Daily Mashriq

صادقوں اور امینوں کی سرزمین

صادقوں اور امینوں کی سرزمین

مٹھائیاںتب بھی بانٹی گئی تھیں جب بھٹو کو گرفتار کیا گیا تھا۔مٹھائیاں اس وقت بھی بانٹی گئی تھیں جب بھٹو کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ناعاقبت اندیشوں نے اس وقت بھی ایک دوسرے کے منہ میں لڈو ٹھونسے تھے جب بھٹو کو ایک ناکردہ جرم میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔شیرینی تب بھی بٹی تھی جب پہلے بینظیر بھٹو اور پھر نواز شریف کو دو بار اقتدار سے الگ کر دیا گیا تھا۔مجھے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کا وہ منحوس دن بھی یاد ہے جب پیپلز پارٹی نے مشرف کے مارشل لا کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھنگڑے ڈالے تھے ۔ اورمجھے اٹھائیس جولائی دو ہزار سترہ کا یہ منحوس دن بھی کبھی نہیں بھولے گا جب نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کر کے دراصل اس روایت کو زندہ رکھا گیا کہ کوئی بھی وزیراعظم پانچ سال کی مدت پوری نہ کر سکے۔

نواز شریف کو صادق اور امین کے شکنجے میں کسا گیا،یوں کہ جیسے اس کے علاوہ اس ملک میں ہر شخص صادق اور امین ہے۔تھوڑے تھوڑے وقفے سے اپنا موقف بدلنے والا عمران خان بھی صادق اور امین ہے۔''وعدے قرآن اور حدیث نہیں ہوتے'' فیم آصف زرداری بھی غضب کا صادق اور امین ہے۔برسوں پہلے ملک نور اعوان سے بائیس لاکھ کی گاڑی منگوا کر آج تک پیسے نہ دینے والا شیخ رشید بھی صادق اور امین ہے۔اور وہ پرویز مشرف بھی بلا کا امین ہے جس نے اپنے حلف کو اپنے ہی بوٹوں تلے روند کر آئین کی دھجیاں اڑائیں اور نو سال تک اپنی صداقت اور امانت کے ساتھ اقتدار پر قابض رہا۔اس صادق اور امین کو ایک اور صادق اور امین عمران خان نے ریفرنڈم میں سپورٹ کیا۔دوسرے صادق اور امین شیخ رشید نے قصیدے پڑھ پڑھ کر خوش کیا۔گجرات کے صادقوں اور امینوں نے دس بار وردی میں منتخب کرنے کا نعرہ لگایا۔بھٹو کی قبر کے مجاور آصف زرداری نے اپنے حلف کا امین بن کر اس وقت باعزت طریقے سے گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا جب تقدیر اس غاصب کو بے توقیر کر چکی تھی۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جب عدلیہ کی آزادی کی تحریک چل رہی تھی تو اعتزا ز احسن ایک نعرہ لگایا کرتے تھے۔''ریاست ہوگی ماں کے جیسی'' میں خوابوں میں رہنے لگا۔ مجھے یوں لگتا تھا کہ جب عدلیہ آزاد ہو جائے گی تو میرا ملک جنت ارضی بن جائے گا۔ اعلیٰ عدلیہ آزاد ہوتے ہی سب سے پہلے ماتحت عدلیہ کی صفائی یوں بے رحمی سے کرے گی کہ ہر مظلوم کو اس کی دہلیز پر انصاف ملے گا۔جو فیصلے برسوں اور دہائیوں میں نہیں ہوتے وہ مہینوں میں ہوں گے ۔جج صداقت و امانت کی معراج پر کھڑے نظر آئیں گے اورکورٹ کچہری انصاف کا ایسا عظیم الشان مرکز بن جائیں گے کہ پوری دنیا میں اس کے چرچے ہوں گے ۔وہی چلن ہے جو اعلیٰ عدلیہ کی آزادی سے پہلے تھا۔رتی بھر تبدیلی نہیں آئی۔میں سوچتا تھا اعلیٰ عدلیہ کی آزادی کے بعدججوں ،جرنیلوں اور صحافیوں کا بھی احتساب ہوگا لیکن ججوںکا احتساب ہوا،نہ جرنیلوں اور صحافیوں کا اور پکڑ میں صرف وہی سیاستدان آئے جوبار بار رسواکر کے نکالے جاتے اور منہ دھو کر پھر رسوا ہونے واپس آجاتے ہیں۔بھٹو کا خاندان ختم کر دیا گیا لیکن اس کا نواسہ ذلت کے اس گڑھے میں گرنے آگیا۔جا وید ہاشمی کو آمروں نے مارا پیٹا،جیلوں میں ڈالا لیکن وہ پھر بھی جمہوریت کی مالا جپتے ہوئے ذلت کے اس کوچہ و بازار میں سرگرداں ہے۔نواز شریف کو ایک نہیں دوبار گستاخیوں کا مزہ چکھاتے ہوئے دھکے دے دے کر اقتدار سے نکالا گیا لیکن وہ تیسری بار ذلت سہنے کو پھر آگیا۔اسے اٹک جیل میں بند کر کے ڈرایا گیا۔ بکتر بند گاڑیوں میں ڈال ڈال کر گھمایا گیا کہ شائد وہ اس طرح ڈر کر کوچہ سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکل جائے۔اسے بدترین سزا سنا کر خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ تمام سختیوں کو جھیل کر پھر ڈیڑھ کروڑ ووٹ لے کر اقتدار کے ایونوں میں گھس گیا تو اس بار پہلے اس کے گلے میں طاہر القادری کے لوگوں کا پھندا ڈالنے کی سعی کی گئی اور جب اس حوالے سے پیش نہ چلی تواس کے گھر وزیراعظم ہائوس سے چند قدموں کے فاصلے پر ایک سو چھبیس دنوں کا دھرنا دلوایا گیا کہ شائد تنگ ہو کر جان چھوڑ جائے لیکن وہ ضدی آدمی اپنی ہٹ سے باز نہ آیا اوراقتدار سے چمٹا رہا۔

