Daily Mashriq

تاریخ کا کوڑے دان

تاریخ کا کوڑے دان

شاعر ادیب معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو آپ کے سامنے ساری کہانی چند الفاظ میں بیان کردیتا ہے۔ ہم آج بھی خطوط غالب پڑھتے ہیں تو اس زمانے کی دہلی کا سارا نقشہ ہمارے سامنے آجاتا ہے انگریزوں کی مسلمانوں سے دشمنی، مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان موجود نفرت کی خلیج کو مزید گہرا کرنا اور اس طرح کی دوسری بہت سی باتیں!کہتے ہیں جو ماضی کا مطالعہ کرتا ہے وہ مستقبل کی پیشن گوئی کرسکتا ہے آج جس صورتحال سے وطن عزیز دوچار ہے اس نے ہر سوچنے والے انسان کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے سب جانتے ہیں سب کو معلوم ہے کہ اختلافات سے کبھی بھی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ ہمیشہ نقصان ہی اٹھانا پڑتا ہے آج وطن عزیز میں ایک جنگ کا سا سماں ہے سیاستدان اس بری طرح الجھے ہوئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جارہے ہیں لیکن کسی کو اپنے گریبان میں جھانکنے کا خیال تک نہیں آتا عوام کی پریشانی سب سے زیادہ ہے ہر محب وطن یہ سوچ رہا ہے کہ آپس کے اختلافات سے وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے کسی کا دھیان اس طرف نہیں جاتا کہ اب انتخابات کی آمد آمد ہے دو ہزار اٹھارہ الیکشن کا سال ہے پھر دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا لیکن اتنا صبر کو ن کرے؟ سب ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں سب کا مقصد اپنے اپنے حریف کو جلد از جلد چاروں شانے چت کرنا ہے ہر طرف سے اتنے مضبوط دلائل دیے جارہے ہیں کہ عام آدمی الجھ کر رہ گیا ہے۔ پوری قوم کی توجہ پانامہ کیس پر ہے رات دن نہ ختم ہونے والے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم کو رخصت کردیا گیا ہے اس رخصتی کے بعد شاطر اپنے اپنے مہروں کو نئی ترتیب سے رکھ رہے ہیں اب نئی چالیں سوچی جارہی ہیں وطن عزیز میں پچھلے ستر برس سے ہم یہی کچھ دیکھتے چلے آرہے ہیں آج تک کسی بھی وزیر اعظم نے پانچ سال پورے نہیں کیے سب کو وقت سے پہلے رخصت ہونا پڑتا ہے اگر سوچا جائے تو یہ ایک بہت بڑا سوال ہے پوری قوم کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے لیکن فی الحال تو قوم ایک ہیجان میں مبتلا ہے دراصل سچ میں جھوٹ کی آمیزش ہوجائے تو پھر سچ کا چہرہ مسخ ہوکر رہ جاتا ہے پورے سچ تک پہنچنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہوتا۔سب اپنی اپنی آراء کے حق میں دلائل دے رہے ہیں اور دلائل بھی اتنے زور آور کہ محبت اور نفرت کی تمام حدیں پھلانگی جا چکی ہیںایسی صورتحال ان لوگوں کے لیے بڑی پریشان کن ہوتی ہے جنہوں نے سیاست اور سیاست دانوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ان کی بس ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا وطن آباد رہے دشمنوں کے شر سے محفوظ رہے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے۔ اس قسم کی سیاسی رسہ کشی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بہت سے اہم قومی مسائل حل طلب ہی رہتے ہیں۔ ہماری معیشت شوگرکے مریض کی طرح روز بروز کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جارہی ہے شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل نے ہمارا سارا معاشرتی ڈھانچا ہلا کر رکھ دیا ہے یہ اور اس طرح کے بہت سے حل طلب مسائل صاحبان اختیار کی نظر کرم کے انتظار میں ہیں لیکن شطرنج کی بساط کو کچھ اس طرح ترتیب دیا جاچکا ہے کہ کھیل الجھتا ہی چلا جارہا ہے دو چار دن پہلے پشتو کے خوبصورت لب و لہجے کے شاعر شاہ سعود کی ایک خوبصورت نظم ''لکہ زانو الوتل غواڑمہ '' پڑھنے کا اتفاق ہوا پوری نظم پڑھتے جائیے تو محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے آج ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی بے چینی اور گھٹن کو کتنی شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے نظم کا عنوان ملاحظہ کیجیے :'' کونج کی طرح اڑنا چاہتا ہوں '' کونج ایک ایسا پرندہ ہے جس کی اڑان میں بڑی وسعت ہوتی ہے یہ ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پرواز کرتا چلا جاتا ہے اس پرواز میں ایک ترتیب ہوتی ہے آگے بڑھتے رہنے کی شدید لگن ہوتی ہے نئی اور بہتر دنیاکو تلاش کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ کونجیں مل کر ایک ڈار کی صورت پرواز کرتی ہیں۔ کونج کو اکیلی پرواز کا کبھی خیال تک بھی نہیں آتا : چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو! والی بات ہوتی ہے آج ہماری پوری قوم خیبر سے کراچی تک جس صورتحال سے دوچار ہے وہ واقعی الجھادینے والی ہے ایسے میں ایک شاعر کی یہ خواہش کتنی منطقی ہے کہ کسی کونج کی طرح نئی دنیائوں کی تلاش میں اڑتا چلا جائوں تاکہ یہ سارے پاگل کردینے والے مسائل بہت پیچھے رہ جائیں ۔شاعر کے تخیل کی پرواز اپنی جگہ لیکن ہم زمیں زادوں نے تو اسی زمین پر رہنا ہے خالق کائنات کے عطا کردہ زمین کے اس ٹکڑے کی نہ صرف نگہداشت کرنی ہے بلکہ ایک مخلص باغبان جیسی دلسوزی کے ساتھ اس کے قریے قریے کو پھولوں سے آبادکرنا ہے اس کی نوک پلک سنوارنی ہے اسے امن کا گہوارہ بنانا ہے اسے استحکام بخشنا ہے تاکہ اس کی طرف دشمن کو میلی نگاہ سے دیکھنے کا خیال بھی نہ آئے اور اگر ہم یہ سب کچھ نہ کرسکے۔ ذاتی مفادات میں الجھے رہے اپنی انا کے حصار میں قید رہے غیروں کی ڈگڈگی کی آواز پر بلا سوچے سمجھے ناچتے رہے تو پھر ہم بھی کچھ عرصے بعد تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ ہو ں گے ایک ایسا کوڑے دان جس میں سوائے بدبو اور تعفن کے کچھ بھی نہیں ہوتا اور اس کے قریب سے گزرنے والے ناک پر رومال رکھ کر تیزی سے گزر جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں