Daily Mashriq

اوروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت

اوروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت

کمیشن نے آل پارٹیز کانفرنس کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کے استعفے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے، ہارنے والے عوامی رائے کا احترام کریں، شکایات دور ہوں گی، کمیشن کے ارکان استعفے نہیں دینگے۔ تمام جماعتیں نتائج تسلیم کرکے آئینی اداروں پر بلاجواز تنقید سے گریز کریں‘ نتائج میں تاخیر پر صوبائی الیکشن کمشنرز، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران سے وضاحت طلب کر لی ہے، آر ٹی ایس کے حوالے سے تفصیلی تجزیہ اورمحاسبہ کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا کہ نتائج میں تاخیر پر صوبائی الیکشن کمشنرز، آر اوز اور پریذائیڈنگ آفیسرز سے وضاحت طلب کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے تمام جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ کیلئے متعدد اقدامات کئے، مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر نیب سے درخواست کی گئی کہ ان کے امیدوارو ں کو ہراساں نہ کیا جائے۔ کمیشن نے الیکشن کے تمام مراحل تک عوام تک فوری رسائی کو یقینی بنانے کیلئے متعدد اقدامات کئے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار 85 ہزار پولنگ اسٹیشنوں کا سروے کرایا گیا اور صوبائی حکومتوں کو سہولیات دینے کا کہا گیا، یہ پہلا الیکشن ہے جس میں خواتین کی بطور ووٹر اور امیدوار شرکت کو سب نے سراہا۔ الیکشن کمیشن کے معتمد کی حیثیت سے الیکشن کمیشن کے حوالے سے تحفظات کے اظہار اور تنقید پر وضاحت اور مدعا پیش کرنے کا تو سیکرٹری الیکشن کمیشن کو حق حاصل ہے لیکن ایک سرکاری ملازم سیاستدانوں کو مشورہ دینے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ الیکشن کمیشن کبھی بھی بااعتماد ادارہ نہیں رہا اور نہ ہی اس پر قوم نے کبھی اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے۔ سیاسی قیادت کی طرف سے اس کے باوجود الیکشن کمیشن کو خودمختار ارباب اختیار ادارہ بنانے کی مساعی کی گئی۔ اس وقت آئینی اور قانونی طور پر الیکشن کمیشن نہ صرف بااختیار اور مقتدر آئینی ادارہ ہے بلکہ اس کے چیئرمین کے عہدے پر فائز شخص کا ریکارڈ بھی معتبر رہا ہے۔ قبل ازیں بھی فخرالدین جی ابراہیم جیسے مقتدر اور معتبر شخص ساری زندگی کی نیک نامی پر سربراہ الیکشن کمیشن کی حیثیت سے داغ لگا کر اور اعتراف کر کے رخصت ہو چکے ہیں۔ معتبر سے معتبر شخص اس عہدے پر نیک نامی بچانے میں ناکام کیوں ہوتا ہے اس سوال پر غور ہونا چاہئے۔ الیکشن کمیشن قوم کے بیس ارب روپے سے الیکشن کروا کر دامن پر پہلے سے بڑا داغ کیوں لے بیٹھا ہے۔ یہ بے سبب نہیں اس بارے دو رائے نہیں کہ ہارنے والے سیاستدان دھاندلی کا شور مچانے کے عادی ہیں لیکن لوگوں کو ہرانے اور جتوانے کی کہانیاں بھی خلاف حقیقت نہیں۔ یہی شور مچانے والے سیاستدان جیتتے بھی اور ہارتے بھی رہے ہیں لیکن اس مرتبہ یہ اتفاق کیسے ہوگیا کہ ساری کی ساری قیادت باہر بٹھا دی گئی اسے بھی عوام کا فیصلہ تسلیم کیا جائے تو پھر حلقے کھولنے اور دوبارہ گنتی کے مراحل میں جو بدترین قسم کی بے ضابطگیاں اور اغلاط نامے سامنے آتے ہیں اگر الیکشن کمیشن اس بارے اپنی پوزیشن کی وضاحت کر سکے تو ہارنے والوں کی بڑی حد تک تشفی ہوجائے گی۔ الیکشن کمیشن کو آئینہ دکھانے کیلئے کیا یہ کافی نہیں کہ خود پاکستان الیکشن کمیشن نے کراچی میں کچرے کے ڈھیر سے بیلٹ پیپر ملنے کی اطلاعات کے بعد ریٹرننگ افسران سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور اب ریٹرننگ افسران کی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کی نوعیت طے کی جائے گی۔ کورنگی کے علاقے قیوم آباد سے سنیچر کی شب کچرے کے ڈھیر سے جلے ہوئے اور بعض ثابت بیلٹ پیپر ملے تھے جو قومی اسمبلی کے حلقے 241 سے تھے۔ صوبائی حلقے پی ایس96 سے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار وقار شاہ کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حلقے کے بھی بیلٹ پیپر جلنے والے بیلٹ پیپرز میں شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بیلٹ پیپر کی برآمدگی اور آگ لگنے کی اطلاع پر فوری جائے وقوعہ پر پہنچے اور ریٹرننگ افسر کے فوکل پرسن کو اس سے آگاہ کیا۔ فوکل پرسن نے تجویز دی کہ آپ اپنا وائس میسج بھیجیں میں ریٹرننگ افسر کو اطلاع دیتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ویڈیو بھیجیں وہ بھی بھیجی گئی لیکن آر او نے یہ زحمت نہیں کی کہ وہاں کا دورہ کرتے یا متعلقہ اداروں کو ہدایت دیتے۔ ریٹرننگ افسر کو تحریری درخواست دی گئی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر درخواست وصول کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ ان کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔ سیکورٹی انتظامات کے باوجود یہ بیلٹ پیپر کس طرح باہر گئے اور اس میں کون ملوث تھے، کیا یہ ان کی ذمہ داری نہیں تھی۔ شکایت کنندگان کے مطابق پی ایس97 اور این اے241 میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے، جس میں ریٹرننگ اور پریذائیڈنگ افسران ملوث ہیں۔ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالا گیا اور سادے کاغذ پر رزلٹ دئیے گئے اور جب ہم ان نتائج کا فارم45 سے موازنہ کرتے ہیں تو دونوں نتائج مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ یہ تو محض ایک ٹریلر تھا وگرنہ جو اعتراضات اور جن بدمعاملگیوں کا تذکرہ جاری ہے اس کا یہاں اعادہ مناسب نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نظام کی تبدیلی میں سب سے اہم جو کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی ہو سکتا ہے۔ یہ ادارہ درست کردار ادا کرنے لگے اور اپنی آئینی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے سے باز آجائے تو پاکستان کے جمہوری نظام کی ہیئت بدل جائے گی۔ جمہوریت کی خوبصورتی یا بدشکلی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کارکردگی کی مرہون منت ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن اگر سیاسی جماعتوں کے معاملات کی اصلاح پر اپنی توجہ مرکوز کرلے اور طے شدہ اصولوں وضابطۂ اخلاق کے تحت انتخابات کے صاف وشفاف انعقاد کی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دینے میں کامیاب ہو جائے تو جہاں پاکستانی جمہوریت کا حسین چہرہ دنیا کو دیکھنے کو ملے گا وہیں وطن عزیز کی تقدیر نام نہاد اشرافیہ کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے حقیقی نمائندوں کے ہاتھوں میں آجائے گی۔

اداریہ