اس کے بعد پانامہ آیا تو اسے اقتدار سے بے دخل کرنے کی ضد پر قائم سارے ضدی اکھٹے ہو کر اس پر پل پڑے اورجب پانامہ کے پانے سے بھی اس کے سکریو ڈھیلے نہ ہو سکے تو ان میں سے کسی مداری نے پانامہ کی پٹاری سے اقامہ نکال کر بالآخر اسے بوریا بستر گول کرنے پر مجبور کردیا۔جس کے بعد مٹھائیاں بٹیں اور شیخ رشید نے جوش خطابت میں ایک ایسی بات کہہ دی جس پر سپریم کورٹ کو اسے بلا تاخیر طلب کر کے پوچھنا چاہئے تھا لیکن مخبر کہتا ہے کہ اسے کوئی نہیں بلائے گا کہ اسے سات خون بھی معاف ہیں ۔اس نے کہا تھا کہ نواز شریف نے پانچ رکنی بنچ کو اربوں روپے کی رشوت کی پیشکش کی تھی جسے پانچوں ججوں نے دھتکار دیا۔ جج صاحبان اسے بلا کر پوچھتے کہ بھائی تمہیں کس نے بتایا کہ ہمیں ایسی کئی پیشکش ہوئی؟ ایسی پیشکشیں تو خفیہ طریقے سے کی جاتی ہیں پھر کس نے تمہیں یہ خبر دی؟ایسی کوئی بات ہوئی ہوتی تو ہم خود اسے بیان کرتے۔تم ہمارے ترجمان کب سے بن گئے؟

کچھ دن تک جب دانیال عزیزاور طلال چوہدری شکوہ کرتے تھے کہ ہم بولیںتو پکڑ اور وہ بولیں تو کھلی آزادی تومجھے ان کی بات کچھ زیادہ وزن دار نہیں لگتی تھی لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ ٹھیک ہی کہتے تھے۔صادقوں اور امینوں نے اندر کی کیا کیا خبریں دیں۔یہ تک بتاتے رہے کہ کیا فیصلہ آئے گا۔جے آئی ٹی کے اندر کا احوال بھی بتاتے رہے لیکن آج تک ان سے نہیں پوچھا گیا کہ تمہیں یہ خبریں دیتا کون ہے؟ اور شائد کبھی پوچھا بھی نہیں جائے گا کہ یہ سب تو صادق اور امین ہیں اور صادق بھلا کیوں جھوٹ بولے گا؟۔

متعلقہ خبریں