Daily Mashriq

ہائے اس زود پشیماں کا۔۔

ہائے اس زود پشیماں کا۔۔

حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں کی معذرت پر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں بلائے گئے مشاورتی اجلاس کو منسوخ کر دیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما شہباز شریف نے بذریعہ خط جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بذریعہ فون، اپنی سیاسی مجبوریوں اور مصلحتوں کے پیش نظر اس اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی مجبوریوں کے پیش نظر مشاورتی اجلاس منعقد نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی بریفنگ میں شرکت کیلئے تمام پارلیمانی رہنماؤں کو خطوط ارسال کئے تھے۔ خط میں وزیر خارجہ نے 16دسمبر2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بننے والے نیشنل ایکشن پلان کا ذکر تو کیا تھا لیکن اسی کے تحت دہشتگردی کے مقدمات چلانے کیلئے تشکیل دی جانے والی فوجی عدالتوں کا ذکر موجود نہیں تھا۔ اس حوالے سے اپوزیشن رہنماؤں کا ماننا تھا کہ حکومت کی جانب سے یہ مشاورت فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کیلئے ہے۔شاہ محمود قریشی کی جانب سے دعوت نامے کے جواب میں شہباز شریف کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ مجموعی طور پر اپوزیشن مل جل کر فیصلے کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ آپ اپنی مجوزہ بریفنگ قومی اسمبلی کو دیں تاکہ ملک کے چند منتخب پارلیمانی رہنماؤں کے بجائے پوری پارلیمنٹ کی مجموعی دانش سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ شہباز شریف کا جواب بڑا کھرا ہے کیونکہ جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تب بھی وہ پارلیمنٹ کو وقعت نہیں دیا کرتے تھے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت ماضی میں نیشنل ایکشن پلان کو مسترد کر چکی ہے اور اس نے 28مارچ کی بریفنگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکو مت جہاں بہت سے اہم معاملات میں تاخیر کا شکار چلی آرہی ہے وہاں فوجی عدالتو ں کی مدت میں توسیع میں بھی سست روی کا مظاہرہ کیا گیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اتنے اہم مسئلہ کیلئے فروری میں ہی اتفاق رائے کیلئے راہ ہموار کی جاتی مدت ختم ہونے سے صرف دو دن پہلے حزب اختلاف کو مدعو کیا جارہا ہے کہ وہ آئیں اور توسیع کے مسودے پر انگوٹھا ثبت کردیں پھر ایسی سیاسی جماعتیں جن کو پی ٹی آئی اپنی کنٹینر کی سیاست کے وقت سے بند گلی لے جانے کیلئے ہر حربہ استعمال کرتی رہی ہے۔ سیاست میں مفاہمت ایک لازمی جزو ہوتا ہے چنانچہ سیاسی جماعتوں کے اقتدار کو تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے جو رویہ پی ٹی آئی کا رہا آج اس کو احساس ہوا ہے کہ بند گلی میں کسی کو پہنچانے کے نتائج کیا ہوا کرتے ہیں۔ وزیر اطلاعات جن کے الفاظ کی مار ہر وقت حزب اختلاف پر پڑتی رہتی ہے وہ بھی آج یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ حکومت اس مسئلے پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کرچکی ہے کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع نہیں کی جا سکتی۔ گویا فواد چودھری کو بھی احساس ہوا کہ تعاون کے بغیر تن تنہا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے 24 مارچ کے بیان میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نیشنل ایکشن پلان کے سیاسی جزو پر عمل درآمد کیلئے آگے بڑھنا چاہتی ہے جس کیلئے سیاسی اتفاق رائے کی اشد ضرورت ہے، اسی لئے میں نے تمام پارلیمانی رہنماؤں کو دعوت دی ہے اور انہیں خطوط بھی لکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ اس معاملے پر پارلیمان میں بات کی جائے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ پارلیمنٹ سب سے بہترین فورم ہے۔ واضح رہے کہ 16دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد جنوری 2015 میں فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں جن کی مدت 2سال تھی، ان عدالتوں کے تحت دہشتگردی کے الزامات کا سامنا کرنے والے شہریوں کے مقدمے ان میں چلانے کی اجازت دی گئی تھی اور دوسالہ آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد یہ عدالتیں جنوری سے مارچ 2017 تک غیرفعال رہی تھیں تاہم بعد ازاں سیاسی جماعتوں کے تحفظات کے باوجود ان کی مدت میں 2سال کی توسیع کردی گئی تھی اور جس کی مدت 30مارچ کو ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد سے یہ عدالتیں معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔

حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید 2سالہ توسیع کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اس سلسلے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اب تک کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ حکومت کو نئی آئینی ترمیم لانے کیلئے ایوان میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں مزید توسیع سے متعلق قانون کا ابتدائی قانونی مسودہ تیار کیا جا چکا ہے جبکہ وزارت قانون اور وزارت داخلہ کو 30مارچ سے قبل ہی یہ ذمہ داری دی جاچکی تھی۔ فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت اور ٹرائل کی تعداد سے متعلق کوئی سرکاری ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ تاہم گزشتہ برس نومبر میں قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ فوجی حکام نے مارچ میں 2سالہ مدت کی تکمیل سے قبل دہشتگردی سے متعلق 185مقدمات کا فیصلہ کرنا ہے۔ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کے سوال کے تحریری جواب میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے لیکر اب تک وزارت داخلہ نے فوجی عدالتوں کو دہشتگردی کے717مقدمات ارسال کئے تھے ، (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں