Daily Mashriq


وزیراعظم، شہباز شریف سے صرف تحریری مشاورت کے خواہاں

وزیراعظم، شہباز شریف سے صرف تحریری مشاورت کے خواہاں

اسلام آباد: 2 ماہ کی تاخیر کے بعد بالآخر وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو خط ارسال کیا جس میں الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کے 2 اراکین کی تعیناتی کے لیے ناموں کی تحریری تجاویز طلب کی گئیں۔

4 صفحات پر مشتمل مراسلے میں وزیراعظم نے شہباز شریف کے ارسال کرہ خط میں اٹھائے جانے والے تمام اعتراضات کو مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے نامزدگیوں کے مشاورتی طریقہ کار پر اعتراض کیا گیا تھا اور الزام عائد کیا گیا تھا کہ حکومت بلوچستان اور سندھ کے اراکین الیکشن کمیشن کےناموں کا فیصلہ کرنے میں تاخیر کر کے آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ارسال کیے گئے خط کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر سے براہ راست ملاقات نہیں کرنا چاہتے۔

اس کے لیے اپنے خط میں انہوں نے تحریری مشاورت کے حق میں عدالتی فیصلوں کی متعدد مثالیں اور سورہ بقرہ کی آیت بھی تحریر کی۔

وزیراعظم کی جانب سے ارسال کردہ خط میں بلوچستان کے رکنِ الیکشن کمیشن کے لیے کوئٹہ کے کے سابق ڈسٹرک اینڈ سیشن جج امان اللہ بلوچ، وکیل منیر کاکڑ اور نگراں صوبائی حکومت کے سابق وزیر اور تاجر میر نوید جان بلوچ کے نام تجویز کیے گئے۔

دوسری جانب سندھ کے رکنِ الکیشن کمیشن کے لیے وکیل خالد محمود صدیقی، سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس(ر) فرخ ضیا شیخ اور سابق انسپکٹر جنرل( آئی جی) سندھ اقبال محمود کے ناموں کی تجوزی دی گئی۔

اس سے قبل حکومت کا اس وقت خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دفتر میں تعینات ایڈیشنل سیکریٹری کے ذریعے نام بھجوائے تھے جو وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اب تجویز کردہ ناموں سے مختلف تھے۔

تاہم اپنے خط میں وزیراعظم نے وزیرخارجہ کے اور ان کے سیکریٹری کے ذریعے نامزدگی بھجوانے کے عمل کا دفاع کیا۔

وزیر خارجہ کی جانب سے ارسال کردہ خط پر شہباز شریف کے اعتراض مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ وزیر خارجہ کے ارسال کردہ خط سے آئین کی کس طرح خلاف ورزی ہوئی اور اب جب کہ خط واپس لے لیے گیا ہے تو اس کا حوالہ دینا مکمل بے بنیاد ہے۔

خیال رہے کہ سندھ اور بلوچستان کے اراکین الیکشن کمیشن عبدالغفار سومرو اور جسٹس (ر) شکیل بلوچ 26 جنوری کو عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے اور آئین کے تحت 12 مارچ تک ان کی جگہ نئے اراکین کو تعینات کیا جانا ضروری ہے۔

آئین کے مطابق اگر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں ای سی پی اراکین کے ناموں پر اتفاقِ رائے نہ ہوسکے تو ناموں کے حتمی فیصلے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کو فہرست ارسال کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں