Daily Mashriq

سیاسی منظرنامہ

سیاسی منظرنامہ

پولیٹکس بالکل بھی ہمارا ''کپ آف ٹی ''نہیں ہے لیکن کیا کیا جائے کہ چائے پیناجب ناگزیر ہوتو کپ کوکبھی کبھی نہیں دیکھا جاتا ۔ ہم لوگ یوں بھی ان چیزوں کی پروا ہ نہیں کرتے کہ جب چائے کے خالی کپ میں سگریٹ کی راکھ پھینکی جاسکتی ہے اور سگریٹ کو بجھا کر اسی کپ میںمسلا جاسکتا ہے تو بعینہ کسی دن ایش ٹرے میں چائے بھی پینے کو مل سکتی ہے ۔پوراملک اور ملک کا ہر طبقہ ایک ہی ذہنی کیفیت سے آج کل گزر رہا ہے ۔پانامہ لیکس سے میاں صاحب کے معطلی تک کیا کیا تماشے نہ ہوئے ۔ اس فیصلے کے بعد یقینا ملکی سیاست کا دھارا بدلتا نظرآرہا ہے ۔مسلم لیگ نون کی اصل طاقت بلاشبہ میاں نوازشریف ہی تھے ۔اگرچہ میاں شہباز شریف بھی دشت سیاست کے دیرینہ مسافر ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک صوبائی سطح کی سیاست کی ہے۔میاں نوازشریف کی سیٹ پر جیت جانے کے بعد وہ نون لیگ کی بقیہ دور کی حکومت کے نئے وزیراعظم ہوں گے ۔ حکمران جماعت میں لیڈرشپ کی تبدیلی کے ہر دو قسم کے اثرات سامنے آسکتے ہیں ۔کیونکہ اب فیصلہ سازی کااختیار قدرتی طور پر میاں شہباز شریف کے پاس آجائے گا اور ان کا انداز ضرور بڑے میاں صاحب سے مختلف ہوگا۔اسی کے ساتھ بعض نئے چہروں کے سامنے آنے کے ساتھ کچھ اہم چہرے پس منظر میں بھی جاسکتے ہیں کیونکہ ہر لیڈر اپنی ٹیم لے کر چلتا ہے ۔ اگرچہ شیخ رشید نے اعلان کردیا ہے کہ وہ میاں شہباز شریف کے خلاف بھی عدالت جائیں گے لیکن یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ میاں شہباز شریف الیکشن 2018ء تک اپنی پارٹی کو سلامتی کے ساتھ لے جائیں گے۔شہبا زشریف اپویشن کے لیے ٹف وزیر اعظم ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت چلاانے کا ان کا وسیع تجربہ بھی ہے اورسیاست کے فصلی بٹیروں کے مشوروں سے زیادہ اپنے فیصلے کرنے کے عادی ہیں۔اگرمیاں شہبازشریف 2018کے الیکشن سے قبل موجودہ حکومت کے چند ایک بڑے منصوبوں کو مکمل کرگئے اور اپنی پارٹی کو سنبھال پائے تو اگلے الیکشن میں اس پارٹی کو کم از کم پنجاب میں ہرانامشکل ہوگا۔عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد یقینا خود عدالت کا کا م مزید بڑھ جائے گا۔اس سارے منظر نامے میں دیکھا جائے تو تما م سیاسی پارٹیوں کی نظر الیکشن 2018پر ہیں ۔ایک بڑے سیاسی برج کے گرنے کے بعد ساری پارٹیاں اگلی حکومت کا تاج اپنے سر پر دیکھنا چاہیں گی اور اس کے لیے ہر پارٹی نے حکمت عملی بھی بنالی ہوگی ۔نون لیگ کو سیاست میں ہرانے کے لیے دو بڑی پارٹیوں کا ذکر کیا جاسکتا ہے ۔ان میں ایک پیپلز پارٹی اور دوسری پی ٹی آئی ہے ۔پی ٹی آئی کی اٹھان اس وقت دیگر پارٹیو ں کی نسبت زیادہ دکھائی دے رہی ہے ۔