Daily Mashriq

نیا وزیر اعظم' ملی جلی صورتحال

نیا وزیر اعظم' ملی جلی صورتحال

حزبِ اختلا ف کی صفوں میں عدم اتحاد کے باعث قومی اسمبلی میں عبوری وزیراعظم کے انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ(ن)کے نامزد امیدوار شاہد خاقان عباسی کو آسان فتح حاصل ہوئی۔ گو کہ نواز لیگ کے اپنے اراکین کی تعداد ہی درکار 172 ممبران سے زائد تھی تاہم اتحادیوں کی حمایت اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متفقہ امیدوار لانے پر اتفاق رائے قائم نہ ہونے کے سبب عبوری وزیراعظم کے انتخاب کا عمل تقریباً یک طرفہ رہا اورمسلم لیگ(ن) کے نامزد امیدوار شاہد خاقان عباسی 221ووٹ لے کر وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوگئے۔ اپوزیشن جماعتوں میں پی ٹی آئی اپنے امیدوار کے لیے سوائے پاکستان مسلم لیگ (ق)کے کسی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہونا ان کے الگ تھلگ ہونے اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے پی ٹی آئی سے احترازکے رویے کا واضح ثبوت ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے امیدوار کا اعلان اپوزیشن پارٹیوں کے اجلاس سے پہلے ہی کردیاتھا۔علاوہ ازیں، پی ٹی آئی کے 30 جولائی کے جلسے میں عمران خان کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری پر تنقید کی وجہ سے بھی پیپلز پارٹی نے شیخ رشید کی حمایت سے انکار کیا۔وطن عزیز میں سیاسی و جمہوری حکومتوں کاخاتمہ بالخیر کم ہی ہوتا ہے گوکہ ایک منتخب اور قومی اسمبلی میں اکثریت رکھنے والے وزیر اعظم تیسری مرتبہ مدت اقتدار پوری نہ کرسکے مگر ان کی حکومت کا خاتمہ تمت بالخیر ہونے کے باوجود ان کی جماعت کی حق حکمرانی اس مرتبہ برقرار ہے جس کے نتیجے میں آج مسلم لیگ(ن) کے شاہد خاقان عباسی پارٹی فیصلے کے مطابق پینتالیس یوم کے لئے وزیر اعظم پاکستان منتخب کرلئے گئے۔ ایوان میں ان کی جماعت کے علاوہ اتحادی جماعتوں اور اراکین نے ان کو ووٹ دے کر مسلم لیگ(ن) کے عبوری وزیر اعظم پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا گو کہ مسلم لیگ (ن) کو تن تنہا ہی ایوان میں برتری حاصل تھی۔ مگر جاری حالات میں ان کو جس اخلاقی و سیاسی حمایت در کار تھی اتحادی اور فاٹا کے بعض اراکین کی جانب سے ان کو ووٹ دینا ضرورت نہ ہونے کے باوجودجاری حالات میںمسلم لیگ(ن) کے لئے تقویت کاباعث ہونا فطری امر ہے۔ گوکہ عدالت کے فیصلے کو کمزور گرداننے کی تاویل کا سہارا لیاجا رہا ہے لیکن عدالت کا فیصلہ کمزور ہو یا کچھ اور عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے اور اس کے سیاسی اثرات کا ہونا فطری امر ہوتا ہے۔ عدالتی فیصلے ہی کے باعث ایک طاقتور وزیر اعظم اقتدار سے محروم ہی نہیں ہوئے بلکہ ان پر نیب میں مقدمات کھل رہے ہیں جن کا سامنا کرنے اورچھ ماہ کے اندر فیصلہ آنے تک ملک میں کیاکچھ سامنے آئے طاقتور وزیر اعظم کے احتساب سے شروع ہونے والے عمل کا یہیں رک جانا بھی فطرت کے خلاف ہوگا کیونکہ اصول فطرت یہ ہے کو جو چٹان چوٹی سے سرکتاہے اس کی منزل اورجائے قرار ہموار زمین ہی ہوتی ہے۔ وطن عزیز کے عوام کو گزرے سیاسی مد و جزر اور تبدیلی وزیراعظم سے اتنی دلچسپی نہیں جتنی ان کو ملک میں شفاف و سخت گیر احتساب کا انتظار ہے۔ وطن عزیز میں احتساب کے وعدے اورخواب پہلے بھی بہت دکھائے گئے مگر بعد میں محتسبین از خود مصلحت کا شکار ہوگئے اور معاملات نہ صرف ادھورے رہ گئے بلکہ این آر او جیسی سودے بازی بھی ہوئی۔ ماضی میں ہر دور میں احتساب برائے سیاسی انتقام اور احتساب سیاسی مخاصمین ہی کا دور رہا جس کے باعث احتساب ٹیڑھی کھیر ہی رہی اور کھچڑی پکانے والے کھچڑی کھا گئے۔ وقت رخصت عقدہ کھلا نعرہ زن سابقین کے مقابلے میں خود احتساب کا زیادہ حق رکھتے ہیں ۔ اس مرتبہ چونکہ صورتحال کی نوعیت اور حالات تبدیل دکھائی دیتے ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ کھچڑی پکتی ہے یا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر ایک مثال بن جاتی ہے۔ ہمارے تئیں کسی ایک سیاسی جماعت ہی کو قابل احتساب گرداننا اور کسی ایک خاندان کو کٹہرے میں لاکھڑا کرنا احتساب کی تعریف میں نہیں آتا بلکہ اگر دوسروں سے ایسا سلوک کئے بغیر ایک ہی گروہ کا اگر حقیقی احتساب بھی کیاجائے تو یہ انصاف ہو کر بھی ادھورا اور تشنہ لب رہے گا۔ ایک طاقتور وزیر اعظم کو ہٹا کر اگر ان کی جماعت کے دور حکومت میں اب احتساب ممکن ہے تو یہ ادارے اورعدالتیں ہی تھیں جو یہ اب کرسکتی ہیں اور کرا سکتی ہیں۔ اب تک ملک و قوم کا پیسہ لوٹنے اور اختیارات کاناجائز استعمال کرنے کیوں دیا گیا اب بھی اس امر کا یقین اس وقت تک نہیں آئے گا جب ایک طاقتور کے بعد دوسرے طاقتوروں کی بھی باری نہ آئے بلکہ باری باری احتساب کی بھی گنجائش نہیں۔ اس باقی ماندہ مدت اقتدار میں مرکز میں عبوری و باقی ماندہ وقت وزیر اعظم کون ہوتا ہے خیبر پختونخوا میں سیاسی ہلچل مچتی ہے یا نہیں' پنجاب کے وزارت علیا کا ہما کس کے سر بیٹھتا ہے۔ سینیٹ میں کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوتی ہے'سینیٹ میںقائد ایوان کی تبدیلی ہوتی ہے یا اقلیتی جماعت بننے کے باوجود اس جماعت کے ہی قائد ایوان مسند نشین ہوتے ہیں۔ ان ساری باتوں کی حیثیت اب عوامی نقطہ نظر سے ثانوی سطحی اور کسی حد تک لاحاصل ہے سوائے اس کے کہ یہ معاملات تسلسل اور خوش اسلوبی سے طے پاتے جائیں اور ملک میں سیاسی بحران کی کیفیت نہ پیدا ہو جائے۔ عوام محولہ معاملات میںخلل دیکھنا نہیں چاہتے اور اس سیاسی عمل میں دخل اندازی ہونی بھی نہیں چاہئے اور نہ ہی اس کی گنجائش نظر آتی ہے۔ ایسا ہونا ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں سی پیک اور خیبر پختونخوا کی حد تک صوبائی دارالحکومت پشاور میں ریپڈ بس منصوبے کی تکمیل تک کے لئے بہت ضروری ہے۔ خیبر پختونخوا میںخود تحریک انصاف کی جانب سے ایک اتحادی جماعت کو علیحدہ کردینے کے بعد سیاسی صورتحال میں ارتعاش فطری امر ہے جس کے بعد صوبے میں اقتدار بر قرار رکھنے اور ''سیاسی شہادت'' کاشوق رکھنے کا شبہ ہونا خلاف حقیقت نہ ہوگا لیکن ہمارے تئیں گرک باراں دیدہ وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں اگر خود ان کی قیادت کی جانب سے '' بم کو ٹھوکر'' نہ ماری جائے تو صوبے میں باقی ماندہ وقت کے لئے مخالف سیاسی جماعتوں کی حصول اقتدار کی سنجیدہ سعی مشکل امر ہے ۔ گوکہ اس کاعندیہ ملتا ہے مگر اس میں کتنی سنجیدگی ہے اس کافی الوقت درست اندازہ مشکل ہے اور قبل از وقت بھی۔ ہمارے تئیں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو اپنی حکومت اپنے ہاتھوں گنوانے کی بجائے بر سر اقتدار رہنے کی سعی کرنی چاہئے جو ان بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لئے ضروری ہے جنکی شروع یا مکمل کرنے سے قبل اگر وہ محروم اقتدار ہوتے ہیں تو ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ سوات ایکسپریس وے اور پشاور ریپڈ بس سروس منصوبے ایسے بڑے اور یاد گار منصوبے ہیں جن کی سعادت موجودہ صوبائی حکومت کو حاصل ہو جائے تو آنے والے انتخابات میں عوام کے سامنے کچھ عملی مثالیں پیش کرنے کا ان کو آسان موقع حاصل ہوگا وگرنہ صحت اور تعلیم کے بارے میں یا بلدیات میں ان کو اپنی جو کارکردگی نظر آتی ہے عوام کی نظروں میں وہ ہیچ ہی نہیں بلکہ ترقی معکوس کے تاثرات کے حامل ہیں۔ صوبے کے برعکس مرکز میں حکمران جماعت عدالتی فیصلے کے بعد جہاں ایک جانب اقتدار سے محروم نہیں ہوئی مگر اسے سیاسی شہید کادرجہ تقریباً مل چکا ہے اور آنے والے انتخابات میں ان کو اپنی مظلومیت کی داستان سنانے کا آسان موقع فراہم ہوگا بشرطیکہ چھ ماہ کے دوران حالات سنجیدگی' ثبوت اور قابل قبول نوعیت کے معاملات کے باعث بیچ چوراہے ہنڈیا پھوٹنے کی صورتحال پیش نہ آئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوری طریقے سے وطن عزیز میں وزیراعظم کا انتخاب ایک اطمینان بخش لمحہ ہے۔ ایک آئینی تقاضے کے خوش اسلوبی سے تکمیل سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔ جمہوریت کا تسلسل ٹوٹے گا نہیں جمہوریت کے ڈی ریل ہونے کاخطرہ آئندہ کے لئے بھی کم ہوگا۔ اس موقع پر حکمران جماعت کے مقابلے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا انتشار اور نا اتفاقی کا شکار ہوجانا نیک شگون نہیں مضبوط حزب اختلاف جمہوریت کے استحکام کا باعث ہوا کرتا ہے۔ جہاں حزب اختلاف ہی اختلافات کاشکار ہو جائے وہاں حکمران جماعت اورحکومتی بنچوںکو آزادی کا جو ماحول میسر آئے گا اس کا وہ اپنے مفادات کے لئے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ حزب اختلاف کی وزیر اعظم کے لئے متفقہ امیدوار کی نامزدگی میںناکامی حزب اختلاف کی سیاست کی ناکامی اور کمزوری کی نشانی ہے۔ اسمبلی کے اندر اس طرح کے کردار کے مظاہرے کے بعد عوام اورمیڈیا میں آکرخواہ وہ جو بھی طرز عمل اپنائیں اس کا اثر مثبت نہ ہوگا۔ حکمران جماعت نے اتحادیوں اور اراکین کی حمایت اور اعتماد کے ساتھ خود کو ایک مضبوط اور منظم جماعت کے طور پر منوا لیاہے جس میں بحران کامقابلہ کرنے اور بحران سے کامیابی سے نکلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ نو منتخب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اگرچہ پینتالیس دن کے لئے وزیر اعظم منتخب کئے گئے ہیں گوکہ یہ مختصر مدت ضرور ہے لیکن اگر وہ چاہیں تو ان دنوں کو بھی وہ مثبت اقدامات کے ذریعے یاد گار بنا سکتے ہیں۔ ایک مضبوط سیاسی قیادت و حمایت کے ساتھ وہ بلا خوف ایسے فیصلے کرسکتے ہیں جو دوررس نتائج کے حامل ہوں جو خود ان کے دور وزارت عظمیٰ کے ساتھ ان کی جماعت کی حکومت کے لئے بھی یاد گار ثابت ہوں جبکہ حکمران جماعت کے اقتدار کا تسلسل نہایت مختصر عرصے کے تعطل کے بعد بحال ہوچکا ہے اور اسکی قیادت ان ایام میں جس صورتحال سے گزری اور آمدہ دنوں میں گزرنے والی ہے قطع نظر اس سے ان کے متاثر ہونے کی کیاصورت ہوتی ہے حکمران جماعت مسلم لیگ کو چاہئے کہ وہ اب سے عام انتخابات کے اعلان کی تاریخ تک ایسے اقدامات پر توجہ دے جو اب تک نہ اٹھائے جاسکے اوران اقدامات کا اٹھانا نا گزیر تھا۔ اس مدت کو مہلت کے طور پر لینے کی ضرورت ہے اور باقی ماندہ منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ نئے اور انقلابی اقدامات و اصلاحات سامنے لا کر ہی مسلم لیگ(ن) آئندہ انتخابات میں اعتماد کے ساتھ عوام کا سامنا کر سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کے پاس بھی درپیش خطرات اور سیاسی چیلنجوں کے باوجود اپنے سیاسی نعروں اور وعدوں کی تکمیل کرکے سرخروئی کے ساتھ عوام کا سامنا کرنے کی تیاری کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

متعلقہ خبریں