Daily Mashriq


 اسپیکر قومی اسمبلی پر لگایا گیا جانبداری کا الزام مسترد

اسپیکر قومی اسمبلی پر لگایا گیا جانبداری کا الزام مسترد

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ترجمان نے مسلم لیگ ن کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر لگائے گئے جانبداری کے الزام کو مسترد کردیا۔

مسلم لیگ نے الزام عائد کیا تھا کہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے دباؤ کے سبب اسپیکر قومی اسمبلی اپنی ذمے داریاں غیرجانبداری سے انجام نہیں دے پا رہے۔

لاہور میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کے چند گھنٹوں بعد ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی پر کوئی دباؤ نہیں اور وہ کسی کے دباؤ میں کام نہیں کر رہے۔

پریس کانفرنس کے موقع پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے الزام عائد کیا تھا کہ اسپیکر بے اختیار ہیں اور اکثر معاملات پر تحریک انصاف کے دباؤ کے سبب اپنی ذمے داریاں انجام نہیں دے پاتے۔

شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا کہ اسپیکر اسمبلی نے کئی مواقعوں پر ان سے کہا کہ وہ دباؤ کا شکار ہیں۔

دوسری جانب قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ترجمان نے مسلم لیگ ن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت پیش کرے اور اس فرد کا نام بتائے جس سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے یہ بیان دیا تھا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ اسپیکر اپنی ذمے داریاں آزادانہ اور شفاف طریقے سے انجام دے رہے ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی کو میرٹ پر چلا رہے ہیں اور اسمبلی کا ریکارڈ اس کا ثبوت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے اب تک ایوان میں پیش کیے گئے ہر بل پر اراکین کو اپنے خیالات کے اظہار کا مکمل موقع فراہم کیا، یہ الزامات کہ اسپیکر کسی کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں، سراسر من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کے دوران جیل میں موجود مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر کے اجرا میں تعطل پر اسپیکر کو اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی فیصلہ کرتے ہوئے حکومتی بینچز کی جانب دیکھ رہے تھے۔

اسد قیصر کو قومی اسمبلی کی کمیٹیوں کے قیام میں تعطل پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تقرری پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔

متعلقہ خبریں