Daily Mashriq


لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

شیکسپیئر آج زندہ ہوتا تو یقیناً اپنے ان الفاظ سے رجوع کر کے ان میں ضروری یا مناسب ترامیم کرنے پر مجبور ہوجاتا یعنی وہ جو موصوف نے کہا تھا کہ ’’نام میں کیا رکھا ہے، تم گلاب کو کسی بھی نام سے پکارو، اس کی مہک یونہی رہے گی‘‘۔ دراصل اس نے ناموں کے فطری پہلو پر غور کر کے یہ بات کی تھی اور ان کے سیاسی اثرات کو نظرانداز کردیا تھا جبکہ ہمارے ہاں ناموں کے حوالے سے آپ یہ بات نہیں کہہ سکتے کہ انہیں تبدیل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر ایسا ہوتا تو اس بے چارے کو یہ کیوں کہنا پڑ گیا تھا کہ تم کتنے بھٹو ماروگے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔ اسی حوالے سے بیگم نصرت بھٹو مرحومہ کے حوالے سے بھی ایک جملہ منسوب کیا جاتا ہے کہ ’’بھٹوز پیدا ہی حکمرانی کیلئے ہوتے ہیں‘‘۔ شاید، یہی وجہ ہے کہ زرداری نے اپنے بچوں کے ناموں کو بھٹو کا تڑکہ لگانے کی ضرورت محسوس کی، حالانکہ یہاں بھی شیکسپیئر کا مقولہ اور بیگم نصرت بھٹو کا جملہ غلط ثابت ہو جاتا ہے یعنی نہ جانے سندھ کی دھرتی میں کتنے لاکھ بھٹوز اب بھی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں، انہیں کوئی اور تو خیر کیا پوچھے گا خود پیپلزپارٹی والوں نے اپنے اقتدار کے دنوں میں بھی نہیں پوچھا، گویا پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں والی کیفیت سے دوچار ان بے چاروں کے کاندھوں کو اس چینی اور جاپانی کھیل کی مانند ایک خاص خاندان کے اقتدار کیلئے ہی استعمال کیا جاتا ہے جس کھیل میں کھلاڑی ایک دوسرے کے کاندھوں پر چڑھتے چڑھتے ایک اونچا مینار بنا لیتے ہیں اور فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ جس شاعر نے ’’تم کتنے بھٹو ماروگے‘‘ والی نظم تخلیق کی تھی اس کو بھی کسمپرسی کی حالت سے دوچار ہونے کے دنوں میں کسی نے توجہ کے قابل نہیں سمجھا۔ یہ تو خیر چند جملہ ہائے معترضہ تھے جو برسبیل تذکرہ درمیان میں آگئے۔ مسئلہ تو پھول کا ہے جس کے بارے میں ہم نے شیکسپیئر کے مقولے کی یاد دلاتے ہوئے گزارش کی کہ موصوف نے ناموں کے سیاسی پہلوؤں کو نظرانداز کردیا تھا چونکہ ہمارے ہاں سیاست ہر معاملے پر کھیلی جاتی ہے اور اسی کو ترجیح دی جاتی ہے اسی لئے یہاں گلاب کے نام کی تبدیلی سے اثر نہ پڑنے کی نسبت اثر پڑنے کا قول استعمال کیا جا سکتا ہے یعنی جب آپ نام کی خوشبو پھول سے نکال دیں تو مسئلہ پھول کا بن جاتا ہے پروین شاکر نے ویسے ہی تو نہیں کہا کہ

