Daily Mashriq


کوئٹہ میں ایک ہی رات میں 80 سے زائد دکانیں لوٹ لی گئیں

کوئٹہ میں ایک ہی رات میں 80 سے زائد دکانیں لوٹ لی گئیں

کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد میں ایک ہی رات میں 80 سے زائد دکانیں لوٹ لی گئیں جس کے بعد دو پولیس اسٹیشنز کے ایس ایچ اوز کو معطل کردیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ جام کمال خان آلیانی نے ان دو پولیس اسٹیشنز کی حدود میں ہونے والی لوٹ مار کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل بلوچستان پولیس کو ہدایت کی کہ علاقے کے پولیس افسران کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے ملزمان کو 48گھنٹے میں گرفتار کیا جائے۔

تجارتی تنظیموں کے مطابق ڈکیتوں کے گروہ نے پشتون آباد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں 83دکانوں کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے مالیت کی نقدی اور سامان کو چرا لیا اور پھر رات گئے کسی مزاحمت کے بغیر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

جب صبح دکاندار اپنے کام پر پہنچے تو انہیں ڈکیتی کی واردات کا علم ہوا اور انہوں پولیس کو وادات کے بارے میں بتایا۔

بلوچستان ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے بتایا کہ ڈکیتوں کے گروہ نے تقریباً 83دکانوں میں لوٹ مار کی اور اس طرح کی بڑی ڈکیتتی کوئٹہ میں پہلی بار ہوئی ہے۔

البتہ پولیس نے ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے سربراہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واردات میں صرف 22دکانوں میں چوری کی گئی جن میں سے اکثر موبائل کی دکانیں تھیں اور دکاندار تعداد کو بڑھا کر بتا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ جام کمال خان آلیانی نے کہا کہ غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، واقعے کے ذمے دار پولیس آفیشلز کے خلاف ہر حال میں کارروائی کی جائے گی جنہوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں غفلت سے کام لیا۔

دکانداروں نے علاقے میں احتجاج کیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ڈکیتوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

مقامی تاجر برادری نے کہا ہے کہ اگر پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہ کیا تو وہ احتجاج کرتے ہوئے پورے بلوچستان میں ہڑتال کریں گے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے کہا کہ ڈکیتوں نے چوکیدار کو تشدد کا نشانہ بنایا، پشتون آباد اور خلیق شہید پولیس اسٹیشنز کے اسٹیشن ہاؤس آفیسرز کو شوکاز نوٹس جاری کیا جا چکا ہے اور ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرے گی۔

متعلقہ خبریں