Daily Mashriq


نام کی تبدیلی نہیں معاملات کی تحقیقات کی ضرورت

نام کی تبدیلی نہیں معاملات کی تحقیقات کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کا عندیہ دینے کے بعد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان جس لفظی جنگ کا آغاز ہوگیا ہے اس سے سیاسی ماحول میں تناؤ کی کیفیت میں اضافہ ہوگا اور وزیراعظم عمران خان نے اتحادی جماعتوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی آئی ایس پی ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔ ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میں ذاتی طور پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ کچھ جماعتوں کا خیال ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کے رہنماؤں نے بی آئی ایس پی کا غلط استعمال کیا۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے معاملات میں خرابی خوربرد غیرمستحق افراد کو کارڈوں کی فراہمی اور مستحقین کو کارڈوں کے اجراء کے باوجود مختلف حیلے بہانوں سے امدادی رقم سے محروم رکھنا کوئی پوشیدہ امر نہیں، ان عوامل کی تحقیقات نام کی تبدیلی سے زیادہ ضروری اور ثمرآور ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو وطن عزیز کی ایک قدآور اور عالمی سطح پر منجھی ہوئی سیاستدان تھیں جن کے دور حکومت میں اس پروگرام کا آغاز ہوا اس نام کو بعد میں آنے والی حکومتوں نے بھی تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دیکھا جائے تو یہ کوئی ایسا معاملہ بھی نہیں جس پر خواہ مخواہ وقت ضائع کیا جائے لیکن اگر حکومت اس نام کی تبدیلی پر تل ہی گئی ہے تو پھر اسے سینٹ میں منظور کرانے کی حکمت عملی بھی واضح کر دینی چاہئے۔ حکومت کے پاس ایسے ایشوز اور معاملات کی کمی نہیں جن کا حل قومی ضرورت اور ملک وقوم کی فلاح کیلئے ضروری ہیں بجائے اس کے کہ ان پر وقت صرف کیا جائے خواہ مخواہ ایک پروگرام کے نام کی تبدیلی پر اڑ جانے کو عوام بھی اچھی نظروں سے نہیں دیکھیں گے اور جن لوگوں کا سالوں سے اس پروگرام سے واسطہ ہے ان کو دکھ ہوگا۔ اگر پیپلز پروگرام اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے نام ہی کامیابی کے ضامن ہوتے تو آج پی پی پی سندھ تک سکڑ گئی نہ ہوتی۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنما نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کی تبدیلی کی ذاتی طور پر مخالفت کر کے قیادت کو جو پیغام دیا ہے اس پر غور کرتے ہوئے اس خواہ مخواہ کے تنازعے کا خاتمہ کیا جائے تاکہ خواہ مخواہ کے تضادات اور کشیدگی کی صورتحال نہ ہو۔

بائیو ڈیگریڈ ایبل بیگز بارے پراپیگنڈہ

ناقابل تحلیل شاپنگ بیگ تیار کرنے والے تاجروں کا بائیو ڈیگریڈ ایبل بیگز کو حفظان صحت کے منافی قرار دیدیا اور دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ بیگز بھارت سے درآمد کئے جا رہے ہیں جس میں موجود خطرناک کیمیکلز انسانی صحت دے کر تھیلوں کی تیاری میں خطرناک کیمیکل استعمال ہونے کے الزام سے اتفاق تو نہیں کیا جا سکتا لیکن سنگین الزام کی تحقیقات کے بعد درست صورتحال کے عوام کی آگاہی بہرحال انتظامیہ کا فرض ہے تاکہ اگر کوئی غلط فہمی تھی تو وہ دور ہو جائے تاجروں کے مطابق درآمدی کیمیکل کو ملک کی مختلف لیبارٹریوں کے علاوہ مختلف ممالک نے انسانی جانوں کیلئے مضرصحت قرار دیا ہے۔ تاجروں کی جانب سے اس قسم کی افواہوں کا مقصد پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی میں نرمی کی کوئی کوشش ہو سکتی ہے بائیو ڈیگریڈ ایبل بیگز دنیا بھر میں استعمال ہوتے ہیں اور کوئی ایسی تحقیق سامنے نہیں آئی ہے کہ ان کو مضرصحت قرار دیا جائے لیکن بہرحال عوام کو صحیح صورتحال کا علم ہونا چاہئے جہاں تک پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی کا سوال ہے تو یہ امر نہایت حیران کن ہے کہ پابندی کے باوجود ان کی تیاری سپلائی اور کھلے عام استعمال میں کوئی کمی نہیں آئی جس سے ایک مرتبہ پھر حکومتی پابندی کا لاحاصل ہونے کا خدشہ ہے اس ضمن میں سنجیدگی اختیار کئے بغیر حصول مقصد ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں