Daily Mashriq


میاں نواز شریف کی صحت

میاں نواز شریف کی صحت

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو منگل کی شب بحفاظت تمام اسلام آباد کے پمز ہسپتال سے اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا جہاں اگر حالات میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو وہ قید کی سزا کے باقی دن گزاریں گے۔ لیکن ان کی عمر ساٹھ پینسٹھ سے اوپر ہے ۔ ان کی اوپن ہارٹ سرجری ہو چکی ہے ۔ ان دنوں میں آنے والی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلسل ایک معالج کے زیرِ نگرانی رہتے ہیں ۔یوں بھی وہ دولت مند آدمی ہیں ان کی رہائش رائے ونڈ میں دستیاب آسائشوں کے بارے میں بہت کچھ شائع ہو چکا ہے ۔ وہ تین بار ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں یعنی ان کی رہائش ‘خوراک ‘ علاج ریاست پاکستان کی ذمہ داری رہی ہے۔ اگر ایسے شخص کو جیل کی آب و ہوا راس نہ آئی تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ خبریں ہیں کہ جیل میں پہلی رات انہیں چارپائی بھی فراہم نہیں کی گئی حالانکہ وہ کم از کم بی کلاس کے قیدی ہیں جنہیں جیل مینوئل کے مطابق بھی بہت سی سہولتیں ملنا لازمی ہے۔ ان کے کمرے میں ایئر کنڈیشنر کی بجائے روم کولر لگایا گیا جو برسات کے موسم میں نم ہوا فراہم کرتا ہو گا۔ ایسی خبریں بھی آئیں کہ وہ مچھروں کی وجہ سے بھی پریشان رہتے ہیں یعنی ٹھیک سے سو نہ سکے ہوں گے۔ انہیں کھانا گھر سے منگوانے کی سہولت دی گئی تھی لیکن خبریں ہیں کہ غسل خانہ نہایت گندا تھا۔ میاں صاحب پر یہ ماحول شاق گزرا ہو گا اوپر سے عام انتخابات کے نتائج ان کی توقعات کے مطابق نہ نکلے۔ انہوں نے تو کہا تھا کہ شیر پر دبا کے مہر لگاؤ ‘ ان کے جانشین صدر مسلم لیگ شہباز شریف نے کہا تھا کہ انتخابات میں عوام کے ووٹ کا فیصلہ تمام فیصلوں کو بہا لے جائے گا۔ ن لیگ کی تمام انتخابی مہم کا مرکزی مقصد یہ نظر آتا تھا کہ ن لیگ کو اتنی اکثریت مل جائے گی کہ وہ آئین اور قانون میں ایسی ترمیمیں کر سکے جن سے عدالتوں کے فیصلے بدل سکیں۔ لیکن ن لیگ کو قومی اسمبلی میں وہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ انتخابات میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا‘ ٹرن آؤن 2013ء کے انتخابات کے بہت قریب ہی رہا۔ ن لیگ کو چیلنج کرنے والی تحریک انصاف کو ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ 56ہزار نو سو ووٹ پڑا ہے جب کہ ن لیگ کو ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ 96ہزار 356ووٹ ملے۔ 2013ء کے عام انتخابات کی نسبت تحریک انصاف کو بھاری اکثریت نے ووٹ دیا۔ حالانکہ گزشتہ پانچ سال کے دور حکمرانی میں ن لیگ کے دعوؤں کے مطابق بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کی گئی ‘ دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا ۔ موٹر ویز بنائی گئیں ۔ تحریک انصاف کے دیانتدارانہ حکمرانی اور خوشحالی کے وعدے کو ووٹ دیا ۔ میاں نواز شریف کے لیے الیکشن کے یہ نتائج نہایت ناپسندیدہ رہے ہوں گے حالانکہ ان کے بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر پاکستان آنے کے فیصلے کے بارے میں مبصرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ یہ قربانی انہوں نے ن لیگ کی انتخابی مہم کو تقویت دینے کے لیے دی تھی۔ اور بعض کا خیال ہے کہ میاں صاحب کے اس فیصلہ نے ن لیگ کو انتخابات میں فائدہ پہنچایا ورنہ ان مبصرین کے مطابق ن لیگ میاں صاحب کو سزا سنائے جانے کے بعد کم حوصلہ ہو چکی تھی۔اس توقع کے برعکس کہ انتخابات میں عوامی عدالت ایسا فیصلہ دے گی جو ’’تمام فیصلوں کو بہا لے جائے گا‘‘ انتخابات کے نتائج میںن لیگ کے کُل ووٹ پی ٹی آئی کے کل ووٹوں سے کم نکلے۔ اس قربانی کے باوجود جو انہوں نے پاکستان میں گرفتار ہو کر جیل جانے کا فیصلہ کر کے دی تھی ن لیگ کو توقع کے مطابق کامیابی نہ ملی۔ یہ دو باتیں ان کی توقعات کے برعکس سامنے آئیں اور پھرمیاں صاحب ساری زندگی دولت مندی کے پرآسائش ماحول میں رہے ‘ ا ن کے لیے جیل کا ماحول اور گندا غسل خانہ ذہنی اذیت کا باعث رہا ہو گا اور پھر ان کی صحت کی حالت بھی ان کی اوپن ہارٹ سرجری اور ان کی عمر کے باعث ایسی نہیں ہو گی کہ وہ جیل کی پر صعوبت زندگی کے ساتھ آسانی کے ساتھ سمجھوتا کر سکتے۔ وہ بیمار ہو گئے۔ میڈیا میں خبریں آنے لگیں کہ میاں صاحب کی صحت جیل میں ناساز ہے۔ یہ خبریں جیل کے کسی ڈاکٹر کے حوالے کی بجائے خبر نگاروں نے محض ’’ذرائع‘‘ کے حوالے سے دیں۔ یہ خبریں پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں کے معائنہ کے حوالے سے آئیں جو ان کے علاج کے لیے جیل گیا تھا۔ اس دوران یہ خبریں بھی آئیں کہ وہ جیل سے ہسپتال منتقل ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس انکار کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جیل میں ان کے ساتھ جو برا سلوک کیا جا رہا ہے وہ اسے مردانہ وار برداشت کر کے دکھا رہے تھے۔ لیکن ان کے ذاتی معالج کے ڈاکٹروں کی ٹیم میں شامل ہونے کے بعد انہیں ہسپتال میں لایا گیا ۔ جہاں وہ خدا کا شکر ہے کہ دو ہی دن میں اس قدر صحت یاب ہو گئے کہ انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔لیکن ہسپتال میں مختصر قیام نے بہت کام کیا۔ اس میں صرف دو باتیں ایسی تھیں جو جیل میں نہیں تھیں۔ ایک شہباز شریف سے مختصر ملاقات اور دوسرے جیل کے ماحول کی بجائے ہسپتال کا صاف ستھرا ماحول ۔ ممکن ہے کہ معالجوں نے کچھ دوائیوں اور نگہداشت میں بھی ردوبدل کیا ہو ۔ تاہم پمز ہسپتال کو داد دینی چاہیے جہاں مختصر قیام کے دوران میاں صاحب کے خون میںکلاٹ بھی رفع ہو گئے ‘ شوگر لیول اور بلڈ پریشر بھی معمول پر آ گیا۔ اور ای سی جی بھی ٹھیک آ گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ ہسپتال میں ان کے جو ٹیسٹ کیے گئے وہ نارمل نکلے۔ تو پھر جیل میں جو ٹیسٹ کیے گئے ان سے ایسی تشویش ناک صورت حال کیوں ظاہر ہوئی؟ ہمارے صحافی طبی معاملات سے کچھ زیادہ آشنا نہیں ہوتے تاہم پمز کے بااختیار لوگوں کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ جیل کے اندرکیے جانے والے ٹیسٹوں اور ہسپتال میں کیے جانے والے ٹیسٹوں کے نتائج میں فرق کی وضاحت کریں۔ میاں صاحب عام قیدی نہیںہیں ‘ ان کی صحت کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ اور عدالت کو چاہیے کہ وہ ان کی باقاعدہ نگہداشت کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دے اور ممکنہ ہنگامی صورت حال کے لیے بھی بندوبست کرے۔

متعلقہ خبریں