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

ویسے احمد فراز نے پھولوں کا مسئلہ یہ کہہ کر حل کر دیا تھا کہ جیسے کچھ سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں، مگر اس صورت میں پھول کیساتھ وابستہ چند یادیں ہی تو رہ جاتی ہیں، یہی کارن ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے جو ہوائیں ان دنوں ملکی فضا میں چل رہی ہیں اور انہیں آپ افواہیں بھی قرار نہیں دے سکتے کہ متبادل نام بھی سامنے آچکے ہیں جو کہیں پاکستان ویلفیئر پروگرام، کہیں قائداعظم سپورٹ پروگرام اور کہیں محترمہ فاطمہ جناح سپورٹ پروگرام کے ناموں سے تبدیلی کی خواہش رکھنے والوں کی جانب سے مشوروں کی صورت میں دیئے جارہے ہیں، البتہ پاکستان پیپلزپارٹی کی صفوں میں ایک بار پھر بلکہ نہایت سنجیدہ قسم کی کھلبلی مچی ہوئی ہے، ایک بار پھر کے الفاظ یوں استعمال کرنے کی نوبت آئی کہ لیگ(ن) کے گزشتہ دور میں بھی ایسی ہی تجویز پر غور شروع کیا گیا تھا مگر پیپلز پارٹی کے احتجاج نے اس وقت تبدیلی کی سوچ کی روک لگا دی تھی، تاہم جس سرکار کا نام ہی تبدیلی سرکار ہو اس کے دور میں دوبارہ اس قسم کی سوچ کا ابھرنا زیادہ قوی اور ’’حقیقی تبدیلی‘‘ کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے اس لئے اب کی بار پیپلز پارٹی کی ’’چیخیں‘‘ زیادہ بلند پروازی پر مائل ہیں۔ پھر جس طرح متبادل ناموں کی فہرست بھی ساتھ نتھی کی جارہی ہے تو لگتا ہے کہ ’’خوشبو‘‘ کسی اور نام کیساتھ محو سفر ہوگی البتہ ’’پرانے پھول سوکھ کر‘‘ یادوں کی کتابوں میںپناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہوں گے۔ بقول ظفر اقبال

چارسو پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا

اتنا آساں بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا

’’تبدیلی‘‘ کی یہ سوچ جیسا کہ گزارش کی جاچکی ہے اتنی بھی نہیں، بلکہ اس کے ڈانڈے ضیاء الحق کے دور میں پیوست دکھائی دیتے ہیں جب ذوالفقار علی بھٹو کی قائم کردہ پیپلزپارٹی اوپن یونیورسٹی کا نام جنرل ضیاء کے اقتدار میں آنے کے بعد تبدیل کر کے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کر دیا گیا تھا حالانکہ اس میں صرف پیپلزپارٹی کا لفظ ہی بھٹو مرحوم کی پارٹی سے ہونے کی وجہ سے ’’سزا‘‘ کا مستوجب گردانا گیا اور اسے تبدیلی کی تلوار سے کاٹ دیا گیا، اب جو یہ بینظیر انکم سپورٹ کا نام تبدیل کرنے کی سوچ باردگر ابھری ہے تو ظاہر ہے تبدیلی سرکار یہ کہاں برداشت کرسکتی ہے کہ ملکی خزانے سے کسی غریب کو وظیفہ ایک ایسے کارڈ کے ذریعے دیا جائے جس پر نام اور تصویر دونوں محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد دلاتے رہیں اور اس سے سیاسی فائدہ پیپلزپارٹی والے اُٹھاتے رہیں کیونکہ ملک میں جس طرح جہالت کو علمیت پر فوقیت دی گئی ہے اور قیام پاکستان سے لیکر آج تک تعلیم کے شعبے کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اس صورتحال نے آبادی کے لگ بھگ80فیصد حصے کو حاہل رکھنے میں مدد دیکر سیاسی وڈیروں کی حکمرانی کی راہ ہموارکی ہے، اب بھلے سے ملک میں حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، غریبوں کو ہر ماہ یہ جو دوچار ہزار روپے دان کئے جاتے ہیں اگر ان کے حصول کیلئے کارڈ پر نام اور تصویر محترمہ بینظیر بھٹو کی ہوگی تو ووٹ تو ادھر ہی پڑنے ہیں نا، اس لئے تبدیلی سرکار کیلئے یہ کہاں قابل قبول صورتحال ہو سکتی ہے، تاہم کسی سیانے نے یہ سوال بھی تو اُٹھایا ہے کہ اگر بینظیر انکم سپورٹ کا نام تبدیل ہوسکتا ہے تو صحت کا انصاف کارڈ کیوں برقرار ہے؟

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

متعلقہ خبریں