریں تو فتوے اٹھنے لگتے ہیں۔ کسی کی توجہ سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان کے تازہ اور ایمان افروز انٹرویو کی طرف دلائو تو اس کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے سوال کرنے والے کے لئے۔ سازشی تھیوری یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی بچی گل مکئی کے نام سے بی بی سی پر ڈائری کیسے لکھ سکتی ہے۔ سوال ہوا اس سے بھی چھوٹی تھی مرحومہ ارفع کریم جب وہ دنیا میں آئی ٹی کی نمبر ون ماہر کا اعزاز پاگئی؟ جواب میں ارشاد ہوا وہ خدا کی عطاء ہے۔ فقیر راحموں نے کہا کہ کیا خدا ہمیشہ اہل پنجاب پر مہربان اور سندھیوں‘ سرائیکیوں‘ بلوچوں اور پشتونوں سے ناراض رہتا ہے؟ اب گفتگو تو تڑاخ میں داخل ہوگئی بیچ بچائو کرواتے ہی بنی۔
ملالہ کی وطن واپسی پر ہمارے سماج کے رجعت پسندوں کو جو عدم برداشت کی آگ لگی ہوئی ہے اس کا مرکز تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں نسیم حجازی اور الیاس میتا پوری تاریخ نویس‘ رضیہ بٹ‘ مینا ناز رومانوی‘ ناول نویس اشفاق احمد اور عمیرہ احمد صوفیانہ تحریریں لکھنے والے مانے جاتے ہوں وہاں منٹو‘ فیض‘ فراز‘ سبط حسن‘ شوکت صدیقی‘ جمال احسان تو قابل گردن زدنی ہوں گے۔ کھلی آنکھوں سے منظر دیکھے اور کانوں میں سیسے کی طرح الفاظ اترے تھے جب ہمارے اہل اسلام جنرل حمید گل کے دست حق پرست پر بیعت کرکے آئی جے آئی میں شامل ہوئے اور پھر ان سب نے نواز شریف کی قیادت میں محترمہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے لئے جو دھلی ہوئی معطر زبان استعمال کی وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج وہی طبقات جناب نواز شریف کی صاحبزادی مریم صفدر کو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کا دوسرا جنم اور نئے جمہوری پاکستان کی امید قرار دے رہے ہیں۔ دوسروں کی بچیوں اور خواتین کی توہین و کردار کشی اور اپنوں کو رضیہ سلطانہ بنا کر پیش کرنے والوں کے لئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ہم دو انتہائوں پر کھڑے سماج کا حصہ ہیں۔ عدم برداشت اور فکری کج کا زعم ہمیں چین نہیں لینے دیتے۔ ہمارے سامنے جعلی ادویات‘ کیمیکل ملا دودھ اور ملاوٹ والی اشیاء فروخت ہوتی ہیں لیکن بولتے نہیں۔ کچھ ڈر سے اور کچھ فروخت کرنے والوں سے کسی نہ کسی تعلق کی وجہ سے۔ کیسے لوگ ہیں دو روٹیاں اور گاہک کے بچے ہوئے کھانے کے چاول بچوں کے لئے لے جانے کو جرم قرار دے کر ملازم پر پٹرول چھڑک کر اسے آگ لگا دیتے ہیں مگر کھربوں روپے ڈکار جانے اور جہادی کاروبار کرنے والے ہمارے معزز رہنما ہیں۔دوہرے معیار کی درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ نون لیگ کے نزدیک پیپلز پارٹی چوروں کی جماعت ہے۔ پیپلز پارٹی نون لیگ کو برائی سمجھتی ہے عمران خان دونوں کے بندے توڑ کر انصاف پر مبنی نظام والا نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ خیر جانے دیجئے‘ بات ملالہ کی وطن واپسی سے شروع ہوئی تھی اس علم دوست بچی کی وطن واپسی پر رجعت پسندوں کی باسی کڑیوں میں جیسے ابال آیا ہوا ہے اس پر حیرانی نہیں ہوتی۔ جماعت اسلامی و ہمنوائوں کا المیہ یہی ہے کہ وہ ہمیشہ تا ریخ کے دوسرے دھارے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ رجعت پسند حلقے میں جس قسم کی نفرت بو رہے ہیں اس کی فصل بھی کاٹیں گے یا پھر فصل کاٹنا اس ملک کے عام آدمی کا مقدر ہے؟ ملالہ یوسفزئی اس سرزمین کی بیٹی ہے اس ملک میں اگر پاکستان بنانے کے بد ترین مخالفوں کی اولادیں بس سکتی بلکہ حکمرانی بھی کرسکتی ہیں تو زمین زادوں اور زمین زادیوں کو یہ حق کیوں نہیں۔بہر طور اسلام و نظریہ پاکستان کے ٹھیکیداروں کو اطلاع ہو کہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ سیاست اور سیاسی جماعت بنانا ان کا مقصد یا سوچ ہر گز نہیں وہ پاکستان میں فروغ علم کے لئے جدوجہد کرتی رہیں گی۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہ لوگ ملالہ پر فتوے لگا رہے ہیں جو دہشت گردوں کے لئے چندے جمع کرتے ہیں اور بڑے بڑے دہشت گرد ان کے گھروں سے پکڑے جاتے ہیں مگر اسلام اور پاکستان کو خطرہ ہے تو علم دوست ملالہ یوسفزئی سے۔ حرف آخر یہ ہے کہ پاکستانی سماج پر رحم کیجئے یہ ملک اب مزید تنگ نظری اور فتوئوں کی چاند ماری کا متحمل نہیں ہوسکتا۔بہت زخم کھا ئے ہم نے اور 80 ہزار ہم وطن مروالئے ان مرحومین میں وہ شامل نہیں جنہیں بنام جہاد دوسرے ملکوں میں لے جا کر کھیت کروانے والے خود تو ارب پتی ہوگئے اور مرنے والوں کے خاندان در بدر ہیں۔ ملالہ اور ارفع کریم اور اعتزاز حسن ہمارا چہرہ ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام تھے یا عبدالستار ایدھی یہی ہمارا فخر ہیں۔ مکرر عرض ہے سعودیہ نے اپنا نظریہ اور ترجیحات تبدیل کرلی ہیں تو بتا تیرا کیا بنے گا کالیا؟۔

اداریہ