حالات حاضرہ پر رواں تبصرہ

حالات حاضرہ پر رواں تبصرہ

بچپن میں نانی دادی جو کہانیاں سنایا کرتی تھیں وہ ہم بڑے شوق سے سنا کرتے تھے لوڈ شیڈنگ کا اس زمانے میں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ آبادی کنٹرول میں تھی۔ سبزیاں خالص ملا کرتی تھیں دودھ خالص تھا دیسی انڈے اور دیسی مرغی کا زمانہ تھا ڈالر کے مقابلے میں ہمارے روپے کی اپنی قدروقیمت تھی۔ اس وقت کی گفتگو میں مہنگائی کا ذکر نہیں تھا۔ آج جو پشاور کی آلودگیوں کے تذکرے ہر طرف ہیںاس وقت آلودگی کے لفظ سے شاید آشنائی ہی نہیں تھی۔جب اتنا سکون ہو تو پھر کہانیوں کا منظر نامہ بھی کچھ اسی قسم کا بنتا تھا۔عموماًکہانی کا آغاز کچھ اس طرح ہوتا تھا ایک تھا بادشاہ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ !اگر غور کیجیے تو کتنا شاندار جملہ ہے بادشاہ کا ذکر بھی کیا جارہا ہے لیکن بچوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ یہ تعلیم بھی دی جارہی ہے کہ اللہ پاک ہمارا بادشاہ ہے جو سب حاکموں کا حاکم ہے۔ یہ ساری مخلوق اسی کی تخلیق ہے۔ ہم سب اس کے بندے ہیں وہ ہمارا خالق ہے اور ہم اس کی مخلوق ہیں!کہانی سنانے کا ایک ہی مقبول و معروف انداز ہوا کرتا تھا آغاز میں بتا دیا جاتا کہ بادشاہ بڑا رحم دل اور انصاف پسند تھا۔ اس کی حکومت میں شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیا کرتے تھے بادشاہ کی غریبوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا بیان ضرور کیا جاتا شاید یہ اس زمانے کی اشرافیہ کی کارستانی تھی کہ بادشاہ کے حوالے سے کوئی منفی بات نہیں کرنی اور منفی بات کرنے کا تو کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ عوام کو بادشاہ کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں تھا۔ کبھی کبھی جھروکے سے بادشاہ عوام کو دیدار کروادیتا تو لو گ خوش ہوجاتے آج کی طرح تو نہیں تھا کہ اگر وزیر اعظم یا صدر چھینک بھی مارے تو بریکنگ نیوز چل پڑتی ہیں۔ میڈیا رات دن ارباب اقتدار پر اپنی دوربینی نگاہیں رکھے ان کی حرکات وسکنات اور مصروفیات نشر کرتا رہتا ہے۔ اگر جانبداری کا مظاہرہ نہ کیا جائے تویہ آج کے دور کی ایک اچھی بات ہے معلومات کا ایک خزانہ ہے جس کی وجہ سے سب بدہضمی کا شکار ہیں۔ نانبائی سے لے کر ایک سیاستدان تک سیاست سب کا من بھاتا موضوع ہے! اب تو وہ زمانے بھی رخصت ہوچکے ہیں جب نانی دادی کی عمر سترکا ہندسہ تو ضرور عبور کرچکی ہوتی تھی۔ اسی اور نوے برس کی دادیاں بھی بکثرت پائی جاتی تھیں آج کل تو جوان دادیوں کی بہتا ت ہے ۔شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ شادی کاحادثہ بہت چھوٹی عمر میں ہوجاتا ہے ۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ کل ہمارا بھانجا عمار جو آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے چہرے پر حیرانیاں لیے ہمارے پاس آکر کہنے لگا ماموں جان کل رات کو دادی جان نے بڑی عجیب کہانی سنائی اس کے بعد عمار نے اپنی دادی کی سنائی ہوئی کہانی ہمیں بھی سنائی :ایک د فعہ کا ذکر ہے کہ ایک بہت بڑے ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا اس کی بادشاہت میں شیر ا ور بکری ایک گھاٹ پانی نہیں پیتے تھے امن و سکون کا بھی دور دورہ نہیں تھا عام لوگ بھی خوشحال نہیں بلکہ پریشان تھے روز بروز لوگوں کے مسائل بڑھ رہے تھے۔ بادشاہ کا مزاج عام بادشاہوں سے مختلف تھا آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ بادشاہ کے مزاج میں ہمیشہ کی افسردگی کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی تھی۔ ایک تو وہ اپنے تاثرات چھپانے پر قادر نہیں تھا اس کی اداسی اس کے چہرے سے صاف جھلکتی تھی ۔اسے فریاد وکناں کی عادت بھی تھی وہ گلے شکوے بہت کرتا تھا۔ اس کے حریف اس کی ان کمزوریوں سے خوب واقف تھے اس لیے وہ ہر روز اسے زچ کرنے کے لیے نت نئے فقرے تراشتے رہتے تھے ! اس کی کچھ غلطیوں کی وجہ سے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں اس کے خلاف کچھ مقدمے بھی چل رہے تھے اور اسے ہر دوسرے دن عدالتوں میںپیشیاں بھگتنی پڑتی تھیں !بادشاہ کا ایک کمال یہ بھی تھا کہ وہ بہت سے بڑے بڑے کاروبار کامیابی سے چلانے میں خاص مہارت رکھتا تھا۔ اس کے بہت سے کارخانے تھے جن میں ہزاروں مزدور رات دن کام کرتے تھے اپنے ملک سے باہر بھی اس کے کاروبار اور بہت بڑی جائیداد تھی ۔دادی جان یہ آپ ہمیں کس زمانے کے کس بادشاہ کی کہانی سنا رہی ہیں؟یہ تو کسی آج کے دور کے صدر یا وزیر اعظم کی کہانی لگتی ہے؟ آج جمہوریت کا دور دورہ ہے اگر وزیر اعظم اس قسم کی غلطیاں کرتا ہے تو اس کے خلاف مقدمے بھی بنتے ہیں اسے اپنی پارٹی کی صدارت سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں اور اسے ملک کی سب سے بڑی عدالت جسے سپریم کورٹ کہتے ہیں سزا دینے پر بھی قادر ہے اور یہ سب کچھ تو ہمارے وطن میں ہورہا ہے ہمارے سابقہ وزیراعظم یہ سب کچھ بھگت رہے ہیںان سے ان کی دولت کا حساب بھی پوچھا جارہا ہے !پہلے زمانے کے بادشاہ تو بڑے زور آور اور مطلق العنان ہوا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ بات کرنے سے پہلے جان کی امان لینی پڑتی تھی آج تو ہمارے معاملات میںامریکہ بہادر کی مداخلت حد سے زیادہ ہے۔ وہ اپنے ڈالروں کے زور پر ہم سے مسلسل ڈو مورکا تقاضا کرتا رہتا ہے اسے اپنی فوجی طاقت پربھی بڑا زعم ہے وہ اپنے آپ کو خدائی فوجدار سمجھتا ہے اس لیے چھوٹے ممالک کے معاملات میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتا ہے !آٹھویں جماعت کے طالب علم سے حالات حاضرہ پر رواں تبصرہ سن کر ہماری تو سٹی گم ہوگئی!۔

اداریہ