Daily Mashriq


قیمتوں میں اضافہ یا پیٹرول بم

قیمتوں میں اضافہ یا پیٹرول بم

موجودہ حکومت نے اپنے سات ماہ کے اقتدار میں تیسری مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر صرف پیٹرول بم نہیں گرایا ہے بلکہ گیس کی قیمتوں میں ایک سو پینتالیس فیصد اضافہ بھی ہوا ہے، یہی نہیں بجلی کی قیمتوں میں 7روپے فی یونٹ کے بتدریج اضافے کا سلسلہ بھی شروع ہے، مستزاد ڈالر کی قیمت ایک سو بیالیس روپے سے اوپر ہوچکی ہے۔ ان سارے عوامل کا ملک کی معیشت پر اثر اور ملکی قرضوں میں یکایک ہوشربا اضافہ اپنی جگہ عوام پر ہرطرف سے جو سانپ چھوڑے جارہے ہیں ان کے ڈسنے سے عام آدمی کا زندہ درگور ہونا اب وہ سنگین ترین مسئلہ بن چکا ہے جس پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اب ہر شخص مشوش، ناراض اور سراپا احتجاج ہے۔ وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات میں جو اضافہ کیا ہے اس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں6 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل فی لیٹر6 روپے، لائٹ ڈیزل اور مٹی کا تیل3,3 روپے فی لیٹر مہنگے ہوچکے ہیں اور ان قیمتوں کا اطلاق بھی ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 98روپے89 پیسے فی لیٹرکو پہنچ گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت117روپے 43پیسے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی نئی قیمت89 روپے 31پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت80 روپے54 پیسے فی لیٹر ہوچکی ہے۔ حکومت نے28 فروری کو جاری نوٹیفکیشن میں پیٹرول کی قیمت میں2 روپے50 پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے50 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں4 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے75 پیسے اضافہ کیا تھا۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 92روپے 88 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت111روپے43 پیسے، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 77روپے53 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت86 روپے31 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ قبل ازیں31اکتوبر2018 کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے 6روپے تک اضافے کا اعلان کیا تھا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی شرح میں کمی کیساتھ نتھی ہونے کے باعث آئندہ بجٹ تک ہر ماہ عوام پر پیٹرول بموں کی بارش کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ بجٹ تک یا اس کے بعد ڈالر کی قیمت 180تک پہنچ سکتی ہے۔ وزیراعظم اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق کے حصے کی کمی اور صوبوں کے حصے میں اضافے کی بناء پر وفاقی حکومت کے دیوالیہ ہونے کا ازخود اعلان کر چکے ہیں، ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پیٹرولیم لیوی جو وفاقی ٹیکس ہوتا ہے میں اضافہ کر کے کیا گیا جسے اس امر سے تشبیہہ دینا کہ وفاقی حکومت ایک جانب عوام کو نچوڑ رہی ہے اور دوسری جانب اس میں صوبوں کو حصہ دینا بھی گوارا نہیں، وفاقی حکومت سے سندھ حکومت کی اس کے حصے کا فنڈز نہ دینے کی شکایات ہیں تو خیبر پختونخوا کی حکومت کو بجلی کے خالص منافع کے اپنے بقایاجات اور فاٹا کے انضمام کیساتھ وراثت میں ملنے والے لاوارث اضلاع کے حصے کی رقم کی عدم ادائیگی بلکہ این ایف سی ایوارڈ کے اجلاس میں اس سے سراسر انکار اور صوبے کو آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات میں شمولیت دیکر کیا گیا۔ اس وقت ملک کی معاشی صورتحال دیکھ کر اور عوام کی حالت زار کو سامنے رکھتے ہوئے ساری باتیں اور ساری مشکلات کو ایک طرف رکھ کر انجام گلستاں کیا ہوگا کا سوال اُٹھتا ہے۔ یہ ایک ایسا مشکل سوال ہے جس کا جواب صرف حکمرانوں کے پاس ہی نہیں، معیشت دانوں اور ماہرین سمیت کسی کے پاس بھی نہیں۔ حکومت نے کفایت شعاری وسادگی کے جو بھاشن دیئے تھے ان کی حقیقت بھی آشکار ہو چکی ہے اب عوام کو مزید نہ تو چوروں اور ڈاکوؤں کو کوس کر بہلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی بلند وبانگ دعوؤں پر عوام یقین کرنے کو تیار ہیں۔ اس صورتحال میں عوام سنجیدہ احتجاج بھی نہیں کرسکتے کہ اس کا بھی منفی اثر رہے سہے روزگار دیہاڑی اور کاروبار پر پڑتا ہے۔ صورتحال نہ جائے ماندن اور نہ پائے رفتن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حکمرانوں کے پاس ملکی معیشت کو سہارا دینے کیلئے تیل اور گیس کے ذخائر نکل آنے کی خوشخبری اور احساس پروگرام شروع کرنے کا لولی پاپ ہے۔ شاید اس کی ضرورت اس لئے بھی اب اور بڑھ گئی ہے کہ اب عوام غربت مکاؤ کی سطح پر نہیں غریب مکاؤ پروگرام شروع کرنے کی حالت میں آچکے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ نہ ہونے کی توقع رکھنے کا ابھی سے عندیہ دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں زیریں اور متوسط طبقے تو خط غربت سے نیچے اور بہت نیچے چلے گئے ہیں بلکہ متوسطہ طبقہ تو اب باقی ہی نہیں رہا۔ ایک خط غربت کی لکیر کے نیچے کے عوام اوردوسرا اشرافیہ کا طبقہ ہی باقی ہے غریب روزانہ کی بنیاد پر غریب سے غریب تر اور امیر طبقہ امیر تر ہوتا جارہا ہے۔ عوام جس حکومت کو تبدیلی اور اپنے مسائل کے یقینی حل کی قوی امید پر ان کے وعدوں اور دعوؤں پر اعتبار کر کے لائے تھے آج وہ سارے دعوے الٹ ثابت ہورہے ہیں، اُمیدیں دم توڑ گئی ہیں، عوام میں مایوسی انتہا کو پہنچ گئی ہے، ملک میں بدترین مہنگائی اور قحط کا خدشہ ہے، کاروبار دیوالیہ ہورہے ہیں، آمدنی گھٹ رہی ہے، تنخواہ دار طبقہ اور دیہاڑی دار اور کاریگر کی کمائی جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے اب کافی نہیں تو ڈالر کے ایک سو اسی یا اس کے لگ بھگ ہونے کے بعد کیا عالم ہوگا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بعد کا عالم کیا ہوگا۔ حکومت کے پاس کوئی پروگرام نہیں سارے دعوے غلط ثابت ہوچکے ہیں، انجام گلستاں کا سوال اس شدت سے اُٹھ رہا ہے کہ اس کا جواب تلاش کیا جانا چاہئے۔ عوام تو کالانعام ہی سمجھے جاتے ہیں اور عملی طور پر ان کیساتھ سلوک بھی اسی طرح کا روا رکھا گیا ہے اور یہ سلوک بدستور جاری بھی ہے۔

متعلقہ خبریں