Daily Mashriq

الجزائر کے صدر کا 28 اپریل سے قبل استعفے کا اعلان

الجزائر کے صدر کا 28 اپریل سے قبل استعفے کا اعلان

الجزائر کے صدر عبدالعزیز بوتیفلیکا نے ملک بھر میں جاری طویل احتجاج اور حامیوں کی جانب سے بھی ساتھ چھوڑنے پر 28 اپریل کو مدت پوری ہونے سے قبل استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق الجزائر کے صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عبدالعزیز بوتیفلیکا نے اہم فیصلہ کرلیا ہے اور وہ 28 اپریل 2019 کو مستعفی ہوجائیں گے، تاہم اس حوالے سے حتمی دن کا تعین نہیں کیا گیا۔

سرکاری نیوز ایجنسی 'اے پی ایس' کا کہنا تھا کہ صدر عبدالعزیز بوتیفلیکا انتقال اقتدار کے دوران ریاستی اداروں کو اپنے کام کو موثر انداز میں جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔

الجزائر کے 82 سالہ صدر کو 2013 میں عوامی اجتماع کے دوران دورہ پڑا تھا جس کے بعد وہ بدستور ملک کے حکمراں رہے، تاہم 20 سالہ اقتدار کے بعد اب انہیں صدارتی سے مستعفی ہونے اور حکومت منتقل کرنے کے لیے شدید احتجاج اور مظاہروں کو سامنا ہے۔

عبدالعزیز بوتیفلیکا کی جانب سے رواں سال فروری میں اعلان کیا گیا تھا کہ وہ پانچویں مرتبہ منتخب ہونے کی تیاری کر رہے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر لاکھوں افراد نے احتجاج کیا تھا۔

انہوں نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور اپریل میں شیڈول انتخابات کو بھی ملتوی کردیا گیا ہے، اس اعلان کے ساتھ ہی عوام میں موجود غصہ مزید شدت اختیار کرگیا۔

الجزائری صدر کو اس اعلان کے بعد اپنے قریبی رفقا سمیت حامیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا اور ان کے اتحادیوں نے بھی انتقال اقتدار کا مطالبہ کردیا۔

الجزائر کے مسلح افواج کے سربراہ جنرل احمد غائد صلاح نے گزشتہ ہفتے اپنے بیان میں کہا تھا کہ صدر کو استعفیٰ دینا چاہیے یا پھر پارلیمنٹ انہیں طبی بنیاد پر حکمرانی کے لیے ناموزوں قرار دے۔

خیال رہے کہ جنرل احمد غائد صلاح کو صدر عبدالعزیز بوتیلفیکا نے 2014 میں مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

آرمی چیف کے بیان کے بعد صدر کے اہم اتحادی نیشنل ریلی فار ڈیموکریسی (آر این ڈی) کے سربراہ احمد اویاہیا نے بھی صدر سے حکومت کی پرامن منتقلی کے لیے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

الجزائر کے آئین کے مطابق استعفے کے بعد ایوان بالا کے اسپیکر عبدالقادر بن صلاح 90 روز کے لیے قائم مقام رہنما کے طور پر کام کریں گے اور اس دوران صدارتی انتخاب ہوگا۔

عبدالعزیز بوتیلفیکا کی جانب سے استعفے کے اعلان کے بعد متعدد حلقوں کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا لیکن سیاسی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے حوالے سے عوام کو توقع نہیں ہے۔

شہریوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ بوتیلفیکا کے استعفے کے بعد کیا ہوگا۔

خیال رہے کہ الجزائر میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد امن کے قیام میں کردار ادا کرنے کے باوجود صدر عبدالعزيز بوتفليقا کو حکمرانی کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا۔

متعلقہ خبریں