Daily Mashriq


بارود کے بدلے آجائے ہاتھوں میں کتاب

بارود کے بدلے آجائے ہاتھوں میں کتاب

آج اپریل کے مہینے کی 2تاریخ ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کی کتابوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ کتابیں انسان کی بہترین دوست ہیں۔ ہم نے کتابوں ہی میں یہ بات پڑھی تھی کہ ایک دفعہ ایک پہنچے ہوئے بزرگ اپنے چند مصاحبوں یا مریدوں کے ہمراہ کسی بازار سے گزر رہے تھے۔ اس بازار میں ایک پھل فروش کینو مالٹے اور چکوترے کی نسل کے پھل ’سنگترے‘ بیچتے ہوئے اپنے گاہکوں کو سنگترے خریدنے کی ترغیب دینے کی غرض سے دہرا دہرا کر کہہ رہا تھا آؤ لیجاؤ میٹھے اور اچھے سنگترے۔ صوفی بزرگ سنگترے بیچنے والے کی آواز سن کر ایک دم چونکے اور رک کر اپنے مریدوں سے مخاطب ہوکر کہنے لگے ’’ذرا سنو تو، کیا کہہ رہا ہے سنگترے بیچنے والا، ذرا غور کرو اس کی آواز پر یہ کہہ رہا ہے اچھے سنگترے۔ جس کے معنی ہیں کہ کسی اچھے سنگ کیساتھ مل کر برا سنگ بھی تر جاتا ہے مگر اس کے برعکس ہر برے سنگ کا سنگ نبھانے والا ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘ کے مصداق اپنے ساتھ ان کی بھی لٹیا ڈبو دیتا ہے، جو برے سنگ والوں کیساتھ دوستی یا یاری گانٹھنے کی حماقت کر بیٹھتے ہیں۔ کتابیں بہترین ساتھی یا اچھا دوست اسی وقت ثابت ہوتی ہیں جب ان کے ا نتخاب میں احتیاط برتی جائے۔ کتاب کے حوالہ سے اس دور کا بہت بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ بچے تو بچے بڑوں میں بھی ان کے پڑھنے کا رجحان ختم ہوچکا ہے لیکن ہمارے قارئین میں کتابیں پڑھ کر اپنے علم میں اضافہ کرنے کے شوقین اب بھی موجود ہیں۔ حال ہی میں مجھے اپنے کالم کے ایک قاری کا ای میل موصول ہوا جس نے کالم کی تعریف کرنے کے بعد پوچھا ہے کہ آپ مجھے ایسی کتابوں کے نام بتائیں جن کو پڑھنے سے میری معلومات میں اضافہ ہو جس کا جواب بالشتاب دیتے ہوئے میں نے ان سے کہہ دیا کہ جو تحریر آپ کو اچھی لگے اسے اول تاآخر سمجھ کر پڑھ لیا کیجئے اور ساتھ ہی یہ بات بھی عرض کردی کہ اس موضوع پر اپنے کالم میں کچھ عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔ میں اپنا تعارف کراتے وقت کبھی کبھی تفنن طبع کی خاطر کہہ دیا کرتا ہوں کہ میں ابھی 69برس کا ننھا منا بچہ ہوں۔ میری اس بات کو سن کر وہ لوگ کھلکھلا اُٹھتے ہیں جو مجھے بزرگ یا بابا کہہ کر پکارنا چاہتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو علم حاصل کرنے کیلئے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی، اس ہی لئے ہماری دینی تعلیمات میں حصول علم کو ہر مرد وزن کیلئے فرض قرار دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی حکم ہوا ہے کہ مہد سے لحد تک علم حاصل کرتے رہو۔ لیکن ماہرین نفسیات کا یہ کہنا بھی توجہ طلب ہے کہ اس دنیائے آب وگل میں آنکھ کھولنے والا ہر بچہ اپنی عمر کے ابتدائی سات برس میں جو کچھ سیکھتا یا سمجھتا یا پڑھتا ہے وہ باقی زندگی میں سمجھنے اور سیکھنے کی نسبت ستر فیصد ہوتا ہے۔ یعنی زندگی کے ابتدائی سال جسے ہم بچپن کے زمانہ سے تعبیر کرتے ہیں سیکھنے اور سمجھنے کیلئے جتنے اہم ہیں اس میں کسی بھی کلام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ جبھی تو لوگ اپنے بچپن کے زمانے کو بھلائے نہیں بھول سکتے 

