Daily Mashriq


امت مسلمہ کے زوال کی مختصر داستان

امت مسلمہ کے زوال کی مختصر داستان

تاریخ میں جہاں جہاں مسلمانوں کو زوال سے دو چار ہونا پڑا ہے اس کے پیچھے دو عوامل صاف نظر آتے ہیں۔ایک قرآن وسنت سے انحراف اور دوسرا آپس میں اختلاف۔ دشمنی‘ حسد اور اقتدار کا لالچ۔ سپین پرمسلمانوں کی حکومت کابدترین زوال کا المیہ ہو یا طویل و مضبوط عباسی دور کا ہلاکو خان کے ہاتھوں عبرت ناک خاتمہ‘ مغلوں کی وسیع و عریض سلطنت ہو یا سقوط بغداد و ڈھاکہ یا آج کابل کے سقوط اورعراق‘ شام‘ یمن اور لیبیا کی خانہ جنگیاں‘ سب کی ایک ہی کہانی کے ملتے جلتے کردار تاریخ کے اوراق پر ثبت ہے۔وطن عزیز پاکستان کس عظیم جذبے‘ اعلیٰ و ارفع نصب العین اور ولولہ انگیز قیادت کی قوت سے وجود میں آیا تھا اورکس آسانی کے ساتھ صرف چوبیس برس بعد ’’ہم اِدھر‘ تم اُدھر‘‘ جیسے ایک نعرے نے دو لخت کرکے رکھ دیا اوردشمنان پاکستان بالخصوص بھارت اور اسرائیل نے ہمارے اس قومی المیے پر خوب شادیانے بجائے۔ باقی ماندہ پاکستان ’’ شکر ہے پاکستان بچ گیا‘‘ کے نعرے کے ساتھ مسائل و مشکلات کے زخموں سے چور چور قافلہ سخت جاں کی طرح بوجھل قدموں کے ساتھ چل تو پڑا لیکن ستر برسوں کے بعد حال یہ ہے کہ ملک کا بچہ بچہ سودی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ آج بھی ملک کے سیاستدانوں کو اگر فکر ہے تو یہی کہ وہ اقتدار کے سنگھا سن پر سے حریف کودھکا دے کر کس طرح محروم کرکے خود براجمان ہوسکتے ہیں۔آج بھی یہ لڑائی کہ میں سب سے بڑھ کر جمہوری اصولوں اورروایات کاعلمبردار اور پاسدار ہوں اور باقی سب آمریت کی پیداوار اورغیرجمہوری عناصر ہیں۔ میں سب سے زیادہ دیانتدار اور امانت دار ہوں اور باقی سب چور ہیں۔ میں نے اس ملک کو ترقی کے بام عروج پر پہنچایا تھا اور آج کی حکومت اسے ہر شعبہ زندگی میں زوال کے راستے پر ڈال رہی ہے۔ تین چار عشروں سے دو بڑی سیاسی جماعتوں( جو آپس میں بلا کی بیر رکھتی ہیں) کی چھوٹی موٹی قوم پرست‘ مذہبی اور لسانی جماعتوں کے اتحاد کے ساتھ حکومتوں سے عوام سخت بیزار ہو کر پی ٹی آئی کو موقع دینے پر تل گئے اور ان کی حکومت دلا دی اوراس میں شک نہیں کہ عوام کی بڑی اکثریت کو عمران خان کی حکومت سے بڑی توقعات تھیں اور شاید نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کے دلوں میں امید کی شمع اب بھی فروزاں ہے ( اور اللہ اسے فروزاں ہی رکھے کیونکہ مایوسی کفرہے) لیکن اب شاید یہ حقیقت آہستہ ہی سہی کھل کر سامنے آنے والی ہے کہ غریب عوام کو زندگی کے شب و روز آسان بنانے کے لئے ان کے پاس کوئی ٹھوس اور فوری ریلیف دینے کے لئے نہ وسائل ہیں اور نہ انتظام۔ عمران خان نے اپنی حکومت کے پہلے چھ مہینے بس مخالفین کو لتاڑنے ہی میں ضائع کئے۔ حالانکہ ان ابتدائی مہینوں میں کارکنوں اور حکومتی اعضاء واراکین کے جذبے جوان اور ہمتیں زورورں پر تھیں۔ ان کے ہاتھوں میں تیشے دئیے جاتے توان سے کوہ کن کا کام لیا جاسکتا تھا اور شریں کے گھر تک دودھ کی نہ سہی پانی کی رودیں لائی جاسکتی تھیں۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔لیکن ٹھہرئیے! اس میں صرف عمران خان کی حکومت اور پارٹی اکیلی قصور وار نہیں۔ پاکستان کی تین چار بڑی سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے برج پہلی دفعہ اسلام آباد کی پارلیمان سے باہرکیا ہوئے کہ انہوں نے سارے جمہوری اصول و روایات‘ رواداری‘ تدبر اوروقار وغیرہ وغیرہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتخابات کے چند دنوں بعد اعلانات کئے کہ ہم دیکھیں گے کہ پارلیمنٹ میں لوگ کیسے داخل ہوتے ہیں۔ وہ دن اور آج کادن‘ عمران خان کو ذاتی دفاع پر ایسا مجبور کیاگیا کہ وہ کچھ کرنا بھی چاہتا توکرنے سے قاصر رہا۔ کیونکہ ایک طرف تاریخ پاکستان کے نا مساعد ترین معاشی حالات دوسری طرف پاکستان کی سیاسی تاریخ کی معاند ترین حزب اختلاف جو عمران خان کو ناکام بنانے کے لئے قدم قدم اور بات بات پر حیلے بہانے تراشنے کاکوئی موقع ضائع ہونے نہیں دیتی۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر عمران خان کابینہ کے انتخاب کے وقت مشورہ و تدبر سے کام لے کر منجھے ہوئے‘ صلح جو‘ تجربہ کار‘ پروفیشنل اور معتدل مزاج کے لوگوں کو آگے لاتے۔ لیکن ایسا نہ کرنے کے سبب چھ سات مہینے میں حکومت نے جو یوٹرن لئے تو یار لوگوں نے اس کاخوب خوب استحصال کیا۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت اپنی پارلیمانی اراکین پر نظر ثانی کرکے طے کرے کہ کس نے چینلز پر حکومتی موقف کی ترجمانی کرنی ہے‘ کس نے وزارت سنبھالنی ہے اور کس نے کیا کیا کام کرنا اور کروانا ہے۔ ورنہ یاد رکھیں کہ یار لوگ اٹھارہویں ترمیم بارے وزیر اعظم کے موقف کو بات کا بتنگڑ بنانے پر یوں تلے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ ایک صاحب کو مشرقی پاکستان کے حالات نظر آنے لگے ہیں اور دوسرے کو سندھ کارڈ یاد آنے لگاہے۔اور اس سب پر مستزاد ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ پاکستان کے دور پار دیہاتوں اور شہروں میں ملین مارچ کرا کر اسلام آباد کو جام کرنے کے لئے تشریف لارہے ہیں۔ واقعی تیس لاکھ لوگ اگر اسلام آباد میں آبراجمان ہوئے تو وہاں افرا تفری کامچ جانا بدیہی ہے اور پھر مغربی سفارت کار اپنی حکومتوں کو برقی مراسلے ارسال کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ ’’پاکستان کی دارالحکومت پر مذہبی انتہا پسندوں کا قبضہ ہونے والا ہے‘‘۔ اس کے عواقب و نتائج کے لئے بقراط ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔ لیکن وطن عزیز کے موجودہ حالات سے مجھے ایک دفعہ پھر تاریخ اسلام کے اہم واقعات کی یاد آنے لگی ہے۔ (خاکم بدہن)۔

متعلقہ خبریں