پی ٹی آئی میاں صاحب کی نااہلی کا کریڈٹ بھی براہ راست لے رہی ہے اور اسے لینا بھی چاہیئے کہ وہ براہ راست اس مقابلے میں شروع سے آخر تک رہی ۔اس نااہلی کا فائدہ پاکستانی عوا م کو ہو یا نہ ہو لیکن پی ٹی آئی کو اس کا فائدہ ضرور ہوا ہے ۔یہ پارٹی اس وقت کسی بھی پارٹی کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے ۔جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو وہ اس وقت ایسی مخمصے کا شکار ہے کہ کھل کر کھیل نہیں سکتی ورنہ اس کے پاس اچھا خاصا موقع تھا کہ وہ پی ٹی آئی سے آگے جاکر پانامہ کیس میںپوائنٹ سکورنگ کرتی لیکن ڈاکٹر عاصم ،عیان علی اور دیگر کیسوں کی وجہ سے اپنا سیاسی ہیلمٹ نہیں اتار سکتی ۔اس پارٹی کی خاموشی ہی اس کے بڑے لیڈروں کی خیر تھی ۔اب لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے خلاف بھی ایکشن ہوگا۔وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ پی ٹی آئی ضرور چاہے گی کہ نون لیگ کے ویکیو م کو اس کے علاوہ کوئی دوسری پارٹی نہ بھرے اور یہ صلاحیت پی پی پی میں موجود ہے ۔پی ٹی آئی ضرور آنے والے دنوں میں پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کو عدالت سے نااہل کروانے کی کوشش کرے گی اورشاید کامیاب بھی ہوجائے کہ نون لیگ انہیں بچانے کی پوزیشن میں نہیں اور نہ ہی اداروں کے سربراہ کسی کو بچانے کا رسک لے سکتے ہیں نہ ہی نون لیگ کی کوئی ہمدردی پی پی پی کے ساتھ باقی رہی ہوگی ۔بلکہ وہ تو خود اپنی بقیہ حکومت اور اگلے الیکشن کا سوچ رہی ہوگی ۔گزشتہ رات عمران خان کے اسلام آباد کے جلسے سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ اس پاور پلے کو پاور ہٹنگ کے ساتھ کھیلنا چاہتی ہے ۔ان کی حکمت عملی ہوگی کہ وہ میاں شہباز شریف کو بھی ٹف ٹائم دے کر دباؤ میں رکھیں ۔ اور اگلے الیکشن میں اپنے اہداف حاصل کرلیں ۔پی ٹی آئی اس شکار کے بعد کسی کو حصہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں ۔اگرچہ جماعت اسلامی اس سارے عمل میں پی ٹی آئی کی شریک رہی لیکن وہ بھی اس کا کریڈٹ اس انداز میں حاصل نہ کرپائی ۔اگرچہ میاں نوا زشریف کی خالی کردہ سیٹ پر شہباز شریف جیت جائیں گے لیکن پی ٹی آئی یہاں بھی اپنا پورا زور لگائے گی کہ کوئی اپ سیٹ ہوجائے اور اگر اپ سیٹ ہوگیا تو نون لیگ یہ پی ایس ایل اسی وقت ہار جائے گی لیکن ایسا ہونا ناممکن نہیں تو آسان بھی نہیں لیکن نون لیگ کو پو رازور لگانا پڑے گا۔اب جومنظر نامہ بن رہا ہے وہ یہی ہے بعض پارٹیوں کو اپنے لیڈروں کی صداقت اور امانت کے بھانڈے کو پھوٹنے سے بچانے کے لیے احتیا ط سے قدم اٹھانے ہوں گے اور بعض پارٹیوں کو تیز گامی سے اپنی منزل تک پہنچنا ہوگا۔یہ بھی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ عدالت سے کچھ اور لوگوں کو بھی گھر بھیجنے کے فیصلے سامنے آجائیں ۔

متعلقہ خبریں