میرے بچپن کے دن

کتنے اچھے تھے دن

آپ دیوانوں کے دیوان لکھ کے شائع کرتے رہیں، ناول، افسانے، ڈرامے، داستانیں یا تاریخ وتحقیق پردرجنوں کتابیں لکھ کر مونچھوں کو تاؤ دیکر ابھی نندن بنتے پھریں اگرآپ نے بچوں کیلئے کچھ نہیں لکھا تو یقین جانئے آپ بہت کچھ لکھ کر بھی کچھ نہیں کرسکے۔ بچوں کا ادب تخلیق کرنے کیلئے آپ کو بچہ بننا پڑتا ہے۔ میں برسہا برس تک پی ٹی وی پشاور کیلئے بچوں کا پروگرام تارے لکھتا رہا۔ جس میں پیش ہونے والی منظومات چھپ کر منصہ شہود پر آئیں تو یار لوگوں نے ناک بھوں چڑھا کر کہا کہ بچوں کیلئے لکھی جانے والی نظمیں اور گیت ہیں۔ ثریا کی گڑیا۔ ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی، گیٹو گرے یا بچوں کیلئے لکھی جانے والی انگریزی نظموں میں ہمٹی ڈمپٹی یا ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل سٹار جیسے کتنے شہ پارے ہیں جو مجھ جیسے بڑے بچوں کو بھی محض اس لئے ازبر ہیں کہ انہوں نے انہیں بچپن میں پڑھ رکھا تھا۔ وہ جو کھیل کود کے دوران ہم بالک ٹپے گنگناتے تھے زندگی بھر ہمارے ساتھ رہے جنوں پریوں اور جادوگروں کی کہانیوں پر مبنی کتب کی کشش اور کتب بینی کی عادت نے ہمیں جو کچھ دیا وہ اس عہد پیری میں بھی ہمارے کام آرہا ہے، ہائے کہ آج کے بچے اس نعمت سے محروم ہیں کہ ان کے پاس کتابیں پڑھنے کیلئے وقت ہی نہیں بچا ہائے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سمعی اور بصری یلغار اور اک طوفان بلاخیز نے ہمارے بچوں کے ہاتھ سے کتابیں چھین کر ان ہاتھوں میں الیکٹرانک کھلونے تھما دئیے ہیں، ہر بچے بوڑھے اور جوان کے ہاتھوں میں کتاب کی بجائے موبائل اور اس قبیل کے دیگر عادت مطالعہ کو ختم کرنے کیلئے بارود بھرے آلات آگئے ہیں، جب صورتحال بہ ایں جارسید تو ایسے میں بھلا بچوں کیلئے کیوں کتابیں لکھی اور لکھ کر چھاپی جاسکیں گی اور اگر بچوں کا ادب شائع بھی ہوتا رہا تو عادت مطالعہ کیخلاف بارود صفت ٹیکنالوجی کے دھماکوں کی زد میں رہنے والا بچہ ان سے کیونکر استفادہ کر سکے گا۔ اے کاش بقول غلام محمد قاصر ہم اپنے پھول بچوں کے ہاتھوں سے عادت مطالعہ کا قاتل بارود چھین کر ان کو ایک بار پھر انہیں بچوں کی کتابیں تھما سکیں۔

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آجائے کتاب تو اچھا ہو

اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

متعلقہ خبریں