Daily Mashriq

بھارت کی جوہری ہوس

بھارت کی جوہری ہوس

جنوبی ایشیاء میں بھارت وہ ملک ہے جو خطے میں اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے ہمیشہ کوشش کرتا رہتا ہے اور خطے کے چھوٹے ممالک کے اندورنی معاملات میں دخل اندازی کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت اسلحے کی دوڑ میں بھی نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے اوپر برتری حاصل کرنے کے لئے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہتا ہے۔ اپنے ملک کی غربت کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت ہر سال اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ جدید اسلحے کی خریداری کے لئے مختص کرتا ہے ۔ اس حوالے سے نہ صرف روایتی اسلحہ خریدنے پر پیسہ خرچ کیا جاتا ہے بلکہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں آگے رہنے کی خواہش بھارت کوجوہری ہتھیاروں کے حصول پر رقم خرچ کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں اس وقت جو ہری اسلحے کی ایک سخت دوڑ جاری ہے جس کی وجہ بھارت کا خو د کو جوہری اسلحے کے معاملے میں پاکستان اور چین سے پیچھے سمجھنا ہے۔ لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت کے لئے جوہری اسلحے کا حصول صرف دشمنوں کو ڈرانے کا ذریعہ ہے یا بھارت کی جوہری اسلحے کی ہوس کی وجوہات کچھ اور ہیں ؟ پچھلی ایک دہائی میں بھارت کے جوہری اسلحے میں اضافے کے ساتھ ساتھ روایتی جنگ کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے خطے میں طاقت کا توازن خراب ہوا ہے جو کہ کسی بھی وقت ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔پچھلے دس سالوں میں بھارت کی طرف سے دفاع پر خرچ کی جانے والی خطیر رقم کا ایک بڑا حصہ جوہری ہتھیاروں کے حصول پر خرچ کیا گیا ہے ۔ یہاں پر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارت ایک امن پسند ملک ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے تو اتنی بڑی تعداد میں جوہری اسلحہ حاصل کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ ستمبر ، 2009ء میں فنانشل ٹائمز میں اس حوالے سے ایک آرٹیکل شائع ہوا جس کا عنوان تھا 'بھارت کے جوہری اسلحے کے ذخیرے میں اضافہ'۔ اس آرٹیکل میں یہ بتایا گیا تھا بھارت اپنی جوہری صلاحیت میں اس قدر اضافہ کر چکا ہے کہ وہ دنیا کے بڑے جوہری ممالک کی طرز پر خطرناک جوہری اسلحہ بناسکتا ہے ۔ اسی طرح حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اپنے جوہری اسلحے میں اضافے کے لئے دن رات کوشاں ہے اور دفاع کے لئے روایتی کی بجائے جوہری اسلحے کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس رپورٹ میں مستقبل قریب میں بھارت کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی خریداری کے لئے اخراجات میں اضافے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔ بریگیڈئیر ندیم سالک اپنی کتاب میں بھارت کے جوہری پروگرام کی شروعات کی وجوہات اور اس حوالے سے بھارت کی منافقانہ پالیسیوں کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس کتاب میں بریگیڈئیر ندیم سالک جنوبی ایشیاء میں جوہری اسلحے کی دوڑ اور اس کے خطے کے ممالک کے تعلقات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس کتاب کے مطابق بھارت کے سابق وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو اوربھارتی ایٹمی توانائی کے سرخیل ڈاکٹر ہومی بھابھا نے تقسیم ہند کے بعد سے ہی جوہری توانائی کی دوہری خصوصیات کا اندازہ لگالیا تھا اور جوہری توانائی کے استعمال کو بھارت کا مستقبل قرار دیا تھا۔ اس وقت بھارت کا جوہری پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور 90ء کی دہائی میں ایٹمی دھماکوں کے بعد سے اس کی رفتار میں مسلسل تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت تک بھارت 16 نیوکلئیر معاہدے کر چکا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی بھی جوہری عدم پھیلائو کے عالمی معاہدے نے ابھی تک بھارت پر اس حوالے سے کوئی قدغن نہیں لگائی۔ نان۔پرالیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی ) کا حصہ نہ بننے کے باوجود بھی بھارت آسٹریلیا سے یورنیم کے حصول کا معاہدہ کرنے میں کامیاب رہا جس کے بعد بھارت کے اندر بھی اس حوالے سے سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔ 2016ء تک بھارت دنیا کے مختلف ممالک سے 16 جوہری معاہدے کر چکا ہے لیکن کیا جوہری معاہدوں کی اتنی بڑی تعداد بھارت کو مطمئن کرپائے گی یا بھارت ابھی مزید جوہری طاقت کے حصول کے لئے کوشاں رہے گا ؟ ان حالات کے تناظر میں یہ بات کافی حیران کن ہے کہ بھارت نیوکلیئر سپلائی گروپ(این ایس جی) میں شامل ہونے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کُن امر یہ ہے کہ بھارت نیوکلئیرمعاہدوں کے باوجود بھی خود کو ایک عام جوہری ملک کے طو رپر پیش کرکے نیوکلیئر سپلائی گروپ(این ایس جی) میں شامل ہونا چاہتا ہے حالانکہ نان۔پرالیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی ) کا ممبر بنے بغیر نیوکلیئر سپلائی گروپ(این ایس جی) میں شمولیت ممکن نہیں۔ اگر بھارت نیوکلیئر سپلائی گروپ(این ایس جی) کے اراکین میں شامل ہوجاتا ہے تو پاکستا ن کو اپنی سیکورٹی کے لئے ایک جارحانہ پالیسی اپنانی پڑے گی۔ نیوکلیئر سپلائی گروپ(این ایس جی) کو چاہیے کہ وہ بھارت کی شمولیت کے لئے اپنی ممبرشپ کی شرائط میں نرمی نہ برتے ورنہ جنوبی ایشیاء میں ایک ایسی ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے جو خطے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ تیسری جنگِ عظیم کے اس خطرے سے نمٹنے کے لئے عالمی طاقتوں کو بھی بھارت کے ساتھ سخت رویہ اپنانا ہوگا ورنہ جوہری اسلحے کی بھارتی ہوس پوری دنیا کو تباہ کردے گی۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں