Daily Mashriq

پاکستان بھی مختلف ہوتا

پاکستان بھی مختلف ہوتا

میرا خیال تھا کہ شاید انسانی نظر کو مسلسل خوبصورتی دیکھتے رہنے کے بعد ، اس کی عادت سی ہو جاتی ہے اور عادت تو اکثر اوقات بہترین چیزوں کو بھی بے وقعت کر دیا کرتی ہے لیکن ترکی آنے کے بعد مجھے احساس ہوا ہے کہ خوبصورتی کی عادت نہیں ہوتی ۔ یہ ہر بار نئی صورت میں نئے رنگوں کے ساتھ آشکار ہو تی ہے ۔ خوبصورت سبز رنگ ، ہر بار ایک نئے سحر کو جنم دیتا ہے بادلوں کے خوبصورت رنگ ہر بار نئے سرے سے صبہوت کرتے ہیں ۔ برف سے ڈھکے پہاڑ ایک نئے ہی طریقے سے آنکھوں کو خیرہ کرتے ہیں ۔ لہلہاتی گھاس کے جسم کے لوچ میںہر بار ایک نئی نغمگی سنائی دیتی ہے ۔ یہ میرے مالک کے کمالات ہیں جو دل میں ہر بار یہ خیال رہتا ہے کہ بے شک انسان اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا ہی نہیں کر سکتا اور اسکی ضاعی کے دربار میں ہر بار سجدہ ریز یہ جبیں شکر گزار رہتی ہے کہ اس رب ذوالجلال نے یہ سب انسان کے لئے تخلیق کرنے کے بعد یہ نگاہ بھی دی جو اس خوبصورتی کو دیکھ سکتی ہے محسوس کر سکتی ہے ۔ ترکی آنے سے پہلے میںسمجھتی تھی کہ شاید دنیا میں پاکستان جیسا خوبصورت ملک کوئی نہیں ۔ یورپ کی مکمل سیر ، امریکہ میں کئی شہروں کی سیر کے بعد بھی میرے خیال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی ۔ مجھے ہر بار یہی محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر بڑا احسان ہے کہ اس نے مجھے پاکستان میں پیدا کیا کیونکہ پاکستان سے زیادہ خوبصورتی مجھے کہیں دکھائی نہیں دی لیکن استنبول سے پاماکلیکی طرف سفر کرتے ہوئے مجھے ہر بار یہ احساس ہوا کہ یہ ملک پاکستان سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے ۔ میں شاید اتنی با آسانی یہ اقرار نہ کر سکتی اگر یہ بات ترکی کے حوالے سے نہ ہوتی۔ ترکی سے پاکستان کی محبت ،میرے جیسے پاکستانیوں کو یہ حوصلہ دیتی ہے کہ ہم کھلے دل سے یہ اعتراف کرسکیں ، پھولوں سے لدے ہوئے سیب کے درخت آنکھوں کوخیرہ کرتی سبزے کی چمک ، کھلی شاداب وادیاں ، ایسا لگتا تھا کہ کوئی خواب ہے یا کوئی فسوں جو کوئی بد صورتی دکھائی نہیں دیتی ۔ اور جب میں پاما کلے پہنچی تو ایسا لگتا تھا جیسے صدیوں کا سفر کرکے کسی اور ہی وقت میں آن کھڑی ہوئی ہوں ۔ گرم پانی کے اُبلتے چشمے اور Calcium terracesجس کے بارے میں گائیڈ بتا رہا تھا کہ رومن دور حکومت میں بادشاہ یہاں آیا کرتے تھے ۔ ان گرم پانی کے بنے تالابوں میں زمین کے اندر سے گرم پانی جمع ہوتا ہے اور آگے بہتا جاتا ہے اس پانی میں معدنیات کی اتنی مقدار ہے کہ اس میں نہانے سے لوگوں کی بہت سی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں ۔ رومن بادشاہ بھی انہی چشموں میں نہایا کرتے تھے ۔ ان تالابوں سے ذرا اوپر ایک علیحدہ جگہ میں وہ تالاب بھی موجود ہے جو مارک انتھونی اور قلوپطرہ(Cleo patra)کے لیے مخصوص تھا ۔
