Daily Mashriq


معاشرے میں عدم برداشت کے اسباب

معاشرے میں عدم برداشت کے اسباب

اگرچہ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے بلکہ اس پر اب کافی کتابیں بھی منظر عام پر آئی ہیں ، لیکن اب تو عدم برداشت نے ایک عجیب کیفیت پیدا کی ہے ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اب معاشرے میں عدم برداشت کے سبب خونی رشتوں کی بُری بلکہ سفاکانہ طرز پر پائمالی روز اور معمول کی خبر بن چکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب باپ اور ماں کے ہاتھوں اپنی معصوم اولاد کے گلے گھونٹے جاتے ہیں یا اُن کو دریا برد کیا جاتا ہے سفاک شوہر کے ہاتھوں بیوی انسانیت سوز درندگی کے ساتھ موت کے گھاٹ اُترتی ہے یا وطن عزیز کے معصوم بچے کے شیطانی ہاتھوں زیادتی کے بعد قتل کے واقعات سامنے آتے ہیں تو لوگ دو تین اُف اُف کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ حکومتی ادارے بھی چند دن کی پھرتیوں بعد معمول کے کاروبار میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ حالانکہ اس قسم کی انسانیت سے ماوراء درندگی نہیں کیونکہ درندے بھی ایسا نہیں کرتے بلکہ ماورا شیطانیت اور شاید شیطان بھی کہے کہ میں نے اس طرح کرنے کو تو نہیں کہا تھا ۔ باضمیر اور ذمہ دار معا شروں اور حکومتوں کے لئے لمحہ فکریہ اور المیہ ہوتا ہے ، آج کا الیکٹرانک میڈیا جو پاکستان کے دو تین طاقتور ترین اداروں میں شمار ہے ، حقیقت یہ ہے کہ کئی ایک لحاظ سے معاشرے میں مثبت انقلاب بر پا کر چکا ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جرائم اور درندگی کے واقعات کو اس انداز میں عوام کے سامنے لانے کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ اگرچہ یہ بہت تفصیل طلب بات ہے لیکن اللہ و رسول ؐ کا فرمان یہ ہے کہ بُری اور بے حیائی اور بدکاری کی خبروں کو معاشرے میں پھیلایا نہ جائے ۔ لیکن ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ جب عام مذموم واقعات کے علاوہ جب کوئی سنگین واقعہ رونما ہوجاتا ہے تو ہمارے حکومتی افراد اور میڈیا اپنے اپنے نمبر بنانے کے لئے کیمروں کی چکا چوند میں مظلوم کے گھر پہنچ جاتے ہیں اور پھر میڈیا دو تین دن کے لئے ، ہر بلٹن میں اُس واقعے کو اتنا اُچھالتا ہے کہ لوگ تنگ آجاتے ہیں اس پر مستزاد ہمارے چینلوں پر سرشام بیٹھکیں اور مجالس و محافل سجانے والے ہوتے ہیں جو اس قسم کے واقعات پر سیاسی سکورنگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے لوگوں کے جی کو ستانے آجاتے ہیں ۔ خیر یہ تو حکومت اور میڈیا کا اخلاقی اور معاشرتی فرض ہے کہ اس قسم کے واقعات کواچھالانہ جائے کیونکہ معاشرے کے نوجوانوں اور بالخصوص خواتین پر اس کابہت بر اثر پڑتا ہے ۔ جہاں تک معاشرے میں اس قسم کے ناقابل تصور واقعات کے ظہور پذیر ہونے کا تعلق ہے تو اس کی بے شمار علاقائی اور عالمی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن کئی ایک اہم وجوہات مندرجہ ذیل ہیں ۔ میری رائے میں سب سے اہم اور بنیادی وجہ عدم برداشت کی یہ ہے کہ ہمارا نظام اور نصاب نئی نسل کی اُس انداز میں ذہنی آبیاری کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی پاکستان جیسے ملک کو خصوصی ضرورت ہے ۔ ہمارے ملک میں نصاب سازی اور اساتذہ کی تعلیم و تربیت ملک کے سٹیٹ مشن کے مطابق نہیں ہوتی اس لئے ایک ایسی نوجوان نسل وجو د میں آئی ہے جو عالمی تہذیب و ثقافت کے سامنے اپنی تہذیب و ثقافت پر پختہ ایمان و یقین کے بغیر ایکسپوز ہے ۔ ذرائع مواصلات (کمیونکیشن ) کے ذریعے وہ کچھ سیکھ رہے ہیں جس کے لئے راتوں رات لکھ پتی اور کروڑ پتی ہونا ضروری ہے اور مغرب یا ملک کے ایلیٹ طبقات کے طرز بودوباش کے حصول کے لئے جرائم کی دنیا میں چلے جاتے ہیں ۔ دوسری بڑی وجہ تعلیم کا فقدان اور غربت ہے ۔ غربت کے ہاتھوں اس وقت بھی پچاس فیصد لوگ ان پڑھ ہیں اور جو پچاس فیصد تعلیم یافتہ ہیں وہ شرح خواندگی کے ذیل میں ہیں ورنہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو تعلیم کے زور پر علم خیر و شر ، حلال و حرام اور نیک و بد کا صحیح شعور رکھتے ہیں ۔ بقول شاعر

اب زندگی سے مغفرت نیک و بدگئی

لا علمیوں کی پوٹ مہد تا لحد گئی

تیسری بڑی وجہ تعلیم کے فقدان ، غربت ، سماجی و معاشرتی و سیاسی حالات کے نتیجے میں پیدا شدہ لالچ ہے ۔ سرمایہ پرستی اور حب زرنے ہماری اسلامی اقدار ، صبر قناعت ، اللہ تعالیٰ پر خیر الراز قینہونے کا عین الیقین وغیرہ بہت کمزور ہو چکے ہیں ۔ اسی وجہ سے دولت اور چند پیسوں کے حصول کی راہ میں رکاوٹ بننے والا ہر رشتہ ہمیں قبول نہیں ۔ چوتھی بڑی وجہ عالمی حالات ہیں ۔ جنگوں ، لڑائیوں اور خانہ جنگیوں نے مسلمان ملکوں اور معاشروں کو بدترین انتشار کا شکار بنا کر عوام کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے ، عراق ،شام ، یمن اور افغانستان و لیبیا میں بچوں اور خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا ، اُس نے لوگوں کے صبر کی قوت کو توڑ پھوڑ دیا ہے اور متاثرہ لوگ سخت ردعمل کے شکار ہورہے ہیں ۔

پاکستانی معاشرہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے سبب جہاں جانی ومالی نقصانات کا شکار ہوا ہے وہاں معاشرے پر اس کینفسیاتی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں لیکن ہمارا سب سے بڑا المیہ اخلاقی ہے ۔ سب سے بڑا مرض دولت کی لالچ ہے ۔ سب سے بڑی کمزور ی دولت ہے دولت کو ہم نے نعوذباللہ معبود کا درجہ دے دیا ہے ۔ اور ہم اسے پوجنے لگے ہیں اور ما شا ء اللہ مغرب کے سرمایہ دارانہ اور سودی نظام نے انسانیت کو نور حق سے محروم کر دیا ہے لہٰذا ہم سب گھپ اندھیروں میں ٹھوکروں پہ ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

ایں بنوک دیں فکر چالاک یہود

نور حق از سینئہ آدم ربود

متعلقہ خبریں