Daily Mashriq


ٹارگٹ کلنگ کے تشویشناک واقعات

ٹارگٹ کلنگ کے تشویشناک واقعات

آپریشن ضرب عضب کے بعد سے اب تک شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک اٹھارہ کے قریب لوگ قتل ہوئے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کیخلاف یوتھ آف وزیرستان نے دو بار دھرنا بھی دیا تھا تاہم ابھی تک ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین واقعے میںدن دیہاڑے میرانشاہ کے علاقے تپی میں دو قبائلی عمائدین کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ دونوں قبائلی عمائدین کا شمار تپی گاؤں کے سرکردہ مشران میں ہوتا تھا۔دریں اثناء ڈیرہ کے علاقہ تحصیل پروا میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک اور واقعہ میں دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے، قاتل ارتکاب جرم کے بعد موقع واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ قبائلی علاقہ جات میں عمائدین کو ایک مرتبہ پھر نشانہ بنانے کے واقعات اس بناء پر زیادہ تشویشناک ہیں کہ جب بھی اس قسم کی پراسرار وارداتیں ہونے لگتی ہیں اس کے پس پردہ کوئی نہ کوئی مقصد پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس قسم کے حالات سے ہمارے قبائلی بھائیوں میں عدم تحفظ کی فضا کا احساس فطری امر ہے۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ علاقے میں فوج کی موجودگی اور سخت نگرانی کے عمل کے باوجود اس قسم کے عناصر نہ صرف آزادانہ واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بلکہ صاف بچ نکلتے ہیں اور پھر کبھی ہاتھ نہیں آتے جو ناقابل یقین ہے۔ اس صورتحال میں یہ علاقے کے عوام ہی پر منحصر ہے کہ وہ اس قسم کی صورتحال کا کیسے مقابلہ کرتے ہیں اور سیکورٹی حکام اس ضمن میں کیا تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ قبائلی اضلاع میں جلد سے جلد انتظامی امور کے سنبھالنے کیلئے ایک مربوط نظام کے فوری قیام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے تحفظ کیلئے فوج کیساتھ ساتھ سول ادارے بھی شامل ہوں اور علاقے کے امن اور عوام کو درپیش خطرات کا مل کر مقابلہ کیا جا سکے۔ جہاں تک ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعات کا تعلق ہے اس میں زیادہ تر فرقہ واریت کا عمل دخل ہوتا ہے اور پولیس اہلکاروں کو بھی اسی بناء پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام اور ایک مخصوص طبقے کیخلاف اس قسم کی مذموم کو ششوں کا مقصد سوائے فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے اور بھائی کو بھائی سے لڑانے کے علاوہ کچھ نہیں اسلئے اس قسم کے عناصر سے خاص طور پر ہوشیار رہا جائے۔

تعلیمی بورڈوں بارے سفارشات

نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سابق جسٹس دوست محمد خان نے صوبے کے ابتدائی وثانوی تعلیمی بورڈز میں اعلیٰ حکام کی بھرتیوں اور تقرریوں کیلئے کابینہ کے اجلاس میں رہنما اصولوں پر مبنی ایک متفقہ مسودہ قانون پاس کرنے اور اسے عمل درآمد کیلئے آئندہ حکومت کیلئے بطور سفارش چھوڑنے کاعمل اسلئے مثبت ہوگا کہ تعلیمی بورڈ کی تقرری کا اختیار گورنر سے لے کر وزیراعلیٰ کو دینے کے بعد سے تعلیمی بورڈز سیاسی تقرریاں کرنے کا بڑا ذریعہ بن گئے ہیں۔ ان منافع بخش اداروں میں تقرری بدعنوان عناصر کا خواب متصور ہوتا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت بورڈز حکام/ افسران کی تقرری کے اختیارات وزیراعلیٰ سے سرچ کمیٹی (جو تین وائس چانسلرز پر مشتمل ہوگی) کو منتقل کئے جائیں گے۔ نیا ایکٹ لانے کا مقصد بورڈز کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے آزاد کرانا ہے۔ امتحانی بورڈز کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے آزاد ہونا چاہئے۔ یہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق آنیوالی نسل کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے وزیراعلیٰ کی یہ ہدایت اصلاح احوال کیلئے مناسب ہوگی کہ محکمہ قانون کی مدد سے بورڈز میں اعلیٰ سطح کی بھرتیوں کیلئے نیا ڈرافٹ بنایا جائے گا جس کے مطابق کنٹرولر کیلئے، ایم ایس سی نومیریکل سائنسز میں اور ریسرچ افسر کیلئے پی ایچ ڈی پاس ہو۔ نگران دور میں اس قسم کی مشاورت اور اقدامات کی سفارش اگر ممکن ہے تو کیا امر مانع ہے کہ سیاسی ادوار میں اداروں کو ٹھیک کرنے میں دعوؤں کے باوجود ناکامی ہو اس کی سوائے اس کے کوئی وجہ ممکن نہیں کہ سیاسی حکومتیں اپنوں کو کھپانے اور فائدہ پہنچانے کی متلاشی ہوتی ہیں۔ تعلیمی بورڈز میں کروڑوں روپے کا فنڈز اکٹھا ہوتا ہے جو طالب علموں سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ آنے والی حکومت تعلیمی بورڈوں کے معاملات بارے نگران کابینہ کی سفارشات کو درخوراعتنا سمجھے گی اور امتحانی فیسوں میں کمی کرکے طلبہ کو ریلیف دے گی۔

متعلقہ خبریں