ایسا لگتا تھا کہ جسے ابھی میری نگاہوں کے سامنے سے منظر بدل جائے گا اور یہیں کہیں قلوپطرہ اور مارک انتھونی کا خیمہ لگا دکھائی دے گا ۔ بازار ٹوٹا پھوٹا سا ڈھانچہ اچانک ہی زمین سے اُٹھ کھڑا ہوگا ، راستے درست ہو جائینگے ، اور پرانے لوگ ارد گرد چلتے پھرتے نظر آنے لگیں گے ۔ میں چشم تصور سے دیکھتی رہی کہ اس وقت یہ سارا منظر کیسا لگتا ہوگا ۔ وادی میں پھول ہی پھول کھلے تھے ، ارغوانی ، کانسی ، پیلے ننھے ننھے پھول جو گھاس میں چھپ کر گھاس کو ہی ایک نیا رنگ دے رہے تھے ۔ سامنے پہاڑوں پر نیلے بادل جھکے تھے ۔ اور تب مجھے احساس ہوا اللہ تعالیٰ کیصناعی انسان کے گمان سے بھی کہیں بڑھ کر ہے ۔ انسان تو اسکی نعمتوں کا شکر ہی ادا نہیں کر سکتا ۔ مجھے پاکستان کا خیال بھی ستا تا رہا جہا ں حکومتوں کی ترجیحات میں کبھی پاکستان کا مفاد شامل ہی نہیں رہا ۔ اسی لیے سیاحت کو فروغ دینے کی جانب کبھی توجہ نہیں دی گئی ۔وہ جگہیں جو سیاحوں کے لیے توجہ کا باعث بن سکتی ہیں ان تک نہ تو سہولیات پہنچانے کی کوشش کی گئی ، نہ سڑکیں مناسب معیار کی بنائی گئیں ۔ پاکستان میں بے شمار تاریخی مقامات بھی ہیں جو کھنڈر ہو چکے اور ان کی دیواروں پر مقامی محبتوں کے قصے تحریر ہیں یا عامل بابا نجومی کے اشتہارات چپکا دیئے گئے ہیں ۔ پاکستان میں شمالی علاقہ جات میں نہ تو کسی حکومت نے ہوائی جہاز کے سفر کی بہتر سہولیات کی طرف توجہ دی اور نہ ہی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے کوئی مناسب انتظامات کیے ۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا سیاح آجائے تو رہنے کی سہولیات ندارد اور اگر کسی کو تاریخی مقامات سے دلچسپی ہوتو اسے انتہائی مایوسی کے لیے تیار ہونا چاہیئے ۔ یہاں سیر کرتے ہوئے مجھے ہر بار بہاولپور کے محلات اور ڈیرہ نواب میں واقع اس اجڑے محل کی یا دستاتی رہی مجھے دراوڑ کا قلعہ یاد آتا رہا ۔ مجھے شاہی قلعہ لاہور کی کسمپرسی ستاتی رہی ۔ اپنے ملک کے حکمرانوں کی ترجیحات نے مسلسل کسی ننھے روتے بسورتے بچے کی طرح میرا دامن تھامے رکھا ۔ میں اس وقت انقرہ میں بیٹھی یہ کالم لکھ رہی ہوں ۔ ابھی تھوڑی دیر بعد کمال اتاترک کے مدفن کی جانب روانہ ہوجائوں گی ۔ اور میں سوچ رہی ہوں کہ آخر ہمارے بگاڑ کب کسی سلجھائو کا رستہ دیکھیں گے ۔ میں سوچتی ہوں کہ ترکی کو توکمال اتاترک مل گیا لیکن پاکستان شاید کسی بھی لیڈر سے اس لیے فائدہ نہ اٹھا سکا کیونکہ ابھی تک ہم میں وہ جذبہ حب الوطنی موجود ہی نہیں جو ترکوں میں موجود ہے اور ہمارے حکمرانوں نے کبھی صدق نیت سے اس ملک کو سنوارنے کی کوشش نہیں کی جیسی ترکی میں کی گئی ورنہ پاکستان کے حالات بھی مختلف ہوتے ۔

اداریہ