Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

خلیفہ ہشام بن عبدالملک ایک مرتبہ مدینہ منورہ پہنچا۔ اس نے مدینہ منورہ کے لوگوں سے کہا: ’’صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو میرے روبرو لاؤ‘‘۔

ان لوگوں نے کہا: ’’وہ تو سب حق تعالیٰ کو پیارے ہو چکے ہیں‘‘۔

یہ سن کر اس نے کہا: ’’تو پھر تابعین میں سے کسی کو لے آؤ‘‘۔اس پر وہ لوگ حضرت طاؤسؒ کو لے آئے، جب آپ اندر داخل ہوئے تو آپ نے جوتا اُتار دیا اور کہا: ’’السلام علیکم! اے ہشام! کہو کیسے آئے؟‘‘

ہشام کو اس طرح مخاطب کرنے پر بہت طیش آیا۔ اس نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ لوگوں نے کہا: ’’اے خلیفہ! یہ (مدینہ منورہ) حضور نبی کریمؐ کا حرم مبارک ہے اور حضرت طاؤسؒ بڑے علماء دین میں سے ہیں۔ آپ کو ایسا ارادہ نہیں کرنا چاہئے‘‘۔

اس پر خلیفہ نے حضرت طاؤسؒ سے پوچھا: ’’اے طاؤس! آخر تم نے اس قدر بے باکی اور دلیری سے کیوں کام لیا؟‘‘۔

حضرت طاؤسؒ نے کہا: ’’آخر میں نے کیا کیا ہے‘‘۔

اس پر خلیفہ کا غصہ اور بڑھ گیا۔ اس نے غضب ناک ہو کر کہا:

’’تم نے چار آداب چھوڑے ہیں اور اس پر کہتے ہو، میں نے کیا کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ تونے جوتا (مزے سے) میرے فرش کے قریب اُتار دیا، دوسرا یہ کہ تونے مجھے امیرالمومنین کہہ کر مخاطب نہیں کیا، تیسرا یہ کہ میرا نام لے کر بلایا، چوتھا یہ کہ تو میری اجازت کے بغیر بیٹھ گیا اور میرے ہاتھ کو بوسہ نہیں دیا‘‘۔

حضرت طاؤسؒ نے کہا: ’’بس اتنی سی بات! تو سنو! میں نے تمہارے سامنے جوتا اُتار دیا تو کیا غضب ہوگیا جبکہ حق تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوتے وقت دن میں پانچ مرتبہ جوتا اُتارتا ہوں اور میرا رب اس پر خفا نہیں ہوتا اور تجھے امیرالمومنین کے خطاب سے مخاطب نہیں کیا تو اس لئے کہ سب کے سب لوگ تیری خلافت پر راضی کب ہیں۔ اس لئے میں خدا سے ڈرا کہ جھوٹ کہوں تو کیسے؟ پھر میں نے تجھے نام سے بلایا اور کنیت استعمال نہ کی تو (اس میں تو تجھے خوش ہونا چاہئے نہ کہ ناراض) اس لئے کہ حق تعالیٰ نے اپنے دوستوں کا جہاں بھی ذکر کیا ہے، ان کا نام لے کر کیا ہے اور پکارا بھی ہے تو ان کا نام لے کر ہی پکارا ہے، مثلاً یا داؤد، یا یحییٰ، یا عیسیٰ اور یہ بات کہ میں نے تمہارے ہاتھوں کو کیوں نہ چوما، تو اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے حضرت علیؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کے ہاتھ چومنا جائز نہیں (تکبرکے خطرے کے پیش نظر)، ہاں بیوی کے ہاتھ کو چوم سکتے ہیں یا پھر اپنی اولاد کے ہاتھ کو محبت کی وجہ سے اور رہی یہ بات کہ میں تیرے سامنے بیٹھ گیا ہوں تو اس سلسلے میں بھی حضرت علیؓ کا قول مجھے یاد ہے کہ اگر تم اہل دوزخ میں سے کسی کو (اس دنیا میں) دیکھنا چاہتے ہو تو ایسے شخص کو دیکھ لو جو خود تو بیٹھا ہوا ہو اور لوگ اس کے سامنے کھڑے ہوں ‘‘۔ہشام کو یہ سب باتیں پسند آئیں، اس کی ناراضی دور ہوگئی۔

(اسلاف کے واقعات)

متعلقہ خبریں